تیسواں پارہ
تیسویں پارے کا آغاز سورۃ نباء سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہوگی اس کی آمد سے قبل بہت سے لوگوں کو اس کے ہونے کے بارے میں شبہات تھے۔ اس سورت میں اللہ پاک نے جہنمیوں کی سزا کا ذکر کیا کہ وہ کس طرح صد ہا ہزار سال جہنم میں پڑے رہیں گے۔ تقویٰ والوں کے لیے اس دن بڑی کامیابی ہوگی اور ان کو باغ اور انگور، اٹھتی جوانیوں والی ہم سِنیں اور چھلکتے جام دیے جائیں گے اور اس دن وہ کوئی بیہودہ بات اور بہتان نہ سنیں گے۔ اس دن وہی بول سکے گا جسے رحمٰن اجازت دے گا۔ اس دن منکرِ حق پکار اٹھے گا کہ اے کاش میں نابود ہوتا یعنی مٹی ہوتا۔