Pages

Tuesday, August 2, 2022

Parah-30

 تیسواں پارہ

تیسویں پارے کا آغاز سورۃ نباء سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہوگی  اس کی آمد سے قبل بہت سے لوگوں کو اس کے ہونے کے بارے میں شبہات تھے۔ اس سورت میں اللہ پاک نے جہنمیوں کی سزا کا ذکر کیا کہ وہ کس طرح صد ہا ہزار سال جہنم میں پڑے رہیں گے۔ تقویٰ والوں کے لیے اس دن بڑی کامیابی ہوگی اور ان کو باغ اور انگور، اٹھتی جوانیوں والی ہم سِنیں اور چھلکتے جام دیے جائیں گے اور اس دن وہ کوئی بیہودہ بات اور بہتان نہ سنیں گے۔ اس دن وہی بول سکے گا جسے رحمٰن اجازت دے گا۔ اس دن منکرِ حق پکار اٹھے گا کہ اے کاش میں نابود ہوتا یعنی مٹی ہوتا۔

Parah-29

انتیسواں پارہ

انتیسویں پارے کا آغاز سورۃ ملک سے ہوتا ہے جس میں اللہ پاک نے اپنی ذات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ارشاد ہے کہ زندگی اور موت کو اس لیے بنایا گیا تاکہ زبردست بخشنے والا خدا یہ جان لے کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اپنی قوت تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے تلے اوپر سات آسمان بنائے اور اس کاریگری سے بنائے کہ ان کی تخلیق میں کوئی نقص نظر نہیں آتا، اور اے دیکھنے والے تو بار بار اپنی نگاہ کو دوڑا کر دیکھ تب بھی ہر بار تیری نگاہ نقص ڈھونڈنے میں ناکام ہوکر تھک جائے گی۔ ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے مزین کیا اور ان کو شیطانوں کو رجم کرنے کا آلہ بنایا۔ جب جہنمی جہنم میں ڈالے جائیں گے تو ان کا چیخنا چلانا سن کر دروغے پوچھیں گے کہ کیا تمھارے پاس کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تھا؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا تھا۔ اگر ہم سنتے اور سمجھتے تو دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔ جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور اجرِ عظیم ہے۔ تم بات کو پوشیدہ کہو یا ظاہر، اللہ دل کے بھیدوں سے واقف ہے۔ بھلا جس نے پیدا کیا وہ بے خبر ہے؟ 

Parah-28

 اٹھائیسواں پارہ

اٹھائیسویں پارے کا آغاز سورۃ مجادلہ سے ہوتا ہے۔ اِس سورت کی ہر آیت میں اللہ کا لفظ آتا ہے۔ سورۃ مجادلہ کے شروع میں ایک صحابیہ کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے جن کے شوہر نے خفگی میں ان سے کہہ دیا تھا کہ تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح ہو یعنی آج سے تم میری ماں ہو۔ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے رسول اللہ کے پاس تشریف لائیں تو آپ نے بھی انھیں رخصت دینے سے انکار فرما دیا۔ اس پر انھوں نے اللہ سے دعا مانگی۔ اللہ نے ان کی فریاد سن لی اور رسول اللہ پر وحی فرمائی کہ اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے۔ اللہ آپ دونوں کا مکالمہ سن رہا تھا۔ بے شک اللہ خوب سننے اور بڑا دیکھنے والا ہے۔ اس کے بعد اللہ نے ظہار کے کفارے کے لیے حکم نازل فرمایا کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرلیں اور پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو انھیں یا تو ایک غلام آزاد کرنا ہوگا یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ہوں گے اور ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا۔ 

Parah-27

 ستائیسواں پارہ

ستائیسویں پارے کا آغاز سورت الذاریات کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے. پارے کے شروع میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے فرشتوں کا تذکرہ ہے جو قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کی غرض سے آئے تھے. اس کے علاوہ فرعون، قومِ عاد، قومِ ثمود اور قومِ نوح کا انجام ذکر کرکے مسلمانوں کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ نیز اللہ پاک نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اپنی عبادت اور بندگی بتایا ہے۔ ارشاد ہوا کہ نہ تو مجھے ان لوگوں سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھانا مانگا ہے اور دنیا جہان کی کل مخلوقات کے رزق کی کفیل ایک اللہ کی ذات ہے. 

Parah-26

چھبیسواں پارہ

چھبیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحقاف سے ہوتا ہے جس میں ارشاد ہے کہ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جو شرک کرتے ہیں ان سے کہیے کہ اگر وہ سچے ہیں تو کوئی سابقہ کتاب یا علم کا ٹکڑا اپنے موقف کی دلیل کے طور پر لے کر آئیں. مزید ارشاد ہوا کہ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ کے علاوہ کسی اور کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں۔ مزید ارشاد ہوا کہ بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر استقامت دکھائی تو نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ غم، اور یہ لوگ جنتی ہیں جو ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ان کو ان کے کیے

Saturday, May 16, 2020

Parah-25

پچیسواں پارہ

پچیسویں پارے کا آغاز سورت حٰم سجدہ کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر اگنے والے پھل کا علم اسی کے پاس ہے اور ہر عورت کے حمل اور اس کے بچے کی پیدائش کا علم اللہ کے پاس ہے۔ اللہ مشرکین سے کہے گا کہاں ہیں وہ شریک جنھیں تم پکارا کرتے تھے. تب مشرکین کہیں گے آج ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو آپ کے علاوہ کسی کو پکارتا ہو. اللہ چونکہ خود موجد ہے اس لیے اس سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اللہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ انسان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائے گا اور ان کے اپنے نفوس میں بھی، یہاں تک کہ انسانوں کو یقین ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے۔

Parah-24

چوبیسواں پارہ

چوبیسویں پارے کا آغاز سورۃ زمر کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچی بات اس تک پہنچ گئی تو اسے جھٹلا دیا۔ جھوٹ باندھنے والے لوگوں میں وہ تمام گروہ شامل ہیں جنھوں نے اللہ کی ذات کے ساتھ شرک کیا۔ کفارِ مکہ نے بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ اسی طرح عیسائیوں نے سیدنا مسیح کو جب کہ یہودیوں نے سیدنا عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دیا۔ یہ تمام کے تمام گروہ اس بات سے غافل ہیں کہ اللہ نے جہنم کو کافروں کے لیے طے فرما دیا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ سچائی کی دعوت لے کر آئے اور جنھوں نے آپ کی تصدیق کی وہ اہلِ تقویٰ ہیں اور ان کے لیے پروردگارِ عالم کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو وہ چاہیں گے. رسول اللہ ﷺ اس پر رنجور ہوجاتے تھے کہ کافروں کو صراطِ مستقیم کی دعوت دینے پر وہ آپ کی حق پر مبنی بات کو ٹھکرا دیتے ہیں، اس پر ارشاد ہوا کہ جو ہدایت کو قبول کرے گا وہ اپنے فائدے کے لیے کرے گا اور جو گمراہ ہوگا اس کا نقصان اسی کی ذات کو ہوگا۔