Pages

Saturday, May 16, 2020

Parah-25

پچیسواں پارہ

پچیسویں پارے کا آغاز سورت حٰم سجدہ کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر اگنے والے پھل کا علم اسی کے پاس ہے اور ہر عورت کے حمل اور اس کے بچے کی پیدائش کا علم اللہ کے پاس ہے۔ اللہ مشرکین سے کہے گا کہاں ہیں وہ شریک جنھیں تم پکارا کرتے تھے. تب مشرکین کہیں گے آج ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو آپ کے علاوہ کسی کو پکارتا ہو. اللہ چونکہ خود موجد ہے اس لیے اس سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اللہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ انسان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائے گا اور ان کے اپنے نفوس میں بھی، یہاں تک کہ انسانوں کو یقین ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے۔

Parah-24

چوبیسواں پارہ

چوبیسویں پارے کا آغاز سورۃ زمر کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچی بات اس تک پہنچ گئی تو اسے جھٹلا دیا۔ جھوٹ باندھنے والے لوگوں میں وہ تمام گروہ شامل ہیں جنھوں نے اللہ کی ذات کے ساتھ شرک کیا۔ کفارِ مکہ نے بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ اسی طرح عیسائیوں نے سیدنا مسیح کو جب کہ یہودیوں نے سیدنا عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دیا۔ یہ تمام کے تمام گروہ اس بات سے غافل ہیں کہ اللہ نے جہنم کو کافروں کے لیے طے فرما دیا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ سچائی کی دعوت لے کر آئے اور جنھوں نے آپ کی تصدیق کی وہ اہلِ تقویٰ ہیں اور ان کے لیے پروردگارِ عالم کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو وہ چاہیں گے. رسول اللہ ﷺ اس پر رنجور ہوجاتے تھے کہ کافروں کو صراطِ مستقیم کی دعوت دینے پر وہ آپ کی حق پر مبنی بات کو ٹھکرا دیتے ہیں، اس پر ارشاد ہوا کہ جو ہدایت کو قبول کرے گا وہ اپنے فائدے کے لیے کرے گا اور جو گمراہ ہوگا اس کا نقصان اسی کی ذات کو ہوگا۔

Parah-23

تئیسواں پارہ

تئیسویں پارے کا آغاز سورت یٰس کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ پچھلی آیات میں انبیا علیہم السلام کی تائید کرنے والے ایک مومن کا ذکر تھا، اس پارے میں اس مردِ مومن کی تبلیغ کا ذکر ہے کہ اس نے بستی کے لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں اللہ کی پوجا کیوں نہ کروں کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف مجھ کو پلٹ کر جانا ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر اگر میں کوئی اور معبود پکڑ لوں تو مجھے اس معبود کا کیا فائدہ کہ اللہ اگر مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو دوسرے معبود میرا کچھ بھی بھلا نہیں کر سکتے۔ بستی والوں نے اس کی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اس کو قتل کر دیا۔ خدا نے اس کو جنت میں داخل کر دیا اور خدا کی رحمتیں بستی والوں سے روٹھ گئیں۔ اس آدمی کو اللہ نے بخش دیا اور جنت میں داخل فرمایا. جب اس نے جنت کی نعمتیں اور آسائشیں دیکھیں تو کہنے لگا کاش میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ نے میرے ساتھ کیا معاملہ کیا تو وہ بھی ہدایت پالیں. یہ آدمی دنیا میں بھی قوم کا خیر خواہ تھا اور جنت میں بھی اسے اپنی قوم کی فکر تھی.

Parah-22

بائیسویں پارے کا آغاز سورہ احزاب کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اس کے آغاز میں اللہ نے امہات المومنین سے مخاطب ہوکر فرمایا ہے کہ جو کوئی بھی امہات المومنین میں سے اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنے آپ کو وقف کرے گی اور نیک اعمال کرے گی، اللہ اس کو دو گنا اجر عطا فرمائے گا اور اس کے لیے پاک رزق تیار کیا گیا ہے۔ امہات المومنین کو اس امر کی بھی تلقین کی گئی ہے کہ جب وہ کسی سے بات کریں تو نرم آواز سے بات نہ کیا کریں تاکہ جس کے دل میں مرض ہے وہ ان کی آواز سن کر طمع نہ رکھے اور معروف طریقے سے بات کریں۔ نیز امہات المومنین اپنے گھروں میں مقیم رہیں اور جاہلیت کی بے پردگی اور بناؤ سنگھار نہ کریں، اور نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں۔ بے شک اللہ چاہتا ہے کہ نبی کے گھر والوں سے ناپاکی کو دور کر دیا جائے اور ان کو پاک صاف کر دیا جائے۔

اس کے بعد معاشرے کے مثالی مسلمان کی دس صفات ذکر فرمائی گئیں: اسلام، ایمان، دائمی اطاعت، صدق، صبر، خشوع، صدقہ، روزے، شرمگاہ کی حفاظت اور اللہ کے ذکر کی کثرت.

اس کے بعد اللہ نے حضرت محمد علیہ السلام کے منہ بولے بیٹے زید کی بیوی کو طلاق کے بعد ام المومنین کا درجہ دے کر اس اصول کو واضح کیا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا اور اسلام لے پالک کے نام پر معاشرے میں پہچان کی گمشدگی (Theft of Lineage Identity) کی سختی سے نفی کرتا ہے۔ اس کے بعد حضرت محمد علیہ السلام کے خاتم النبیین ہونے کا تفصیلی اور بے غبار بیان ہے اور آپ کو ہدایت کے چمکتے سورج سے تشبیہہ دی گئی ہے۔

اللہ تعالی نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کریں اور صبح شام اللہ کی حمد میں مشغول رہا کریں۔ نیز تین معاشرتی آداب کو ذکر کیا: کسی کے گھر بغیر اجازت داخل نہ ہوں، ضیافت سے فارغ ہوکر جلد رخصت ہوں تاکہ مہمانوں کے بیٹھنے سے اہل خانہ کو تکلیف نہ ہو، اور غیر محرم خواتین سے اگر کچھ مانگنا ہو تو پردہ کے پیچھے سے مانگیں.

ایمان والوں کو خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور ملائکہ نبی پاک پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی اپنے نبی پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ نیز اللہ نے نبی کریم کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں کو کہہ دیں کہ وہ جلباب اوڑھا کریں تاکہ پہچان لی جائیں اور کوئی ان کو تنگ نہ کرے۔

اس سورت کے آخر میں ارشاد ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو جہنمیوں کو اوندھے منہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔ جہنمی کہیں گے کہ اے کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانی ہوتی، اور کہیں گے کہ ہم نے اپنے بڑوں اور سرداروں کی بات مانی پس انھوں نے ہمیں گمراہ کر دیا، اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت برسا۔ نیز اہلِ ایمان کو نصیحت کی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے ان لوگوں کی کہی ہوئی بات سے ان کی براءت ظاہر کر دی حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بڑی وجاہت والے تھے۔ اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نبی کی تکریم کریں۔

اس سورت میں سچی بات کہنے کے فوائد بھی بتائے گئے ہیں کہ اگر سیدھی بات کی جائے تو معاملات سنور جاتے ہیں اور اللہ حق گو شخص کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔

سورۃ الاحزاب کے بعد سورۃ سبا ہے۔ اس میں اللہ فرماتا ہے کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کے لیے آسمان و زمین میں موجود سب کچھ ہے اور اس کی حمد آخرت میں ہے اور وہ باخبر حکمت والا ہے۔ وہ جانتا ہے جو زمین میں جاتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا اور اس کی طرف چڑھتا ہے اور وہ رحمت کرنے اور بخشنے والا ہے. اس سورت میں اللہ نے صابر و شاکر حکمران اور نافرمان اور ظالم حکمران کا موازنہ کیا ہے. جنابِ داؤد اور سلیمان پر اللہ نے بے شمار انعامات کیے. جنابِ داؤد کے لیے پہاڑ اور پرندوں کو مسخر فرما دیا گیا اور لوہے کو ان کے ہاتھوں میں نرم کر دیا گیا تھا، اور جنابِ سلیمان کے لیے ہواؤں مسخر فرما دیا تھا اور جنات کو ان کے احکامات کے تابع کر دیا تھا۔ اس قدر انعامات کے باوجود یہ دونوں انبیا صبر بھی کرتے تھے اور شکر بھی بجا لاتے تھے.

اس کے بالمقابل اللہ نے سبا کی بستی کا ذکر کیا ہے کہ یقینًا سبا والوں کے لیے ان کے مقامِ رہائش میں نشانی تھی کہ ان کے دائیں اور بائیں دو باغ تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو کہ پاکیزہ شہر ہے، لیکن انھوں نے روگردانی کی تو اللہ نے ان پر ایک سخت امڈتا ہوا سیلاب بھیج دیا اور ان کے دونوں باغوں کو بدمزہ پھل، جھاؤ اور کچھ بیری والے باغوں میں بدل دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو یہ بدلہ ان کے کفر کی وجہ سے دیا تھا اور ہم صرف ناشکروں کو ایسا بدلہ دیتے ہیں۔

اس سورت میں یہ بھی ارشاد ہے کہ اللہ نے نبی کریم کو جمیعِ انسانیت کے لیے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا مگر لوگوں کی اکثریت اس بات کو نہیں جانتی۔ آگے چل کر اللہ نے ثروت و غنا کو سرکشی کے اسباب میں سے ایک ممکنہ سبب بتایا۔ مشرکین کو جب عذاب کی وعید سنائی جاتی تو کہتے ہمارے پاس تم سے زیادہ مال ہے اس لیے ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ روزی میں تنگی فراخی کرنے والا ایک اکیلا اللہ ہی تو ہے۔

سورۃ سبا کے بعد سورۃ فاطر ہے۔ اس میں ارشاد ہے کہ تمام تعریفیں زمین اور آسمان بنانے والے اللہ کے لیے ہیں۔ اس نے فرشتوں میں سے بھی رسول چنے ہیں۔ بعض فرشتے دو پروں والے بعض تین اور بعض چار پروں والے ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں جس طرح چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان نشانیوں کو وہی لوگ سمجھتے جو اہلِ علم ہیں۔ اللہ نے ان گمراہ لوگوں کا ذکر کیا ہے جن کو ان کے غلط اعمال بھی اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ دنیا میں جتنی عورتیں حاملہ ہوتی اور جتنی بچوں کو جنتی ہیں اور جو کوئی بھی بوڑھا ہوتا ہے اور جس کی عمر کم ہوتی ہے، اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔ مزید ارشاد ہوتا ہے کہ اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دھوپ اور چھاؤں برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی زندہ اور مردہ برابر ہو سکتے ہیں۔ جو شخص ہدایت کے راستے پر ہو وہ راہ گم کردگان کے برابر نہیں ہوتا۔

اللہ نے مسلمانوں کے تین طبقات کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے وہ جو طالب ہیں یعنی جن کے گناہ زیادہ اور نیکیاں کم ہیں۔ دوسرے وہ جو درمیانے ہیں، کبھی گناہ زیادہ کبھی نیکیاں۔ تیسرے وہ لوگ جو نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں۔ ان سب کی اللہ معذرت فرمائیں گے اور جنت ان کا ابدی ٹھکانہ ہوگی۔ اس کے بعد فرمایا کہ وہ لوگ جو ہماری آیات کو تکبر کی وجہ سے نہیں مانتے کیا انھوں پہلے تکبر کرنے والوں اور مکر کرنے والوں کا انجام نہیں دیکھا؟ اللہ کا طریقہ نہیں بدلے گا اور جیسا پہلوں کا انجام ہوا ان کا بھی ویسا ہی ہوگا۔ لیکن اللہ ایک وقت تک مہلت دیتا ہے کیونکہ اگر انسانوں کو گناہوں پر فوری پکڑ شروع کر دیں تو زمین پر جانور ہی بچ پائیں گے۔

"اللہ کا طریقہ نہیں بدلے گا” سے بسا اوقات یہ عمومی کلیہ اخذ کر لیا جاتا ہے کہ خدا اپنے اصولوں کا خود بھی ویسا ہی پابند اور بے بس و مجبور ہے جیسے کہ ہم انسان مجبور ہیں۔ غور سے سمجھنے کی بات ہے کہ خدا نے یہ بات اس عمومی مفہوم میں بیان ہی نہیں فرمائی۔ اس آیت سے پہلے اور بعد میں دیکھ لیجیے کہ اس میں اللہ پاک اپنے اختیارات یا قدرت کو بیان نہیں کر رہا بلکہ عذاب و عقاب میں اپنی سنت بیان فرما رہا ہے، کہ جب بھی قوموں نے ہمارے رسولوں کی بات کو جھٹلایا تو ہمارے عذاب کا کوڑا ان پر برسا اور ان کو نسیًا منسیًا کرکے رسولوں کو بچا لیا گیا۔ یہی بات مکے والوں سے بھی سورہ بنی اسرائیل میں کہی گئی کہ تم محمد علیہ السلام کو نکال تو رہے ہو مگر یاد رکھو اس کے بعد تم بھی یہاں زیادہ دیر اپنی من مانیاں نہ کرسکو گے۔ یہی اللہ کی سنت ہے اور تم نہ تو اس سنت کا رستہ روک سکتے ہو نہ اس کو کسی اور کی طرف موڑ سکتے ہو۔ اگر خدا ہی اپنے ہاتھ خود باندھ کر بیٹھ گیا ہے اور اسباب کا ماتحت ہوگیا ہے تو پھر خدا میں اور بندوں میں بھلا فرق ہی کیا رہ گیا؟ جب خدا خلافِ ضابطہ کچھ کر ہی نہیں سکتا تو پھر کوئی اس سے دعا کرے تو بھلا کیوں کرے؟؟یہ بات سمجھ لیجیے کہ خدا کے مجبور یا ضابطے کا پابند ہونے کا نظریہ ہی دراصل اپنے اندر الحاد کا خوفناک الاؤ چھپائے ہوئے ہے۔ الحاد باہر سے نہیں اندر سے امنڈتا ہے۔

سورۃ فاطر کے بعد سورۃ یٰس ہے۔ اس میں اللہ نے قرآنِ حکیم کی قسم کھا کر کہا ہے کہ بے شک محمد رسولوں میں سے ہیں اور ان کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے۔ ارشاد ہے کہ جو لوگ کافر ہیں ان کو ڈرایا جائے یا نہ ڈرایا جائے ان کے لیے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لانے والے۔ رسول کریم اس کو ڈراتے ہیں جو قرآنِ مجید کی پیروی کرتا اور اللہ کے ڈر کو اختیار کرنے والا ہے۔

اللہ نے ایک بستی کا ذکر کیا جس میں دو رسولوں کو بھیجا گیا لیکن بستی والوں نے ان کو جھٹلایا۔ تب ایک تیسرے رسول نے آ کر اُن کی تائید کی۔ ان رسولوں نے کہا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں جس پر بستی والوں نے کہا کہ رحمٰن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا اور تم جھوٹ بول رہے ہو۔ دریں اثنا بستی کے پرلے مقام سے ایک شخص دوڑتا آیا اور قوم سے مخاطب ہو کر کہا اے میری قوم کے لوگو، ان تینوں کی پیروی کرو۔ یہ تم سے کچھ بھی طلب نہیں کر رہے اور ہدایت پر ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین.

Parah-21

اکیسویں پارے کا آغاز سورۃ عنکبوت کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک حضرت محمد علیہ السلام سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں، بے شک نماز فحاشی اور برے کاموں سے ہٹا دیتی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ آپ پہلے سے نہ کوئی کتاب پڑھے تھے نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ورنہ اہلِ باطل شک کرتے (کہ قرآن اللہ کی وحی کردہ کتاب نہیں ہے بلکہ جناب محمد یہ آیتیں خود گھڑتے ہیں)۔ آپ کا بغیر کسی سابقہ تعلیم کے قرآنِ مجید جیسی کتاب کو پیش کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آپ پر وحی آتی ہے اور آپ اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ یہ واضح آیات ہیں جن کو اللہ نے اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ فرما دیا ہے۔ اللہ کی آیات سے جھگڑنے والے لوگ ظالم اور کافر ہیں۔ اللہ تعالی نے اس سورت میں مشرکینِ مکہ کی بداعتقادی کا ذکر کیا کہ جب وہ سمندروں میں ہوتے ہیں تو اللہ کو پورے اخلاص سے پکارتے ہیں اور جب خشکی پر ہوتے ہیں تو شرک کا ارتکاب اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس سورت کے آخر میں اللہ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میرے راستے میں جد و جہد کرتے ہیں میں ان کو ضرور راستے دکھاؤں گا، اور بے شک اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

سورۃ عنکبوت کے بعد سورۃ روم ہے۔ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب روم کو ایران کے آتش پرستوں سے شکست ہوئی۔ کفارِ مکہ ایرانیوں کی اس فتح پر بہت خوش تھے۔ اللہ نے اس سورت میں مومنوں کی دلجوئی کے لیے اعلان فرمایا کہ اہلِ روم مغلوب ہوگئے، قریب کی سرزمین (شام) میں اور اپنی مغلوبیت کے بعد چند ہی سال میں غالب آئیں گے۔ پہلے بھی ہر چیز کا اختیار صرف اللہ کے پاس تھا اور بعد میں بھی صرف اس کے پاس رہے گا اور اس دن سے مومن خوش ہو جائیں گے۔ (جب ان آیات کا نزول ہوا تو مشرکینِ مکہ نے ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے اس کو ناممکن خیال کیا۔ یہ لوگ خدا کی طاقت اور اختیارات سے ناواقف تھے اس لیے ان کی نگاہ صرف ظاہری حالات پر تھی۔ اللہ نے ہجرت سے ایک سال قبل ایرانیوں کو کمزور کرنا شروع کر دیا اور 2 ہجری میں ایرانیوں کا سب سے بڑا آتشکدہ بھی رومی فتوحات کی لپیٹ میں آگیا۔ اسی سال بدر کے معرکے میں مسلمانوں کو اللہ نے غلبہ عطا فرمایا اور مسلمانوں کی خوشیاں دوچند ہوگئیں کہ رومیوں کی فتح کی اچھی خبر سننے کو مل گئی اور اللہ نے مسلمانوں کو بھی کافروں کے مقابلے میں فتح یاب فرما دیا۔)

یہ سورت حزب الرحمن یعنی رحمان کا گروہ اور حزب الشیطان کے درمیان معرکہ کا ذکر کرتی ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا یہاں تک اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما کر دونوں کو ان ٹھکانوں پر پہنچا دیں. اللہ کا ارشاد ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو فرقے الگ الگ ہوجائیں گے اور مومنوں کو جنت رسید اور کفار کو جہنم رسید کیا جائے گا. یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ حق والے ہمیشہ غالب رہیں گے. اگر کہیں حق والے مغلوب ہیں تو وہ دیکھیں کہیں انھوں نے باطل کے طور طریقوں کو تو نہیں اپنا لیا اور کہیں باطل نے حق کے طور طریقے اپنا لیے ہیں.

اس سورت میں اللہ نے مسلمانوں کی نصیحت کی ہے کہ قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کا حق ان کو دینا چاہیے۔ یہ بہتر ہے کہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے اللہ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ارشاد ہے کہ جو سود انسان کھاتا ہے اس کا مقصد مالوں کو پرورش دینا ہوتا ہے لیکن اس سے مال پروان نہیں چڑھتا اور جو زکوٰۃ اللہ کے لیے دی جاتی ہے اللہ اس سے مال میں اضافہ فرماتے ہیں۔

اس سورت کے آخر میں کفار کا ذکر ہے کہ وہ قرآن مجید کی آیات کو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی غور کرتے ہیں جیسے کے مردہ ہوں۔ سورۃ روم کے بعد سورۃ لقمان ہے۔ اس میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے والے لوگ نمازیں قائم کرنے والے، زکوٰۃ ادا کرنے والے اور آخرت پر پختہ یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔ بعض لوگ لغو باتوں کی تجارت کرتے ہیں اور ان کا مقصد صرف لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے، ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اللہ نے جنابِ لقمان کا ذکر کیا ہے جن کو دانائی سے نوازا گیا تھا۔ لقمان نے اپنے بیٹے کو کچھ قیمتی نصیحتیں کی تھیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اے جانِ پدر شرک نہ کرنا، شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ نیز والدین کی خدمت کی تلقین کی۔ پھر اللہ کے علم کی وسعتوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے بیٹے اگر رائی کے دانے کے برابر کوئی چیز کسی چٹان کے اندر یا آسمان و زمین میں ہو تو اللہ اس کو بھی سامنے لائے گا، بے شک اللہ بڑا باریک بین باخبر ہے۔ نیز فرمایا کہ اے میرے بیٹے نماز قائم کر، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روک، اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بےشک یہ بڑی ہمت والے اور ضروری کام ہیں۔ اخلاق کریمانہ کی نصیحت کی کہ لوگوں سے اپنا چہرہ پھیر کر بات نہ کر (یعنی بے رخی سے) اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بے شک اللہ اکڑ کر چلنے والے اور متکبرین کو پسند نہیں کرتا، اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز پست رکھنا کیونکہ بلند آواز اگر اچھی ہوتی تو گدھے کی آواز اچھی ہوتی حالانکہ آوازوں میں بدترین آواز گدھے کی آواز ہے.

مشرکین کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر خود ان سے سوال کیا جائے تو کہیں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے. اگر تمام درختوں کے قلم بنا لیے جائیں اور ساتوں سمندر روشنائی بن جائیں تب بھی خالق کائنات کی صفات مکمل بیان نہیں ہو سکتیں.

اس سورت کے آخر میں اللہ پانچ ایسی باتوں کو ذکر کیا ہے جن کو صرف وہ جانتا ہے: ساعت یعنی قیامت کا علم، بارش کا ہونا، ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کسی نفس کو نہیں معلوم کہ کل کیا ہوگا (یا کل وہ کیا کر سکے گا) اور کوئی نہیں جانتا وہ کس زمین میں مرے گا۔ ان تمام باتوں کا علم صرف باخبر اور علم رکھنے والے اللہ کے پاس ہے۔

اس کے بعد سورۃ الم سجدہ ہے جس میں اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا ہے. انسان کو توجہ دلائی کہ وہ اپنی تخلیق پر غور کرے کہ اللہ نے کیسے اور کن مراحل میں اس کی تخلیق کی ہے. پھر فرمایا ہے کہ اللہ نے ملک الموت کو انسانوں کی ارواح قبض کرنے پر مامور کیا ہے۔

اللہ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی انسان کو علم نہیں کہ اللہ نے آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کیا اہتمام فرمایا ہے. یہ سورت مومنین اور مجرمین دونوں کا حال بتاتی ہے. ارشاد ہے کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہو سکتے. مجرم قیامت کے دن سر جھکائے کھڑے ہوں گے. ان کے چہروں پر ذلت ہوگی اور کہیں گے کہ کاش ہمیں واپس لوٹا دیا جائے تو ہم نیک اعمال کریں. مومنین اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کے پہلو راتوں کو بستر سے جدا رہتے ہیں، اور اللہ کے دیے ہوئے مال سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں. مومن کا مقدر جنت جب کہ فاسق کا مقدر جہنم کے انگارے ہیں.

سورۃ سجدہ کے بعد سورۃ احزاب ہے۔ شروع کی دو آیات میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو لائحہ عمل دیا ہے کہ اللہ سے ڈرو، کفار کی پیروی مت کرو اور صرف وحی کی پیروی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو. اس کے بعد فرمایا کہ کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں ہوتے ایک ہی دل ہوتا ہے جس کفر ہوگا یا اسلام. اس کے بعد ازواجِ مطہرات کو امت کی مائیں قرار دے کر ان کی عظمت کو بیان کیا. آگے چل کر اللہ نے جنگِ خندق کا ذکر کیا ہے جس میں کافروں کی افرادی قوت دیکھ کر منافقین کے دلوں پر ہیبت طاری ہوگئی تھی جب کہ اہلِ ایمان پوری استقامت سے میدان میں ڈٹے رہے۔ ایک لشکرِ جرار نے مدینے پر حملہ کیا۔ رسول اللہ کے ساتھ صحابہ کرام کے علاوہ سترہ سو یہودی حلیف تھے۔ سترہ سو حلیف اتنی بڑی فوج دیکھ کر بھاگ گئے۔ اب صرف چار ہزار جانباز مسلمانوں کی جماعت کے ذریعے خدا نے اہلِ ایمان کی مدد فرمائی اور کافر کثرتِ تعداد اور وسائل کی فراوانی کے باوجود ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس سورت میں اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس کو اللہ سے ملاقات اور یومِ حساب کی آمد کا یقین ہے اس کے لیے رسول اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔

اس پارہ کے اختتام اور اگلے پارہ کے شروع میں اللہ تعالٰی نے ازواجِ مطہرات کو بالخصوص اور عام خواتین کو بالعموم چند معاشرتی آداب سکھائے ہیں جن کا ذکر ان شاءاللہ اگلے پارے کے آغاز میں ہوگا.

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ مجید میں بیان کردہ مضامین سے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

Thursday, May 14, 2020

Parah-20

بیسویں پارے کا آغاز سورۃ نمل کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ شروع میں ہی اللہ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی قوتِ تخلیق اور توحید کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اس کے سوا کون ہے جس نے زمین و آسمان کو بنایا اور آسمان سے پانی کو اتارا، جس کی وجہ سے مختلف قسم کے باغات اگتے ہیں. اور کون ہے جس نے زمین کو ٹھہرایا ہوا ہے اور اس میں پہاڑوں کو لگایا اور اس میں نہروں کو جاری کیا ہے۔ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی الٰہ ہے؟ پھر پوچھا، اللہ کے سوا کون ہے جو بے قراری کی حالت میں کی گئی دعاؤں کو سننے والا ہو اور جو تکلیف پہنچتی ہے اس کو دور کرنے والا ہو۔ اور اللہ کے سوا کون ہے جو خشکی اور رات کی تاریکیوں میں انسانوں کی رہنمائی کرنے والا ہے اور کون ہے جو خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجنے والا ہے۔ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی معبود ہے جو تخلیق کا آغاز کرنے والا ہو اور دوبارہ اس کو زندہ کرنے والا ہو اور کون ہے جو زمین و آسمان سے رزق عطا کرنے والا ہو؟ اس کے بعد اللہ چیلنج کرتا ہے کہ اگر تمھارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو۔

اس کے بعد مشرکین کی اس غلط فہمی کہ جب ہم ہڈیوں کا چورا بن جائیں گے تو پھر دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے کا ازالہ کیا کہ جو اتنی زبردست قدرت کا مالک ہے اس کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں. ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلی دی اور مشرکین کو انتباہ کیا کہ اگر تم اسی طرح نافرمانی کرتے رہے تو تمھارا بھی وہ حشر ہوگا جیسا پہلی اقوام کا ہوا. زمین میں چل پھر کر عبرت حاصل کرو اور دیکھو کہ اللہ نے فسادیوں کا کیا انجام کیا.

سورۃ نمل کے بعد سورۃ قصص ہے۔ فرعونوں کے سلسلے کے بادشاہ Thutmose-II کو اللہ نے بہت طاقت دی تھی لیکن وہ سرکش ہوگیا اور ظلم و ستم شروع کر دیے. اس نے اپنے زیر نگیں رعایا کو مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کر رکھا تھا. بنی اسرائیل اس وقت سب سے زیادہ مظلوم تھے. اللہ نے ان کو فرعون سے نجات دلانے کے لیے موسی علیہ السلام کو مبعوث کیا. شروع میں اللہ نے جنابِ موسیٰ کی ولادت کا ذکر کیا ہے۔ فرعون ایک برس بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرواتا اور اگلے برس ان کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ جنابِ موسیٰ اس سال پیدا ہوئے جس سال فرعون نے بچوں کے قتل کا حکم دے رکھا تھا۔ اللہ نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں خیال ڈالا کہ جب خدشہ ہو کہ فرعون کے ہرکارے آ پہنچے ہیں تو بچے کو جھولے میں لٹا کر سمندر میں ڈال دیں۔ لہروں نے جھولے کو فرعون کے محل تک پہنچا دیا۔ فرعون کی بیوی آسیہ نے جھولے میں خوبصورت بچہ دیکھا تو میاں سے سفارش کی کہ اسے قتل نہ کریں، یہ میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔ ہم اس کو بیٹا بنا لیں گے اور یہ ہمارے لیے نفع بخش بھی ہو سکتا ہے۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورت کی تلاش ہوئی تو جنابِ موسیٰ کی بہن نے کہا میں ایک عورت کو بلاتی ہوں جو اس بچے کو دودھ پلائے۔ یوں اللہ نے جنابِ موسیٰ کو ان کی والدہ سے ملا دیا۔

جنابِ موسیٰ کو اللہ نے علم و حکمت سے بہرہ ور فرمایا۔ ایک دن فرعون کے قبیلے کا ایک آدمی بنی اسرائیل کے ایک آدمی سے لڑ رہا تھا. اس نے جب موسیٰ کو دیکھا تو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی دہائی دی۔ جناب موسیٰ نے اس فرعونی کو ایسا گھونسہ مارا کہ وہ تھاں ڈھیر ہوگیا۔ یہ قتلِ سہو تھا۔ آپ نے پروردگار سے توبہ و استغفار کی جسے اللہ نے قبول فرمایا۔ اگلے دن وہ ڈرتے ڈرتے شہر میں داخل ہوئے تو وہی بنی اسرائیلی کسی اور سے گتھم گتھا تھا۔ جنابِ موسیٰ نے اس کی مدد کے لیے ہاتھ اٹھایا تو وہ سمجھا کہ آپ اسے مارنے لگے ہیں۔ اس ہڑبڑاہٹ میں اس نے کل کے قتل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اتنے میں موسیٰ کو اطلاع ملی کہ فرعون کے فرستادے ان کو تلاش کر رہے ہیں۔ اللہ نے جنابِ موسیٰ کی رہنمائی کی اور ان کو مدین کے گھاٹ پر پہنچا دیا۔ وہاں لوگ پانی نکالنے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے اور دو لڑکیاں بھی پانی لینے آئی تھیں لیکن ہجوم کی وجہ سے پانی لینے سے رکی ہوئی تھیں۔ آپ نے انسانی ہمدردی میں ان کے لیے پانی نکالا اور ایک طرف ہٹ کر سائے میں بیٹھ گئے۔ پھر بھوک چمکی تو خدا سے خیر کی دعا مانگی۔ یکایک انہی دو لڑکیوں میں سے ایک انتہائی شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہا کہ میرے بابا آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ جو ہمارے کام آئے ہیں اس کا صلہ دیا جا سکے۔ جنابِ موسیٰ مدین کے اس بزرگ شخص کے پاس پہنچے اور اپنے حالات سے آگاہ کیا تو اس نے کہا کہ آپ میرے پاس رہیں اور اپنی ایک بیٹی کی شادی جنابِ موسیٰ سے کر دی۔

دس برس بعد جنابِ موسیٰ نے وطن واپسی کا ارادہ کیا۔ راستے میں طور پہاڑ کے پاس سے گزرے تو دور سے آگ جلتی نظر آئی۔ اہلیہ سے فرمانے لگے کہ تم ذرا ٹھہرو میں طور سے آگ لے کر آتا ہوں کہ اس سے سردی دور ہو جائے گی۔ طور پر پہنچے تو اللہ نے آواز دی: اے موسیٰ، میں خدائے عزیز و حکیم ہوں. یہاں آپ کو اللہ نے نبوت سے نوازا اور آپ کے عصا کو معجزاتی عصا اور آپ کے ہاتھ کو یدِ بیضا یعنی نورانی بنا دیا۔ آپ نے اللہ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا فرما دے۔ یہ دعا بھی قبول کر لی گئی۔ جنابِ موسیٰ فرعون کے پاس دعوت دین لے کر پہنچے تو اس نے دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ موسیٰ نے ہر طرح اس کو سمجھایا مگر وہ نہ مانا یہاں تک کہ اللہ نے اُسے اور اس کے لشکریوں کو سمندر میں ڈبو کر ہلاک کر دیا۔

حضرت موسی اور ان کی قوم کا یہ واقعہ اپنے اندر کئی نصائح اور حکمتیں لیے ہوئے ہے. مصائب و آلام میں صبر کرنا اور اللہ کی جانب متوجہ رہنا ہمیشہ اچھے نتائج دیتا ہے. آدمی جب مصائب و مشکلات میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کی ضرور مدد کرتا ہے. جب آپ اللہ کے راستہ میں قربانی دیتے ہیں تو اللہ آپ کے دشمنوں میں ہی آپ کے حمایتی پیدا کر دیتے ہیں. باطل جس قدر طاقت ور کیوں نہ ہوں آخر اسے ناکامی اس کا مقدر بنتی ہے. اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلانے کی عملی کوشش کرنا انبیاء کی سنت ہے.

اس کے بعد اللہ نے سرمایہ داروں کی تنبیہہ کی غرض سے قارون کا قصہ ذکر کیا ہے جو بے تحاشہ مال کا مالک تھا. اس کے خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت اٹھایا کرتی تھی. لیکن جب اسے غرور کرنے اور زمین میں فساد کرنے سے روکا گیا تو اس نے کہا یہ تو میرا مال ہے جو مجھے میری دانش کے بدلے ملا ہے، میں اسے جیسے چاہوں استعمال کروں. اس سرکرشی پر اللہ نے اسے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا. اس کے بعد اللہ نے سب باتوں کی ایک بات فرمائی کہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لیے تیار کر رکھا ہے جو ”بڑا بننے اور زمین پر فساد کرنے سے رک جائیں.”

اس کے بعد سورۃ عنکبوت ہے۔ اس کے شروع میں اللہ نے واضح کر دیا کہ جو بھی ایمان کا دعوٰی کرے گا وہ آزمایا جائے گا. اور یہ بات واضح کی جائے گی کہ کون کھرا ہے اور کون کھوٹا. اور ہمیشہ سے ایسا ہوا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے وہ آزمائے گئے. اسی کی مثال کے طور پر اللہ نے اس سورت میں پچھلی قوموں اور افراد (حضرت نوح، ابراہیم، لوط، صالح علیہما السلام) کا ذکر کیا ہے جنھوں نے وقت کے حاکموں کے ظلم اور استبداد کی پروا نہ کی اور اللہ کی توحید پر بڑی استقامت کے ساتھ کاربند رہے اور اپنے ایمان کے دعوے کو عمل سے ثابت کیا تاکہ اہل ایمان سمجھ لیں کہ آزمائش تو آئے گی لیکن اس کے بعد فراخی و کامیابی ہوگی. اس سورت میں اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ مشرکوں کی مثال مکڑی کی ہے جو گھر بناتی ہے لیکن اس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ اسی طرح مشرک غیر اللہ کو پکارتے ہیں مگر ان کی پکار میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔ بے شک ان کا دعویٰ مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہوتا ہے۔ اور بے شک گھروں میں کمزور ترین گھر مکڑی کا گھر ہے.

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Parah-19

انیسویں پارے کا آغاز سورۃ الفرقان کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ آغاز میں اللہ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کو میری ملاقات کا یقین نہیں وہ بڑے تکبر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کا نزول ہونا چاہیے یا ہم پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب وہ قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھیں گے تو اس دن مجرموں کو کوئی خوش خبری نہیں ملے گی.

اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنی امت سے متعلق ایک شکوہ بھی بتایا کیا ہے کہ آپ قیامت کے دن اللہ سے ان لوگوں کی شکایت کریں گے جنھوں نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا. نہ تلاوت کی نہ سمجھا اور نہ اس پر عمل کیا. لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کو وہ قرآن کو پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا رہے.

اس سورت میں ارشاد ہے کہ قیامت کے دن ظالم اپنے ہاتھ کو کاٹے گا اور کہے گا اے کاش میں نے رسول کے راستے کو اختیار کیا ہوتا اور کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے نصیحت آ جانے کے بعد غافل کر دیا۔ یعنی بہت سے لوگ بری صحبت کو اختیار کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوں گے۔ انسان کو ہمیشہ نیکو کاروں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔

اس سورت کے آخر میں اللہ نے اپنے بندوں (عباد الرحمٰن) کی صفات بیان فرمائی ہیں کہ اللہ کے یہ بندے زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے، جاہلوں سے واسطہ پڑے تو انھیں سلام کرکے الگ ہو جاتے ہیں، ان کی راتیں رکوع و سجود میں گزرتی ہیں، خرچ کرنے میں اعتدال رکھتے ہیں نہ بخل کرتے ہیں اور نہ فضول خرچی،شرک نہیں کرتے، قتلِ ناحق سے بچتے ہیں اور زنا بدکاری کے قریب بھی نہیں جاتے، جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور برائی کی مجالس سے دور رہتے ہیں، اور اپنے لیے اور بیوی بچوں کے لیے دعا مانگتے ہیں.

سورۃ فرقان کے بعد سورۃ الشعراء ہے۔ اس سورت اللہ نے قومِ نوح، قومِ ہود، قومِ ثمود اور قومِ لوط پر آنے والے عذابوں کا تذکرہ کیا کہ کس طرح ان تمام اقوام نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی اور عذاب کا نشانہ بنے۔ اللہ نے ان سب نبیوں کا اسلوبِ دعوت بیان فرمایا ہے کہ انھوں نے کارِ نبوت کے بدلے اپنی قوم سے کچھ نہیں چاہا بلکہ اپنی ساری تگ و دو کا اجر صرف اللہ سے چاہا۔ اس کے باوجود ان عاقبت نااندیش اقوام نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور انجامِ کار عذاب کا نشانہ بنے اور رہتی دنیا کے لیے عبرت کا نشان بن گئے۔

اللہ نے جنابِ ابراہیم کا بھی ذکر کیا کہ انھوں نے اپنی قوم سے بت پرستی کی وجہ دریافت کی کہ کیا تم جب ان کو پکارتے ہو اور وہ تمھاری پکاروں کو سنتے ہیں اور کیا وہ تمھیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں، تو جواب میں قوم کے لوگوں نے کہا نہیں، بلکہ ہم نے اپنے آبا و اجداد کو ان بتوں کو پوجتے ہوئے دیکھا اس لیے ہم بھی انھیں پوجتے ہیں۔ اس پر جنابِ ابراہیم نے کہا کہ میں تمھارا اور تمھارے آبا و اجداد کے معبودوں کا مخالف ہوں۔ میری وفا اور محبت رب العالمین کے لیے ہے جس نے مجھے بنایا اور سیدھا راستہ دکھایا، جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے، جو مجھے امراض سے شفا عطا دیتا ہے، جو مجھے موت بھی دے گا اور پھر دوبارہ زندہ بھی کرے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے قیامت کے دن معاف بھی کرے گا۔

اللہ نے قرآنِ مجید کے اپنی طرف سے نازل ہونے کا بھی ذکر کیا کہ اللہ نے قرآن کو واضح عربی زبان میں اتارا اور اس کو جبریلِ امین جنابِ رسولِ کریم کے سینہ مبارک پر لے کر آئے تاکہ وہ لوگوں کو ڈرائیں اور کہا کہ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء بھی اس کو پہچانتے ہیں۔

اس سورت میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان ہر جھوٹ بولنے والے بڑے گناہ گار پر نازل ہوتا ہے اور بھٹکے ہوئے شاعروں پر بھی، وہ شعرا جو ہر وقت وہم کی وادیوں میں ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں اور قوتِ عمل سے قاصر صرف باتیں بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عملِ صالح کا راستہ اختیار کیا، اللہ ان سے شیاطین کو دور فرمائیں گے۔

سورۃ الشعراء کے بعد سورۃ النمل ہے۔ اس میں اللہ نے حضرت موسیٰ کی نشانیوں کا ذکر کیا جنھیں بے مثال معجزات عطا کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اللہ نے داؤد اور سلیمان علیہما السلام کو علم کی نعمت سے مالامال فرمایا اور ان کو اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اللہ نے جنابِ سلیمان کو علم اور حکومت کے اعتبار سے جنابِ داؤد کا وارث بنایا اور ان کو پرندوں اور جانوروں کی بولیاں سکھائی تھیں اور جنات، انسانوں اور ہواؤں پر حکومت دی تھی۔

ایک بار سلیمان علیہ السلام کا لشکر گزر رہا تھا کہ جناب سلیمان نے دیکھا کہ ایک چیونٹی ملکہ دوسری چیونٹیوں کو کہہ رہی ہے کہ جلدی جلدی بل میں گھسو ایسا نہ ہو کہ سلیمان کا لشکر تمھیں روند ڈالے. جناب سلیمان نے اس کی آواز سنی اور بولی کو سمجھ لیا تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ انھیں کیا کیا نعمتیں عطا فرمائی گئی ہیں.

اس سورت میں اللہ نے جنابِ سلیمان کے دربار کی ایک کیفیت کا بھی ذکر کیا کہ ایک دن آپ نے ہدہد کو غائب پایا تو اس کا نوٹس لیا اور فرمایا کہ اگر ہدہد نے اپنی غیر حاضری کی معقول وجہ بیان نہ کی تو اسے شدید عذاب دیا جائے گا یا ذبح کر دیا جائے گا۔ کچھ دیر بعد ہدہد آیا تو اس نے اپنی کارگزاری سنائی کہ آج دربار کی طرف آتے ہوئے میرا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جہاں کے لوگوں کو اللہ کی بہت سی نعمتیں حاصل ہیں اور ان پر ایک عورت بلقیس حکمران ہے اور قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ سورج کی پوجا کر رہی ہے جب کہ انھیں اللہ کی پوجا کرنی چاہیے۔ جنابِ سلیمان نے اس ملکہ کو خط لکھا۔ جواب میں ملکہ نے تحفے تحائف بھجوائے۔ جنابِ سلیمان نے تحفوں کو دیکھ کر کہا کہ جو کچھ اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے وہ ملکہ کے بھجوائے ہوئے ان تحفوں سے بہت بہتر ہے۔ آپ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو ملکہ کو تخت سمیت میرے دربار میں لے آئے۔ اس پر ایک بڑے جن نے کہا کہ میں دربار کے برخاست ہونے سے پہلے ملکہ کو تخت سمیت یہاں لاسکتا ہوں۔ ایک اور شخص کھڑا ہوا جو کتاب کا علم رکھنے والا اور اللہ کے اسمائے اعظم کا عالم تھا۔ اس نے کہا میں ملکہ کے تخت کو آپ کے پہلو بدلنے سے پہلے حاضر کر دوں گا۔ آنًا فانًا ملکہ بلقیس تخت سمیت وہاں آگئیں۔ جناب سلیمان نے ملکہ کے تخت میں تبدیلی کرکے ان سے پوچھا کیا یہ آپ ہی کا تخت ہے، تو ملکہ نے ہاں میں جواب دیا۔ اس کے بعد جنابِ سلیمان نے ملکہ کو اپنے محل کے ایک خاص حصے میں آنے کی دعوت دی جس کا فرش شیشے کا بنا ہوا تھا لیکن دیکھنے والی آنکھ کو پانی محسوس ہوتا تھا۔ جب ملکہ بلقیس شیشے کے فرش پر سے گزرنے لگیں تو اپنی پنڈلیوں سے کپڑے کو اٹھا لیا تاکہ پوشاک گیلی نہ ہو. جنابِ سلیمان نے کہا کہ یہ پانی نہیں شیشہ ہے۔ اس طرح انھوں نے ملکہ کو جتلایا کہ آپ پانی اور شیشے میں فرق نہیں کر سکیں۔ جنابِ سلیمان اصل میں ملکہ کو باور کرا رہے تھے کہ اسی طرح آپ سورج کی روشنی اور اللہ کے نور میں فرق نہیں کر سکیں چنانچہ سورج کی پوجا کرتی ہیں۔ ملکہ نے فوراً اعلان کیا کہ اے میرے پروردگار میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اور یوں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ دین کی دعوت ہمیشہ حکمت اور دانائی سے دینی چاہیے اور مخاطب کو اپنے ماحول میں لاکر دینی چاہیے۔

اللہ تعالی ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

Parah-18

اٹھارویں پارے کا آغاز سورہ مومنون سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے جو جنت کے سب سے بلند مقام فردوس کا وارث بننے والا ہے۔ اللہ فرماتا ہے وہ مومن کامیاب ہوئے جنھوں نے اپنی نمازوں میں اللہ کے خوف اور خشیت کو اختیار کیا، جنھوں نے لغویات سے اجتناب کیا، جو زکوٰۃ کو صحیح طریقے سے ادا کرتے ہیں، جو امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں، جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، جو اپنی پاک دامنی کا تحفظ کرتے ہیں اور سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے کسی سے خلوتِ صحیحہ نہیں کرتے۔ جو صاحبِ ایمان ایسا کرے گا وہ فردوس کا وارث بن جائے گا۔

ارشاد ہے کہ جب کافروں پر عذاب آئے گا تو وہ چیخ پڑیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا آج چیخ پکار مت کرو، ہمارے مقابلہ میں کسی طرف سے تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔ ہماری آیات کی تمھارے سامنے تلاوت کی جاتی تو تم الٹے قدموں بھاگ پڑتے تھے، تکبر کرتے اور اپنی رات کی محفلوں میں اس قرآن کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے۔

اللہ کافروں کی غفلت اور سرکشی کو اجاگر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا انھوں نے قرآن کریم پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے جو ان کے آبا و اجداد کے پاس نہیں آئی یا انھوں نے اپنے رسول کو پہلے سے نہیں پہچانا جو ان کا انکار کر رہے ہیں۔ اللہ اس حقیقت کو واضح فرماتا ہے کہ نبی کریم علیہ السلام کی سابقہ زندگی ان کے سامنے ہے اس لیے ان کو صادق اور امین رسول کا انکار نہیں کرنا چاہیے اور صرف اس وجہ سے قرآن کو رد نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ان کے آبا و اجداد کے عقائد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کو حق پر مبنی دعوت پر غور کرنا چاہیے اور اللہ کی اس وحی کو دل و جان سے قبول کرنا چاہیے۔ درحقیقت وہ یہ چاہتے تھے کہ حق ان کی خواہشات کے تابع کر دیا جائے۔

اس سورت میں یہ بھی ارشاد ہے کہ بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہم نے ان کو بغیر وجہ کے پیدا کر دیا اور انھوں نے ہمارے پاس پلٹ کے نہیں آنا حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور وہ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور ان کو اپنے کیے کا جواب دینا ہوگا۔

اس سورت کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو کوئی بھی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس ایسا کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور اس کا حساب پروردگار کے پاس ہے اور اس نے کبھی کافروں کو کامیاب نہیں کیا۔

سورۃ مومنون کے بعد سورۃ نور ہے جس میں اللہ نے جنسی جرائم اور فحاشی کی روک تھام کے لیے زنا کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس سورت میں Character Assassination کے ہتھیار سے مذہبی و سیاسی یا کاروباری مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے برے فعل سے روکنے کے اقدامات ذکر گئے ہیں۔ ارشاد ہے کہ زانی اور زانیہ کو بدکاری ثابت ہونے پر ایک سو کوڑے مارے جائیں۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی مذمت کی گئی ہے اور ارشاد ہے کہ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر اپنی بات کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط کو پورا نہیں کرتے ایسے لوگوں کو اسی کوڑے لگائے جائیں اور مستقبل میں ان کی کوئی گواہی قبول نہ کی جائے اور ان کا شمار فاسقوں میں ہوگا۔ ایسے ہی اگر شوہر اپنی بیوی پر الزام لگاتا ہے تو غیرت کے نام پر قتل (Honour Killing) کے بجائے الزام کے سچ جھوٹ ثابت کرنے کا طریقہ بتلایا. (رجم کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے۔ یہ سزا جہاں بھی دی جا رہی ہے اس کا اسلام سے نہیں، علاقائی رواج سے تعلق ہے۔)

اللہ نے سورۃ نور کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں نام لیے بغیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءَت کا اعلان فرمایا اور یوں اہلِ ایمان کو ازواجِ مطہرات کی حرمت و ناموس کے بارے میں خبردار کر دیا اور اصول طے فرما دیا کہ جب بات نبی اور ان کے گھر والوں کی ہو تو راوی کو مت دیکھا جائے۔ اہلِ ایمان کو یہ سمجھایا گیا کہ انھیں ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اور اگر کوئی نبی یا ان کی ازواج میں سے کسی کی کردار کشی کرے تو سننے والے کو علی الفور کردار کشی کو بہتان سے تعبیر کرنا چاہیے۔ بارھویں آیت میں ارشاد ہے کہ جب تم نے اس خبر کو سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے بارے میں اچھا گمان کیوں نہیں کیا، اور سنتے ہی کہہ کیوں نہیں دیا کہ یہ واضح طور پر تراشا ہوا جھوٹ اور طوفان ہے؟ اگر کسی واقعہ پر چار گواہ موجود نہ ہوں تو الزام تراشی کرنے والا اللہ کی نظر میں جھوٹا ہے۔ اسی طرح سولھویں آیت میں ارشاد ہے کہ جب تم نے اس خبر کو سنا اسی وقت یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم تو اس کو ماننا تو دور کی بات، اس پر گفتگو تک کرنے کے روادار نہیں۔ اے اللہ تو پاک ہے (اس کمزوری سے کہ نبی کے حرم کی حفاظت نہ کرسکے) یہ تو عظیم بہتان ہے۔ جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا و آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہے۔ اے مومنو، شیطان کے قدموں پر مت چلنا۔ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان کی زبانیں اور ہاتھ پاؤں قیامت کے دن ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں ہیں اور بروں کے لیے بری۔

اس بعد گھروں میں داخل ہونے کا ادب بتایا کہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت مت داخل ہوں بلکہ پہلے اجازت لے کر سلام کرکے داخل ہوں.

معاشرے میں مرد و زن کے اختلاط سے فروغ پانے والی برائیوں کی روک تھام کے لیے اللہ نے اس پارے میں مومن مردوں کو اپنی نگاہیں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے جب کہ مومن عورتوں کو اپنی نگاہیں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم کے ساتھ ساتھ اوڑھنیاں سینے پر رکھنے، پاؤں کی آواز کے پھیلنے سے روکنے اور محرم رشتہ داروں کے علاوہ کسی شخص کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنے سے منع کیا ہے.

اللہ نے غیر شادی شدہ مرد کی شادی کرنے کا حکم دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص فقیر ہو تو نکاح کرنے کے نتیجے میں اللہ اس کو غنی فرما دیں گے۔ نیز غلامی کے خاتمہ کے لیے ایک اہم حکم فرمایا کہ اگر غلام کچھ رقم کے عوض آزادی چاہیں تو ان کو آزاد کر دو.

آگے ارشاد ہے کہ اللہ زمین اور آسمان کو روشن فرمانے والا ہے اور وہ اپنے نور کے ذریعے جسے چاہتا ہے ہدایت کے راستے پر گامزن فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالی نے ان مردوں کا ذکر کیا ہے جو تجارت اور سوداگری میں مشغول ہونے کے باوجود اللہ کے ذکر اور نماز سے غافل نہیں ہوتے۔ اللہ نے صحیح ایمان رکھنے والے مومنوں کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کو اللہ اور رسول کے احکامات کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، اور شاندار کامیابی انہی صاحبِ ایمان لوگوں کے لیے ہے۔

اللہ نے اس وقت موجود اہلِ ایمان یعنی صحابہ سے وعدہ کیا کہ جو ایمان اور عملِ صالح کے راستے پر چلیں گے اللہ ان کو زمین پر خلافت عطا فرمائیں گے جس طرح سابقہ اہلِ ایمان کو خلافتِ ارضی سے نوازا گیا تھا۔ اللہ نے اس وعدے کو اپنے نبی کی حیاتِ مبارک ہی میں پورا فرما دیا اور سرزمینِ حجاز کے بڑے حصے پر آپ کے کامیاب سیاسی معاہدوں کی وجہ سے آپ کا اثر و رسوخ قائم کر دیا اور صحابہ کو اقتدار عطا ہوا (البتہ جس ریاستی بندوبست کو آج کی اصطلاحی سیاسی زبان میں سلطنت یا ریاست کہتے ہیں اس کا قیام بہت بعد کی بات ہے)۔

اس سورت میں اللہ نے خلوت کے تین اوقات کا ذکر کیا ہے کہ ان اوقات میں کسی کے گھر جانا درست نہیں: فجر سے پہلے، ظہر کے بعد جب لوگ اپنے ضروری کپڑے اتار کر آرام کرتے ہیں، اور عشاء کے بعد۔ ان تین اوقات کے علاوہ انسان کسی بھی وقت کسی کے گھر اجازت لے کر ملاقات کو جا سکتا ہے۔

سورۃ نور کے آخر میں اللہ نے حضرت محمد علیہ السلام کے حوالے سے یہ ادب ارشاد فرمایا ہے کہ نبیِ کریم کو ایسے نہ پکارا جائے جیسے تم لوگ ایک دوسرے کو بے تکلفی سے پکارتے ہو بلکہ ادب و احترام کے ساتھ شائستہ انداز میں پکارو، ایسا نہ ہو کہ نامناسب انداز میں پکارنے والے دنیا میں فتنے کا نشانہ بن جائیں اور آخرت میں ان کو درد ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے۔

سورۃ نور کے بعد سورۃ فرقان ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان کو نازل کیا تاکہ وہ دنیا والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ فرقان کا مطلب فرق کرنے والا ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید نیکی اور بدی، ہدایت اور گمراہی، شرک اور توحید، حلال اور حرام وغیرہ وغیرہ کے درمیان فرق کرنے والا ہے اس لیے اس کو فرقان کہہ کر پکارا گیا ہے۔

کفار کے ان خیالات کو کہ یہ قرآن پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کہیں سے بنا لائے ہیں یا پھر یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو انھوں نے لکھ لی ہیں، کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اس ذات کی نازل کردہ کتاب ہے جو چھپی اور ظاہر باتوں کو جانتا ہے.

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین.

Saturday, May 9, 2020

Parah-17

سترھویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگوں کے حساب کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔ اللہ نے دین سمجھنے کا طریقہ بھی بتایا کہ اگر کسی چیز کا علم نہ ہو تو اہلِ علم سے پوچھ لینا چاہیے۔ یہ بھی ارشاد ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے لیے نہیں بنایا، اگر اس نے کھیل ہی کھیلنا ہوتا تو وہ کسی اور طریقے سے بھی یہ کام کر سکتا تھا۔ اللہ نے یہ بھی بتایا کہ اس نے ہر چیز کو پانی سے زندگی دی ہے۔ اللہ انسانوں کو اچھے اور برے حالات سے آزماتا ہے۔ حالات اچھے ہوں تو انسان کو شکر کرنا چاہیے اور حالات برے ہوں تو انسان کو صبر کرنا چاہیے۔

اس سورت میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں کے اعمال کو تولنے کے لیے میزانِ عدل قائم کریں گے۔ اس میزان میں ظلم والی کوئی بات نہیں ہوگی اور جو کچھ اس میں ڈالا جائے گا وہ انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہوگی۔ حضرت ابراہیم کی جوانی کا وہ واقعہ بھی ذکر کیا گیا ہے جب انھوں نے اپنے والد اور قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا ہم نے اپنے باپ داداؤں کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے۔ جنابِ ابراہیم نے کہا کہ تم اور تمھارے باپ کھلی گمراہی میں ہیں۔ لوگوں نے کہا کیا تم واقعی ہمارے پاس حق لے کر آئے ہو یا یونہی مذاق کر رہے ہو؟ تو ابراہیم نے جواب دیا کہ تمھارا رب آسمان اور زمین کا رب ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں اس بات کے حق ہونے کی گواہی دیتا ہوں، اللہ کی قسم جب تم لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمھارے بتوں کے خلاف ضرور کارروائی کروں گا۔ چنانچہ جنابِ ابراہیم نے ان کی عدم موجوگی میں بت کدے میں داخل ہو کر بتوں کو توڑ ڈالا۔ جب قوم کے لوگ بت کدے میں داخل ہوئے اور بتوں کو ٹوٹا دیکھا تو کہا جس نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے وہ یقینًا ظالم آدمی ہے۔ لوگوں نے پوچھا اے ابراہیم کیا تم نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے۔ آپ نے کہا اس بڑے بت نے یہ کیا ہے۔ اگر یہ بت بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔ لوگوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بت بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا تو کیا تم لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمھیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ تف ہے تم پر اور تمھارے ان معبودوں پر جن کی اللہ کے سوا تم عبادت کرتے ہو، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

اس دعوتِ توحید پر بستی کے لوگ بھڑک اٹھے اور کہنے لگے کہ ابراہیم کو جلا دو اور اگر اپنے معبودوں کی مدد کر سکتے ہو تو کرو۔ ابراہیم کو جلانے کے لیے الاؤ بھڑکایا گیا۔ جب آگ خوب بھڑک اٹھی تو ابراہیم نے دعا مانگی: حسبنا اللہ و تعم الوکیل (ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔ اس پر اللہ نے کہا اے آگ تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔ اللہ کہتا ہے کہ لوگوں نے جنابِ ابراہیم کے خلاف سازش کرنا چاہی تو ہم نے انھیں بڑا خسارہ پانے والا بنا دیا۔

پھر اللہ نے جنابِ داؤد اور سلیمان کی حکومت کا اور جنابِ ایوب کے صبر کا ذکر کیا کہ آپ شدید بیماری کے باوجود اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوئے۔ اللہ نے ایوب کی دعا قبول کرکے آپ کی تمام مشکلات کو دور فرما دیا۔ جنابِ یونس کے واقعے کا بھی ذکر ہے کہ آپ جب غم کی شدت سے دوچار تھے تو آپ نے پروردگارِ عالم سے دعا کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کی ذات پاک ہے اس تکلیف سے جو مجھ کو پہنچی ہے اور بے شک یہ تکلیف مجھے اپنی وجہ سے آئی ہے۔ اللہ نے جنابِ یونس کی فریاد سن کر ان کے دکھوں کو دور فرما دیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی فرما دیا کہ جو کوئی بھی حالتِ غم میں جنابِ یونس کی طرح اللہ کی تسبیح کرے گا، اللہ اس کے غم کو دور کر دے گا۔ اللہ تعالی نے حضرت محمد علیہ السلام کے منصب کا بھی ذکر کیا کہ آپ کو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اللہ ہی حقیقی مددگار اور کارساز ہے.

سورۃ الانبیاء کے بعد سورہ حج ہے جس کے شروع میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا اور ارشاد فرمایا کہ بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ اس زلزلے کی وجہ سے حاملہ اپنے حمل کو گرا دے گی اور دودھ پلانے والیاں شیر خواروں کو پھینک دیں گی اور لوگ نشے کی حالت میں نظر آئیں گے جب کہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ پھر اللہ تعالی نے بدر کے معرکے کا ذکر کیا کہ جس میں ایک ہی قبیلے کے لوگ آپس میں ٹکرا گئے تھے اور یہ جنگ نسل، رنگ یا علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقیدہ توحید کی بنیاد پر ہوئی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کی نشان دِہی فرمائی کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو واضح گمراہ ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو تذبذب کا شکار ہیں. جب فراخی ہوتی ہے، دنیوی منافع حاصل ہوتے ہیں تو عبادت کرتے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی آزمائش آئے تو پیٹھ پھیر جاتے ہیں. اللہ تعالیٰ نے دونوں سے علیحدہ رہنے کی ہدایت فرمائی ہے.

اللہ تعالیٰ نے جنابِ ابراہیم کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کی اور ان سے کہا کہ آپ کسی بھی چیز میں میرا شریک نہ ٹھہرائیے اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے شرک اور بت پرستی سے پاک رکھیے اور آپ لوگوں میں حج کا اعلان کیجیے تاکہ وہ آپ کے پاس پیدل چل کر اور دبلی اونٹنیوں پر سوار ہو کر دور دراز علاقوں سے آئیں اور اپنے لیے دینی اور دنیوی فوائد حاصل کرسکیں۔ اور گنتی کے مخصوص دنوں میں ان چوپایوں کو اللہ کے نام پر ذبح کیجیے جو اللہ نے بطورِ روزی انھیں دیے ہیں۔ پس تم لوگ ان کا گوشت خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔

اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے کامل مومنین کی چار صفات کا ذکر بھی فرمایا ہے: جب اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں، مصائب پر صبر کرتے ہیں، نماز کی پابندی کرتے ہیں، اور نیک مصارف میں خرچ کرتے ہیں. نیز یہ خوبی بھی بیان کی ہے کہ ان لوگوں کو اگر اللہ زمین میں تمکنت عطا فرما دے تو بھی یہ نماز کی پابندی کرتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہتے ہیں.

اللہ تعالیٰ نے قربانی کی قبولیت کے لیے تقویٰ کو شرط قرار دیا کہ اللہ کو جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اللہ کو انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے اور وہ بند برجوں میں چھپ جانے والوں تک بھی پہنچ جاتی ہے. اللہ نے ان مظلوم مسلمانوں کو بھی جہاد کی اجازت دی کہ جن کو بغیر کسی جرم کے ان کے گھروں سے عقیدہ توحید کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔

اس سورت میں اللہ نے ایک مثال کے ذریعے شرک کی تردید کی کہ جن معبودانِ باطل کو لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں ان کی ناتوانی و بے بسی کی کیفیت یہ ہے کہ وہ سارے جمع ہو کر ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے، اور مکھی بنانا تو دور کی بات ہے، اگر مکھی جیسی بے حیثیت مخلوق ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اس کو واپس بھی نہیں لے سکتے۔ یہ مانگنے والے بھی کمزور ہیں اور جن سے مانگتے ہیں وہ بھی کمزور ہیں. درحقیقت انھوں نے خدا کی قدر نہیں جانی جیسی کہ جاننا چاہیے تھی. خدا اگلا پچھلا سب جانتا ہے. اے ایمان والو اگر فلاح چاہتے ہو تو خدا کی عبادت کرو اور اسی کو رکوع و سجدہ کرو. اور خدا کی راہ میں ویسے جہد و جہاد کرو جیسا کہ اس کا حق ہے کیونکہ خدا نے تمھیں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چن لیا ہے، اور نماز و زکوٰة کا اہتمام کرتے ہوئے خدائے حامی و ناصر کے ساتھ کو مضبوط پکڑے رہو. اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین.

Parah-16

سولھویں پارے کے آغاز میں سورہ الکہف تقریبًا تین رکوع ہیں. پندرھویں پارے کا اختتام حضرت موسیٰ کی ایک باخدا آدمی سے ملاقات کے ذکر پر ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ اس آدمی کے کشتی میں سوراخ کرنے کے بعد ایک خوبصورت بچے کے قتل کرنے پر بھی بالکل مطمئن نہ تھے اس لیے اس پر بھی اعتراض کیا۔ اس آدمی نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ کیا میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس پر موسیٰ نے کہا کہ اب اگر میں نے کوئی سوال کیا تو آپ مجھے علیحدہ کر دیجیے گا۔

اب پھر دونوں اکٹھے آگے چلے اور ایک بستی میں جا پہنچے۔ بستی کے لوگ بڑے بے مروت تھے۔ انھوں نے دو معزز مہمانوں کی کوئی خاطر تواضع نہ کی۔ اس بستی میں ایک جگہ ایک دیوار گر چکی تھی۔ حضرت موسیٰ کے ساتھی نے اس کی تعمیر شروع کر دی۔ دیوار مکمل ہوگئی تو اس آدمی نے وہاں سے چلنے کا ارادہ کیا۔ موسیٰ نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام کا معاوضہ بھی وصول کر سکتے تھے۔ سوال سنتے ہی اس آدمی نے کہا کہ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آپہنچا ہے۔ جدا ہونے سے قبل میں آپ کو اپنے تمام کاموں کی توجیہات پیش کرنا چاہتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔ کشتی میں سوراخ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جس ساحل پر جا کر کشتی رکی تھی وہاں پر ایک غاصب بادشاہ کی حکومت تھی جو ہر بے عیب کشتی پر جبری قبضہ کیے جا رہا تھا۔ میں نے کشتی میں سوراخ کر دیا تاکہ کشتی کے مسکین مالک بادشاہ کے ظلم سے بچ جائیں۔ جس خوبصورت بچے کو میں نے قتل کیا وہ بڑا ہو کر اپنے والدین کے ایمان کے لیے خطرہ بننے والا تھا، اس کی موت کے بعد اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے والدین کو ایک صالح بچہ عطا فرمانے والے ہیں۔ تعمیر کی جانے والی دیوار ایک ایسے گھر کی تھی جو بستی کے دو یتیم بچوں کی ملکیت تھا جن کا باپ نیک آدمی تھا اور ان کے گھر کے نیچے خزانہ دفن تھا۔ خدا چاہتا تھا کہ بچے جوان ہو کر اپنے خزانے کو نکال لیں اور یہ ابھی کسی کے ہاتھ نہ لگے۔ جو کچھ بھی میں نے کیا اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خدا کے حکم پر کیا۔

یہ واقعہ علمِ لدنی کی حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ کامل علم خدا کے پاس ہے اور وہ جتنا علم کسی کو دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ رسول تھے لیکن خدا نے بعض معاملات کا علم اس دوسرے گمنام غیر معروف اور معاشرے میں اہم حیثیت نہ رکھنے ایک آدمی کو عطا فرمایا تھا جس سے موسیٰ واقف نہ تھے۔ مطلب یہ کہ اس دوسرے شخص کے پاس جو علم تھا وہ عام انسانوں کو دیا جانے والا ایک علم تھا جو کارِ نبوت یا کارِ رشد و ہدایت کے لیے ہرگز ضروری نہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دنیا میں جس جس آدمی پر جو مصیبت آتی ہے اس میں اللہ کی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے لہٰذا انسان کو اس کی رضا میں راضی رہنا چاہیے اور صبر و شکر اختیار کرنا چاہیے.

اس کے بعد اللہ رب العزت نے ذوالقرنین کا قصہ ذکر فرمایا ہے جو وسیع و عریض سلطنت کا مالک تھا. وہ ایک بستی کے پاس سے گزرا تو بستی والوں نے درخواست کی کہ سامنے پہاڑوں کے درمیان سے ایک مخلوق جسے قرآن نے یاجوج ماجوج سے تعبیر کیا ہے، اترتی ہے اور ہمارے کھیتوں کو تہس نہس کر دیتی ہے. لہٰذا ہمارے بچاؤ کی کوئی صورت کیجیے. ذوالقرنین نے اپنی فوج کے ساتھ مل کر پہاڑی درے کو سیسے سے بھر دیا جس سے یاجوج ماجوج کا راستہ بند ہو گیا. لیکن قرب قیامت میں یہ دیوار گر جائے گی اور یاجوج ماجوج پھر تباہی پھیلائیں گے.

سورہ کہف کے آخر میں اللہ تعالی نے اپنی توانائیوں کو محض دنیاوی زیب و زینت پر صرف کرنے والوں کے اعمال کو بدترین اعمال قرار دیا ہے جب کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہترین کاموں میں مشغول ہیں۔ اللہ کہتا ہے کہ ایسے لوگ میری ملاقات اور نشانیوں کا انکار کرنے والے ہیں اور ایسے لوگوں کے اعمال برباد ہو جائیں گے۔ نیز حضرت محمد علیہ السلام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں میں اعلان کریں کہ میں آدم کی اولاد ہونے کے اعتبار سے تمھاری ہی طرح کا انسان ہوں البتہ مجھ پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے اور خدا کی طرف رجوع صرف عمل صالح اور شرک سے بچنے سے حاصل ہوگا.

سورہ کہف کے بعد سورہ مریم ہے۔ اس میں اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ کی معجزاتی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔ جنابِ زکریا جنابِ مریم کے کفیل اور خالو تھے۔ ان کی عمر زیادہ ہونے کے سبب ان پر شیخوخت آ چکی تھی اور ان کی اہلیہ بھی کہولت زدہ تھیں. جب انھوں نے سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کے پاس بے موسمی پھل دیکھے تو سوچا کہ جو اللہ بے موسمے پھل دے سکتا ہے وہ اسباب کے بغیر اولاد بھی دے سکتا ہے لہٰذا انھوں نے اللہ سے دعا مانگی کہ اے پروردگار تو مجھے بھی صالح اولاد عطا فرما۔ اللہ نے جنابِ زکریا کی فریاد کو سن کر انھیں بڑھاپے میں جنابِ یحییٰ سے نواز دیا۔

اسی طرح جنابِ مریم کے پاس جبریل آتے ہیں اور ان کو ایک صالح بیٹے کی بشارت دیتے ہیں۔ آپ کہتی ہیں کہ کیا میرے ہاں بیٹا پیدا ہوگا جب کہ میں نے تو کسی مرد سے نزدیکی نہیں کی۔ جبریل کہتے ہیں کہ جب اللہ کسی کام کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا۔ وہ کُن کہتا ہے تو چیزیں رونما ہو جاتی ہیں۔ جب عیسیٰ پیدا ہوئے تو سیدہ مریم لوگوں کے طعن و تشنیع کے خوف سے بے قرار ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالی ان کے دل کو مضبوط فرماتے ہیں اور ان کو حکم دیتے ہیں کہ جب آپ کی ملاقات کسی انسان سے ہو تو آپ کو کہنا ہے کہ میں نے رحمٰن کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے اس لیے میں کسی کے ساتھ کلام نہیں کروں گی۔جب آپ بستی میں داخل ہوتی ہیں تو بستی کے لوگ آپ کی جھولی میں بچے کو دیکھ کر کہتے ہیں اے ہارون کی بہن، اے عمران کی بیٹی، نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں نے خیانت کی۔ تم نے یہ کیا کر دیا۔ جنابِ عیسیٰ نے مریم کی گود سے آواز دی: میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ گود میں لیٹے ہوئے بچے کی آواز سن کر لوگ خاموش ہو جاتے ہیں.

سورۃ مریم کی آخری آیات میں اللہ نے آپس میں محبت پیدا کرنے کا نسخہ ایمان اور عملِ صالح کو قرار دیا ہے۔

سورہ مریم کے بعد سورہ طہٰ ہے۔ ابتدائی آیات میں اللہ تعالٰی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی لوگوں کی اسلام سے دوری پر بے چینی کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ آپ پریشان نہ ہوں. یہ کتاب یعنی قرآنِ مجید ہم نے اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ اس کی وجہ سے تکلیف اٹھائیں. یہ کتاب تو اسے ہی نصیحت کرے گی جو اللہ کا خوف رکھے گا.

سورہ طہٰ میں اللہ تعالی نے جنابِ موسیٰ کی کوہِ طور پر اپنے ساتھ ہونے والی ملاقات کو ذکر کیا اور بتایا کہ جب موسیٰ طور پر تشریف لائے تو اللہ تعالی نے ان سے پوچھا کہ موسیٰ آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ جنابِ موسیٰ نے کہا کہ یہ میری لاٹھی ہے اور میں اس سے پتے جھاڑتا ہوں اور سہارا لیتا ہوں۔ اللہ نے ان کو لاٹھی زمین پر گرانے کا حکم دیا، جو گرتے ہی اژدھا کی شکل اختیار کر گئی جسے دیکھ کر موسیٰ خوف زدہ ہوگئے۔ اللہ نے اب اژدھے کو اٹھانے کا حکم دیا جو ان کے ہاتھ میں آتے ہی لاٹھی کی صورت اختیار کر گیا۔

اس واقعہ سے موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے ساری دنیا کو بتایا گیا کہ کسی بھی چیز کے اندر نفع یا نقصان اس کا ذاتی خاصہ نہیں ہے بلکہ خدا قادرِ مطلق ہے جو نفع والی چیز کو نقصان اور نقصان دینے والی چیز کو نفع دینے والی چیز میں بدل سکتا ہے۔

اس کے بعد اللہ نے جنابِ موسیٰ کو فرعون کے سامنے جاکر نرم گفتاری سے تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر موسیٰ نے اللہ سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار میرے سینے کو کھول دے، میرے معاملے کو آسان کر دے، میری زبان سے گرہ کو دور کر دے تاکہ لوگ میری بات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور میرے اہلِ خانہ میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے۔ اللہ نے جنابِ موسیٰ کی دعا کو قبول کیا۔ دونوں بھائی فرعون کے دربار میں آئے۔ فرعون نے اپنی قوم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آپ سے سوال کیا کہ میری قوم کے لوگ جو ہم سے پہلے مر چکے ہیں آپ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ جنابِ موسیٰ نے جواب دیا کہ ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے اور میرا پروردگار نہ کبھی بھولا ہے اور نہ کبھی گمراہ ہوا ہے۔ آخر الامر اللہ نے فرعون کو تباہ و برباد کر دیا اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔

اس کے بعد اللہ نے جنابِ موسیٰ کو اپنی ملاقات کے لیے بلایا۔ جب موسیٰ اللہ سے ہم کلام ہو رہے تھے تو قومِ موسیٰ نے ان کی عدم موجودگی میں سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔ موسیٰ جب واپس ہوئے تو اپنی قوم کو شرک کی دلدل میں اترا دیکھ کر غضبناک ہوئے اور جنابِ ہارون سے پوچھا کہ آپ نے اپنی ذمہ داری کیوں ادا نہیں کی۔ جنابِ ہارون نے کہا کہ میں نے ان پر سختی اس لیے نہیں کی کہ یہ لوگ کہیں منتشر نہ ہو جائیں۔ جنابِ موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انھوں نے سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کو آگ لگاکر اس کی راکھ کو سمندر میں بہا دیا اور اس جھوٹے معبود کی بے بسی، ناکارگی اور ناطاقتی کو بنی اسرائیل پر ثابت کر دیا۔

اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمان سے مینہ برسایا جس کے نتیجے میں کھیتوں نے غلہ اگایا جس سے انسان اور جانور فائدے حاصل کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ عقل والے لوگ ان انعامات میں کھو کر اپنی حقیقت کو نہیں بھولتے. وہ ہر وقت یاد رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان کی اس مٹی سے پرورش کی ہے اور آئندہ اسی مٹی میں وہ ڈالے جائیں گے اور روزِ قیامت اسی مٹی سے ان کا بدن اٹھایا جائے گا. اس لیے وہ اللہ تعالٰی کے انعامات کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال میں لاتے ہیں.

سورہ طہٰ کے آخر میں اللہ تعالٰی نے قرآن مجید سے اعراض کرنے والوں کو تنبیہہ فرمائی ہے. جو لوگ قرآن مجید کی تعلیمات پر توجہ نہیں دیتے ان کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور روز قیامت اندھے بنا کر پیش کیے جائیں گے. آخر میں اللہ تعالٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہیں کہ ان معاندین سے کہہ دیجیے کہ میں بھی منتظر ہوں اور تم بھی انتظار کرو، جلد اللہ تعالٰی فیصلہ فرما دیں گے کہ کون سیدھے راستے پر گامزن ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ مجید میں مذکور واقعات کو سمجھنے اور ان سے روشنی لیتے ہوئے زندگی کو گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

Thursday, May 7, 2020

Parah-15

پندرھویں پارے کا آغاز سورہ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ ارشاد ہے کہ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انھیں اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

ارشاد ہے کہ یہ قرآن مجید نیک اعمال کرنے والے مومنوں کے لیے بشارت ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اللہ تعالی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پوجا صرف اللہ تعالی کی ہونی چاہیے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ اگر وہ دونوں (والد والدہ) یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کو اُف بھی نہیں کہنا چاہیے اور نہ ان کو جھڑکنا چاہیے اور ان کو اچھی بات کہنی چاہیے اور ان کے سامنے محبت کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکانا چاہیے اور یہ دعا مانگنی چاہیے کہ پروردگار ان پر رحم کر جس طرح وہ بچپن میں مجھ پر رحم کرتے رہے۔

اللہ تعالی نے اس سورت میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کے حق ادا کرنا چاہییں اور فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے۔ بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے۔

ارشاد ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی ہر شخص کو اس کے امام کے نام سے بلائیں گے یعنی جس کی پیروی انسان کرتا ہے اسی کی نسبت سے انسان کو بلایا جائےگا۔ اس سورہ میں آیا ہے کہ اللہ نے بنی آدم کو اکرام والا بنایا ہے چنانچہ انسانیت کا احترام اللہ کا حکم ہے اور انسانیت کا احترام نہ کرنا حرام ہے اور ایسا کرنے والا حرامکار ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ فجر کے وقت فرشتے قرآن سننے کو حاضر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے نبی کریم علیہ السلام کو تہجد کی نماز ادا کرنے کا حکم دیا کہ یہ نماز آپ پر فرض ہے، اور اس کا سبب یہ بتلایا کہ آپ کو قیامت کے دن مقامِ محمود پر فائز کیا جائے گا۔ سورہ کے آخر میں ارشاد ہے کہ رب تعالی کو چاہے اللہ کہہ کر پکارو چاہے رحمان کہہ کر پکارو، اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اس کو جس نام سے چاہو پکارو۔

سورت اسراء کی خاص بات اس میں مذکور معاشرتی آداب ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، والدین کے ساتھ بھلائی کا رویہ اپناؤ، رشتہ داروں مسکینوں ناداروں کو ان کا حق دو، مال خرچ کرنے کے معاملہ میں اعتدال کا رویہ اپناؤ یعنی نہ فضول خرچی کرو نہ ہی مال پر سانپ بن کر بیٹھے رہو، اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو (اس میں Abortion کی طرف اشارہ ہے جس سے روکا گیا ہے)، کسی جان کا ناحق خون مت کرو، یتیم کا مال انصاف سے خرچ کرو، وعدہ کرو تو پورا کرو، ناپ تول میں کمی بیشی مت کرو، زمین پر اکڑ کر مت چلو، اور جس بات کا علم نہ ہو اس کی ٹوہ میں نہ لگو.

سورہ بنی اسرائیل کے بعد سورۃ کہف ہے۔ ارشاد ہے کہ قرآن مجید بشارت دیتا ہے نیک عمل کرنے والے مسلمانوں کو کہ ان کے لیے بڑے اجر کو تیار کیا گیا ہے۔ اس میں عیسائیوں اور یہودیوں کو ڈرایا گیا ہے جو عیسیٰ اور عزیر علیہما السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ نہ ان کے پاس علم ہے اور نہ ان کے آبا و اجداد کے پاس علم تھا اور یہ بات گھڑی ہوئی ہے۔ پس یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔

سورۃ کہف میں اللہ تعالی نے بعض مومن نوجوانوں کا ذکر کیا ہے جو وقت کے بے دین بادشاہ کے شر اور فتنے سے بچنے کے لیے ایک غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے۔ اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کے لیے انھیں تین سو نو برس کے لیے سلا دیا اور جب وہ بیدار ہوئے تو آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ ہم کتنا سوئے ہوں گے تو ان کا خیال تھا کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سوئے ہوں گے۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایسے واقعات بیان کر کے درحقیقت توجہ آخرت کی طرف مبذول کروائی ہے کہ جو اللہ تین سو نو برس سلا کر بیدار کر سکتا ہے کیا وہ قبروں سے مردوں کو برآمد نہیں کر سکتا؟

اس کے بعد جنابِ موسیٰ کا واقعہ ذکر ہوا۔ ہوا یوں کہ جناب موسیٰ ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے اجتماع میں موجود تھے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں۔ اللہ تعالی نے موسیٰ کو بہت بڑا مقام عطا کیا تھا لیکن یہ جواب اللہ تعالی کی منشا کے مطابق نہ تھا۔ اللہ تعالی نے جناب موسیٰ کو کہا کہ دو دریاؤں کے سنگم پر چلے جائیں، وہاں پر آپ کی ملاقات ایک ایسے بندے سے ہوگی جس کو میں نے اپنی طرف سے علم اور رحمت عطا کی ہے۔ جناب موسیٰ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو آپ کی ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ جناب موسیٰ نے اس سے پوچھا اگر میں آپ کے ہمراہ رہوں تو کیا آپ رشد و ہدایت کی وہ باتیں جو آپ کے علم میں ہیں مجھے بھی سکھلائیں گے۔ اس نے جواب دیا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اور آپ ان باتوں کی بابت کیونکر صبر کریں گے جن کا آپ جانتے ہی نہیں۔ جنابِ موسیٰ نے ان کو صبر کی یقین دہانی کرائی تو دونوں اکٹھے چل پڑے۔ کچھ چلنے کے بعد دونوں ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ جب اترنے لگے تو اس آدمی نے کشتی میں سوراخ کر دیا۔ موسیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی کہ جس کشتی میں سفر کیا اس میں سوراخ کر دیا۔ آپ نے کہا کہ تم نے یہ کیا کر دیا۔ اس نے کہا کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میر ے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ جناب موسیٰ نے کہا کہ آپ میرے بھول جانے پر مواخذہ نہ کریں اور نہ ہی میرے سوالات پر تنگی محسوس کریں۔

وہ آدمی اور موسیٰ پھر چل دیے۔ کچھ آگے جا کر ایک خوبصورت بچہ نظر آیا ۔ اس آدمی نے بچے کو قتل کر ڈالا۔ جناب موسیٰ سے نہ رہا گیا اور آپ نے پھر اس کے اس عمل پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ اس کا ذکر سولھویں پارے کے شروع میں کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس میں مذکور مضامین سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔

Parah-14

چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ اللہ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو تنقید کا نشانہ بناتے اور کہتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے، تو اللہ نے ان کے اعتراض کا جواب دیا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کے لیے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی. قرآنِ مجید کے نزول پر شک اور اعتراض کرنے والے کافروں سے مخاطب ہو کر اللہ نے کہا کہ بےشک ہم نے ہی ذکر (قرآنِ مجید) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اس سورت میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور ان کو شیطان کے شر سے محفوظ کیا مگر جو آسمان کی بات کو چرا کر زمین پر لانا چاہے تو اس کو اللہ شہابِ ثاقب سے نشانہ بناتا ہے۔ آگے قومِ لوط کی طرف روانہ کیے جانے والے فرشتوں کا بھی ذکر کیا ہے. یہ فرشتے جنابِ لوط کی طرف جانے سے قبل جناب ابراہیم کے پاس آئے۔ انھوں نے جنابِ ابراہیم کو ایک عالم فاضل بیٹے کی بشارت دی اور انھیں بتایا کہ ہم ایک مجرم قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اس قوم میں سے لوط کے گھرانے کے علاوہ ہر شخص کو ہلاک کر دیا جائے گا سوائے لوط کی بیوی کے کہ جس کے بارے میں ہمارا فیصلہ ہے کہ وہ ضرور مجرموں کے ساتھ پیچھے رہ جائے گی۔ اللہ کے فرشتوں نے لوط کی پوری بستی کو بلندی پر لے جا کر الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش کر دی۔

اس سورۃ میں اللہ نے اس امر کا بھی اعلان فرمایا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتا ہے، اس سے نبٹنے کے لیے خود اللہ کی ذات کافی ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کے ہر دشمن کو ذلت اور عبرت کا نشان بنا دیا۔ اس سورت میں یہ ارشاد بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات بار پڑھی جانے والی آیات اور قرآنِ عظیم یعنی سورہ فاتحہ عطا کی گئی ہے۔

سورۃ الحجر کے بعد سورۃ النحل ہے۔ اس میں ارشاد ہے کہ اللہ اپنے جس بندے پر چاہتے ہیں روح الامین کو فرشتوں کے ہمراہ نازل فرماتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ڈرائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں. یہ بھی بیان کیا گیا کہ انسانوں کے لیے انواع و اقسام کی سواریوں کو پیدا فرمایا گیا ہے۔ اللہ نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا اور وہ کچھ پیدا فرمایا جس کو انسان نہیں جانتا۔

اللہ نے دو خداؤں کے تصور کی نفی کی اور کہا انسانوں کو دو خدا نہیں پکڑنے چاہییں، بے شک وہ اکیلا اللہ ہے۔ ثنویت کا عقیدہ آتش پرستوں میں موجود تھا اور وہ دو خداؤں کی بات کیا کرتے تھے۔ اللہ نے ان کے عقیدے کو رد کیا. اللہ نے انسانوں کی توجہ مویشیوں کی طرف بھی مبذول کرائی اور کہا کہ چوپایوں میں انسانوں کے لیے عبرت ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ان کے پیٹوں سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو کہ خون اور گوبر کے درمیان سے نکلتا ہے لیکن اس میں نہ خون کی رنگت ہوتی ہے اور نہ فضلے کی گندگی۔ ارشاد ہے کہ پرندے کو فضائے بسیط میں اللہ ہی سہارا دیتا ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے گھروں کو ہمارے لیے جائے سکونت بنایا ہے، جو سکون انسان کو گھر میں حاصل ہوتا ہے وہ کسی دوسرے مقام پر حاصل نہیں ہوتا۔

ارشاد ہے کہ اللہ نے رسول پر قرآن مجید کو اس لیے نازل کیا کہ وہ لوگوں کو بیان کریں جو ان پر نازل کیا گیا ہے۔ گویا رسول کے فرامین اور آپ کی سنتیں قرآن مجید کے بیان کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اللہ نے کافروں کی ہرزہ سرائی کا ذکر کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ رسول پر قرآن نازل نہیں ہوا بلکہ حضرت محمد علیہ السلام روم کے ایک نومسلم (مراد صہیب رومی) سے سن کر اس کو آگے لوگوں کو سناتے ہیں۔ آپ کی طرف سے اللہ نے خود جواب دیا کہ جس آدمی کے بارے میں ان کا یہ گمان ہے کہ وہ رسول اللہ کو سکھلاتا ہے وہ تو عجمی ہے جب کہ رسول اللہ پر نازل ہونے والے قرآن کی زبان تو عربی مبین (صاف صاف) ہے۔ نیز قرآن مجید کو روح القدس نے رسول اللہ کے قلب پر نازل کیا تاکہ مومنوں کو ثابت قدم رکھا جائے، اور اس میں مسلمانوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔

اللہ نے سبا کی بستی کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس کو اللہ نے رزق اور امن کی جملہ نعمتوں سے نوازا تھا لیکن وہ لوگ اللہ کی ناشکری اور نافرمانی کے کاموں میں مشغول ہوگئے تو اللہ نے ان سے امن کو چھین کر خوف میں اور رزق کو چھین کر بھوک میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس واقعے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ قوموں کے امن اور معیشت کا تعلق اللہ کی فرمانبرداری کے ساتھ ہے اور جب کوئی قوم اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کا ارتکاب کرتی ہے تو اللہ اسے بدامنی اور بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اللہ نے جنابِ ابراہیم کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بے شک وہ اپنی ذات میں ایک امت تھے۔ وہ اللہ کے انتہائی فرمان بردار اور یکسو (حنیف) مسلمان تھے. انھوں نے کبھی شرک نہیں کیا۔ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔ اللہ نے ان کو قبول کر لیا تھا اور ان کو سیدھے راستے پر چلا دیا تھا۔

اس سورت کے آخر میں دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف بلانے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ دانشمندی سے اور اچھے انداز سے وعظ و نصیحت کریں اور پسندیدہ طریقہ سے بحث کریں۔ بے شک اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا ہوا اور کون ہدایت پر ہے۔ اعدائے دین کی تکلیفوں پر صبر کرنے کو اچھا عمل قرار دیا گیا ہے اور یہ کہ صبر اللہ کی ذات پر یقین رکھ کر ہی ہو سکتا ہے۔ بے شک اللہ تقوی اختیار کرنے والوں اور نیکوکاروں کےساتھ ہے۔ تائیدِ خداوندی حاصل کرنے کے لیے خدا کا ڈر اور نیکی کے راستے پر استقامت درکار ہے، جس انسان کو یہ دو چیزیں حاصل ہو جائیں گی اسے تائیدِ خداوندی حاصل ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن مجید کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

Parah-13

تیرھویں پارے کا آغاز سورۃ یوسف کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ حضرت یوسف جب جیل سے آزاد ہوگئے تو بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر بتانے کے عوضانے میں انھیں اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ ابتدائی طور پر وزیرِ خزانہ اور ازاں بعد عزیزِ مصر کے منصب پر فائز کیے گئے۔ آپ نے زرعی نظام کو بڑی توجہ سے چلایا اور خوشحالی کے سات سالوں میں مستقبل کے لیے بہترین پلاننگ کی یہاں تک کہ جب پوری معلوم دنیا میں قحط سالی عام ہوگئی تب مصر کی معیشت انتہائی مضبوط اور مستحکم ہوچکی تھی۔ قحط سالی اپنے عروج پر پہنچی تو غلے کے حصول کے لیے دنیا بھر سے قافلے مصر پہنچنا شروع ہوگئے۔ جنابِ یعقوب کے بیٹوں نے بھی مصر کا رخ کیا۔ جب وہ عزیزِ مصر کے محل میں داخل ہوئے تو یوسف اپنے بھائیوں کو پہچان گئے جب کہ بھائی آپ کو نہ پہچان سکے۔ آپ نے باتوں باتوں اپنے بھائیوں کو کہا کہ آتی دفعہ چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لانا۔ اگر تم اپنے چھوٹے بھائی کو نہ لائے تو تمھیں غلہ نہیں ملے گا اور ساتھ ہی جو پونجی ان کے بھائی غلہ خریدنے کے لیے لائے تھے اسے بھی ان کے سامان میں ڈال دیا۔

یوسف کے بھائی اپنے والد جنابِ یعقوب کے پاس واپس پہنچے تو انھوں نے عزیزِ مصر کی بہت تعریف کی اور بتایا کہ عزیزِ مصر کی خواہش تھی کہ ہم چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لائیں۔ جنابِ یعقوب نے کہا کہ کیا میں تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح میں نے اس سے قبل یوسف کے معاملے میں تم پر اعتماد کیا تھا۔ اس پر جنابِ یعقوب کے بیٹے خاموش ہوگئے۔ جب سامان کھولا گیا تو اس میں غلے کے ساتھ ساتھ پونجی بھی نکلی۔ اس پر یعقوب کے بیٹوں نے کہا دیکھیے بابا، عزیزِ مصر نے تو ہماری پونجی بھی ہمیں دے دی ہے۔ اب جنابِ یعقوب نے کہا کہ میں چھوٹے بھائی کو تمھارے ساتھ اس صورت میں روانہ کروں گا کہ تم اس کی حفاظت کی قسم کھاؤ۔ بیٹوں نے جنابِ یعقوب کے سامنے حلف لیا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ جب مصر میں داخلے کا وقت آئے تو علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونا۔

جب یوسف کے بھائی دوبارہ ان کے پاس پہنچے تو یوسف نے چھوٹے بھائی کو علیحدہ ایک طرف کرلیا اور ان سے کہا کہ میں تمھارا بھائی یوسف ہوں۔ اس کے بعد یوسف نے اپنا پیالہ اس کے سامان میں رکھوا دیا۔ جب قافلہ روانہ ہونے لگا تو اعلان کروایا گیا کہ قافلے والو تم چور ہو۔ جنابِ یعقوب کے بیٹوں نے جواب میں کہا کہ اللہ کی قسم ہم زمین پر فساد پھیلانے نہیں آئے اور نہ ہی ہم چور ہیں۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ اگر تم میں سے کسی کے سامان سے بادشاہ کا پیالہ برآمد ہوگیا تو اس کی کیا سزا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جو مجرم ہوگا وہ خود اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ سامان کی تلاشی لی گئی تو چھوٹے بھائی کے سامان سے پیالہ برآمد ہوگیا۔

یوسف کے بھائیوں نے اس موقع پر بڑے عجیب ردِعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر چھوٹے بھائی نے چوری کی ہے تو اس سے قبل ان کے بھائی یوسف نے بھی چوری کی تھی، اور کہا کہ آپ ہم بھائیوں میں سے کسی ایک کو پکڑ لیں۔ جنابِ یوسف نے کہا کہ معاذ اللہ ہم کسی مجرم کی جگہ کسی دوسرے کو کس طرح پکڑ سکتے ہیں۔ یوسف کے ایک بھائی نے کہا کہ میں تو واپس نہیں جاؤں گا جب تک بابا یعقوب مجھے اجازت نہیں دیں گے یا اللہ میرے حق میں کوئی فیصلہ نہیں فرما دیتا۔

یوسف کے بھائی جنابِ یعقوب کے پاس پہنچے اور ان کو چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی خبر دی تو جنابِ یعقوب نے بلند آواز سے یوسف کا نام لیا اور اتنی شدت سے روئے کہ آپ کی بینائی بھی گل ہوگئی۔ آپ نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اور یوسف اور ان کے بھائی کو تلاش کریں۔

یوسف کے بھائی دوبارہ مصر آئے تو حالت بدلی ہوئی تھی۔ افلاس اور فلاکت زدگی نے ان کی حالت غیر کر رکھی تھی۔ انھوں نے یوسف سے اپنی غربت کی شکایت کی اور صدقے کا تقاضہ کیا تو یوسف نے پوچھا کیا آپ بھول گئے جو آپ نے اپنے بھائی یوسف کے ساتھ کیا تھا۔ بھائیوں نے کہا کہ آپ یوسف کو کیسے جانتے ہیں؟ کہیں آپ ہی تو یوسف نہیں؟ جواب میں یوسف نے کہا کہ میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان کیا۔ بے شک جو صبر اور تقویٰ کو اختیار کرتا ہے تو اللہ نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ یوسف کے بھائی انتہائی شرمسار ہوئے اور انھوں نے آپ سے معافی چاہی تو آپ نے کہا کہ تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا اور اللہ بھی تمھیں معاف کرے۔ یوسف نے اپنے بھائیوں کو اپنی قمیص اتار کر دی اور کہا کہ اسے جنابِ یعقوب کے چہرے پر ڈالنا، ان کی بینائی واپس آجائے گی اور آئندہ ان کو بھی اپنے ہمراہ لانا۔

جنابِ یعقوب کے بیٹے جب آپ کی قمیص لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو انھوں نے اپنے گھر میں موجود بیٹوں سے کہا کہ مجھے میرے بیٹے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔ اس پر بیٹوں نے کچھ بے ادبی والے الفاظ کہے تو یعقوب خاموش ہوگئے۔ جب مصر سے آپ کے بیٹے پہنچے اور انھوں نے آپ کے چہرے پر قمیص ڈالی تو آپ کی بنیائی واپس آگئی۔ گھر میں موجود بیٹوں نے آپ سے معافی مانگی۔ آپ نے بیٹوں کو معاف کر دیا۔ سب اہلِ خانہ مصر کو روانہ ہوئے۔ جب یوسف کے پاس پہنچے تو آپ نے اپنے والد جنابِ یعقوب کو تخت پر بٹھا لیا۔ یعقوب اور ان کے گیارہ بیٹے جنابِ یوسف کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔ یوسف نے اس موقع پر خدا کا شکر ادا کیا اور دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار، مجھے اسلام پر موت دینا اور صالحین کے ساتھ ملا دینا۔

آخرِ سورت میں ارشاد ہے کہ زمین و آسمان میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر سے لوگ گزرتے ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں کرتے، اور اکثر لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر شرک کرتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ کہہ دیجیے کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں لوگوں کو سمجھ بوجھ کر اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میرے پیروکار بھی یہی کرتے ہیں۔ اللہ پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

ارشاد ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بستیوں میں رہنے والوں کی طرف مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔

ارشاد ہے کہ اس قصے میں عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ قرآن ایسی بات نہیں جو اپنے دل سے بنائی گئی ہو بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں یہ ان کی تصدیق کرنے والا ہےاور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا اور مومنوں کے لیے ہدایت و رحمت ہے۔

سورۃ یوسف کے بعد سورۃ الرعد ہے جس کے آغاز میں اللہ نے اپنی نعمتیں جتلاتے ہوئے بتایا ہے کہ اس نے انسانوں کے لیے انواع و اقسام کے پھل پیدا کیے۔ ارشاد ہے کہ ہر قوم میں ایک ہادی مبعوث فرمایا۔

ارشاد ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے، اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ٹھہر نہیں سکتی۔ فرمایا کہ بجلی کی کڑک اللہ کی حمد و ثنا کرتی ہے اور فرشتے اللہ کے خوف سے کانپتے ہیں۔

ارشاد ہے کہ اللہ نے آسمان سے مینہ برسایا اور اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے اور ہر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے نفع کی ہوتی ہے وہی زمین میں ٹھہری رہتی ہے۔ اس طرح اللہ صحیح اور غلط کی مثالیں بیان فرماتا ہے۔

ارشاد ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگئی اور جنھوں نے قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں اور وہ اتنے ہی اور خزانے اپنی نجات کے بدلے میں صرف کر ڈالیں تب بھی نجات کہاں؟

فرمایا کہ سمجھنے والے وہ ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے، اور جن رشتوں کو جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ ان لوگوں کے دل یادِ الٰہی آرام پاتے ہیں اور سن رکھو کہ دلوں کا سکون اللہ کی یاد سے حاصل ہوتا ہے۔

ارشاد ہے کہ پہلے والے بھی بہتیری چالیں چلتے رہے ہیں لیکن چال تو سب اللہ ہی کی ہے۔ ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کافر جلد معلوم کرلیں گے کہ عاقبت کا گھر کس کے لیے ہے۔

سورۃ الرعد کے بعد سورۃ ابراہیم ہے۔ اس کے شروع میں ارشاد ہے کہ ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انھیں اللہ کے احکام کھول کھول کر بتائے۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

ارشاد ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے جیسے پاکیزہ درخت، جس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں آسمان میں، اور اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا اور میوے دیتا ہو۔ اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔ اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی ہے کہ زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اور اس جڑ کو ذرا بھی قرار نہیں۔ اللہ مومنوں کو پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی رکھے گا۔

پھر حضرت ابراہیم کی اپنی اولاد کی دنیوی اور اخروی فلاح و بہبود کے لیے مانگی گئی بہت سی دعائیں ذکر کی گئی ہیں۔ ارشاد ہے کہ اے پروردگار مجھ کو ایسی توفیق عنایت کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی یہ توفیق بخش، اور اے پروردگار میری دعا قبول فرما۔ اے پروردگار حساب کتاب کے دن میری اور میرے ماں باپ کی اور مومنوں کی مغفرت فرمانا۔

ارشاد ہے کہ یہ قرآن انسانیت کے نام اللہ کا پیغام ہے تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہلِ عقل نصیحت پکڑیں۔

سورۃ ابراہیم کے بعدسورۃ الحجر ہے جس کی صرف پہلی آیت تیرھویں پارے میں ہے۔ اسے چودھویں پارے میں ذکر کیا جائے گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس میں بیان کردہ واقعات سے صحیح نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Parah-12

بارھویں پارے کا آغاز سورۃ ہود کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ ارشاد ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور اللہ اس کے ٹھکانے یعنی Habitat کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ سب کچھ روشن کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔

انسان کا حال ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ اگر ہم انسان کو نعمت بخش دیں اور پھر اس سے اس نعمت کو چھین لیں تو وہ ناامید اور ناشکرا ہو جاتا ہے، اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو وہ خوشیاں منانے اور فخر کرنے لگتا ہے۔ ہاں جنھوں نے صبر کیا اور نیک عمل کیے وہی ہیں جن کے لیے بخشش اور اجرِ عظیم ہے۔

ارشاد ہے کہ لوگ یہ کیا کہتے ہیں کہ محمد علیہ السلام نے قرآن ازخود بنا لیا ہے؟ کہہ دیجیے کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اپنی مدد کے لیے اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو، اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم سے اترا ہے اور تمھیں بھی اسلام لے آنا چاہیے۔

ارشاد ہے کہ جو لوگ دنیا کی زندگی اور زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ اور نہیں۔ ارشاد ہے کہ فریقین یعنی کفار و مومنین کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہرا ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟

اس سورت میں اللہ نے ان اقوام کا ذکر کیا جو اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے الوہی غضب کا نشانہ بنیں۔ حضرت نوح کی قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی جنھیں نوح علیہ السلام نے شرک سے باز رہنے کی تلقین کی مگر انھوں نے جنابِ نوح کا شدید مذاق اڑایا اور کہا کہ ہماری قوم میں تمھارے پیروکار وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں نہایت ادنیٰ درجے کے لوگ ہیں۔ اللہ نے جنابِ نوح کی مدد فرمائی اور آسمان سے بارش اور زمین سے یہاں تک کہ تنور سے سیلاب کی شکل میں پانی جاری کر دیا جس کی زد میں جنابِ نوح کا بیٹا اور نافرمان بیوی سمیت تمام کافر آگئے۔

اس کے بعد قومِ عاد کا ذکر ہے جو قومِ نوح کی طرح شرک کی بیماری میں مبتلا تھی۔ ان کے لیے بھیجے گئے نبی جنابِ ہود ان کو توحید کی دعوت دیتے رہے اور ترغیب دیتے رہے کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور توبہ کرو تاکہ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسا کر تمھاری طاقت بڑھائے لیکن انھوں نے ان کی ایک نہ سنی۔ قومِ عاد کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا۔ اللہ نے ایک طاقتور طوفانی ہوا کو ان پر مسلط کر دیا جس نے پوری قوم کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی طاقت پر ناز کرنے والے زمین پر یوں پڑے تھے جیسے کٹے ہوئے درخت کی شاخیں ہوتی ہیں۔

قومِ عاد کے بعد قومِ ثمود کے لیے اللہ نے اپنی ایک نشانی کو ظاہر فرمایا۔ ان کے نبی حضرت صالح کی دعا پر اللہ کے حکم سے بستی کی ایک بڑی پہاڑی پھٹی جس سے ایک اونٹنی نکلی جس نے فوراً ہی بچہ دیا، مگر بستی کے لوگوں نے اتنے بڑے معجزے کو دیکھ کر ایمان لانے کے بجائے اونٹنی کے پیروں کو کاٹ دیا۔ اس پر خدا ان سے ناراض ہوا اور ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کر دیا۔ فرشتے نے چیخ ماری اور اس چیخ کی آواز سے بستی کے لوگوں کے بھیجے پھٹ گئے۔

اس کے بعد قومِ لوط کا ذکر ہے جو ہم جنس پرستی کی بیماری کا شکار تھی۔ اللہ نے ان کی طرف عذاب والے فرشتے بھیجے اور انھیں حکم دیا کہ بدکاروں کی اس بستی پر عذاب کو مسلط کر دیں۔ فرشتوں نے بستی کو اپنے پروں پر اٹھا کر زمین پر پھینک دیا اور پوری بستی کو پتھروں سے کچل دیا۔

اس کے بعد قومِ مدین کا ذکر ہے جو شرک کے ساتھ ساتھ ناجائز منافع خوری کرتی تھی۔ اللہ نے ان پر اسی طرح کی چیخ کو مسلط کر دیا جیسی چیخ سے قومِ ثمود تباہ ہوئی تھی۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ اور فرعون کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہے کہ یہ پرانی بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض تو باقی ہیں اور باقی تہس نہس ہو چکی ہیں۔ ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا اور اللہ کے سوا جن معبودوں کو یہ پکارتے تھے ان میں سے کوئی ان کے کام نہ آ سکا۔

ارشاد ہے کہ ان قصوں میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو عذابِ آخرت سے ڈرے۔ یہی وہ دن ہوگا جس میں سب اکٹھے کیے جائیں گے اور سب اللہ کے روبرو حاضر کیے جائیں گے۔ اس دن کے آنے میں ہم ایک معین وقت تک کے لیے تاخیر کر رہے ہیں۔ اور جب وہ دن آ جائے گا تو کوئی متنفس اللہ کے حکم کے بغیر بول بھی نہ سکے گا۔ ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ جو بدبخت ہوں گے وہ آگ میں ڈالے جائیں گے اور چیخم چاخا کریں گے اور جو نیک بخت ہوں گے وہ بہشت میں داخل کیے جائیں گے اور جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

ارشاد ہے کہ دن کے دونوں سِروں میں یعنی صبح اور شام کے اوقات میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے ان کے لیے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں۔

سورۃ ہود کے بعد سورۃ یوسف ہے جس کے شروع میں ارشاد ہے کہ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔ یہ اس لیے ارشاد ہوا کہ قرآن جس نبی پر اور جس قوم والوں پر اترا وہ عرب تھے۔

اس سورت میں اللہ نے حضرت یوسف کے واقعہ کو بیان کیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ہم اس قرآن کے ذریعے جو آپ پر اتارا ہے، آپ کو ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں جس سے آپ پہلے بے خبر تھے۔ جنابِ یوسف نے بچپن میں ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کو سجدہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے والد حضرت یعقوب سے اپنا یہ خواب بیان کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اے بیٹے تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا کیونکہ وہ اسے سننے کے بعد حسد کا شکار ہوجائیں گے۔

ادھر یہ معاملہ ہو رہا تھا اُدھر جنابِ یوسف کے سوتیلے بھائی آپس میں مشورہ کر رہے تھے کہ ہم جوان ہیں لیکن ہمارے والد یعقوب صرف یوسف ہی سے پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ کسی بہانے سے بھائی یوسف کو والد سے علیحدہ کر دیا جائے تاکہ ہم ان کے منظورِ نظر بن سکیں۔ چنانچہ بھائی اکٹھے ہوکر جنابِ یعقوب کے پاس آئے اور کہا کہ آپ یوسف کو ہمارے ساتھ کیوں روانہ نہیں کرتے کہ وہ ہمارے ساتھ جنگل کی طرف جائے اور ہم اس کے ساتھ کھیلیں۔ جنابِ یعقوب نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم اپنے کاموں میں مصروف ہو جاؤ اور کوئی بھیڑیا اس کو نہ کھا جائے۔ بھائیوں نے کہا کہ بابا ہم جوان ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے کوئی بھیڑیا اس کو کھا جائے۔ جنابِ یعقوب نے یقین دہانیوں پر یوسف کو اپنے بیٹوں کے ساتھ روانہ کر دیا۔ یوسف کے بھائیوں نے انھیں ایک کنویں میں پھینک دیا اور رات کے وقت روتے ہوئے جنابِ یعقوب کے پاس آگئے کہ بھیڑیا یوسف کو کھا گیا ہے۔ اس پر جنابِ یعقوب نے کہا کہ میں صبر کروں گا۔ اللہ کو معلوم ہے کہ حقیقت کیا ہے۔

یوسف جس کنویں میں تھے وہاں سے ایک قافلے والوں کا گزر ہوا جنھوں نے پانی نکالنے کے لیے کنویں میں ڈول ڈالا۔ یوسف کنویں سے باہر نکل آئے۔ اہلِ قافلہ مصر جا رہے تھے۔ انھوں نے یوسف کو مصر کے ایک بڑے گھرانے میں فروخت کر دیا ۔ یوسف کی خوبصورتی اور وجاہت کو دیکھ کر اس گھر کے مالک نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ ہم یوسف کو اپنا بیٹا بنا لیتے ہیں، امید ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے گا۔ یوسف جب جوان ہوئے تو گھر کی مالکن ان پر بری نظر رکھنے لگی اور ایک دن اس نے ان کو برائی کی دعوت دی جسے یوسف نے ٹھکرا دیا۔ عورت نے یوسف پر برائی کا الزام لگایا لیکن اللہ نے محل میں ایک بچے کو قوتِ گویائی عطا کرکے جنابِ یوسف کو اس الزام سے بری کروا دیا۔

عزیزِ مصر کی بیوی فتنے کا شکار تھی۔ اس نے جنابِ یوسف کو مصر کی دیگر عورتوں کے ساتھ مل کر فتنے کا نشانہ بنانا چاہا تو یوسف نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے برائی سے بچاکر جیل میں پہنچا دے۔ اللہ نے دعا قبول فرما کر ان کو جیل میں پہنچا دیا۔ جیل میں آپ کی ملاقات دو قیدیوں سے ہوئی جنھیں آپ نے توحید کی دعوت دی۔ ان دونوں قیدیوں نے اپنے خواب یوسف کو سنائے۔ ایک قیدی نے خواب دیکھا کہ وہ انگوروں کو نچوڑ رہا ہے جب کہ دوسرے قیدی کو خواب آیا کہ اس کے سر پر روٹیاں ہیں اور پرندے چگ رہے ہیں۔ جنابِ یوسف نے فرمایا کہ ایک آدمی بادشاہ کا ساقی بنے گا جب کہ دوسرے کو پھانسی ہوگی۔ جس آدمی نے بادشاہ کا ساقی بننا تھا، اس کو جنابِ یوسف نے کہا کہ بادشاہ کو بتلانا کہ جیل میں ایک بے گناہ قیدی پڑا ہے لیکن آزاد ہونے والا قیدی یہ بات بھول گیا اور جنابِ یوسف کئی برس تک جیل میں قید رہے۔

اسی اثنا میں بادشاہ کو خواب آیا کہ سات پتلی گائیں سات موٹی گائیوں کو کھا رہی ہیں اور سات سرسبز بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں ہیں۔ اس پر بادشاہ کے ساقی کو جنابِ یوسف کی یاد آئی۔ اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت، جیل خانے میں ایک بہت بڑا عالم فاضل قیدی ہے جو اس کی صحیح تعبیر بتلا سکتا ہے۔ جنابِ یوسف نے تعبیر بتائی کہ آنے والے سات سال قحط سالی کے ہوں گے اور اس کے بعد خوشحالی اور ہریالی ہوگی۔ جنابِ یوسف کی تعبیر سننے کے بعد بادشاہ نے کہا کہ انھیں جیل سے بلایا جائے۔ یوسف نے کہا کہ جب تک میری علانیہ بے گناہی ثابت نہیں ہوگی میں جیل سے نہیں نکلوں گا۔ اس مطالبے پر عزیزِ مصر کی بیوی نے برملا جنابِ یوسف کو پاک دامن قرار دیا۔ اس پر جنابِ یوسف جیل سے باہر آنے پر آمادہ ہوگئے۔

حضرت یوسف کے واقعے کا باقی حصہ تیرھویں پارے میں بیان ہوگا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس میں بیان کردہ واقعات سے صحیح نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Parah-11

گیارھویں پارے کا آغاز سورۃ توبہ کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ نے مہاجر اور انصار میں سے ایمان میں سبقت لے جانے والے صحابہ کا ذکر کیا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے اپنی جنتوں کو تیار کر دیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور یہ بہت بڑا اجر ہے۔

اس کے بعد اللہ نے اس خوفناک حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ مدینہ میں رہنے والے بہت سے لوگ منافق ہیں۔ اگرچہ نبی کریم ان کو نہیں جانتے مگر اللہ ان سے اچھی طرح واقف ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو عام لوگوں کے مقابلے میں دو گنا عذاب دوں گا۔ پھر اللہ نے ان منافقین کا ذکر کیا ہے جو بغیر کسی سبب کے جنگِ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ ان منافقوں کے ذہن میں یہ بدگمانی موجود تھی کہ مسلمان تبوک کے محاذ پر شکست سے دوچار ہوں گے۔ اللہ نے اہلِ ایمان کی مدد فرمائی اور اپنے خاص فضل سے ان کو فتح یاب فرما دیا۔ اللہ نے اپنے نبی کو پیشگی اطلاع دی کہ آپ ان کے پاس پہنچیں گے تو وہ آپ کے سامنے عذر پیش کریں گے۔ ارشاد ہوا کہ آپ انھیں کہیں کہ بہانے نہ بناؤ، ہم تم پر یقین نہیں کریں گے۔ اللہ نے تمھاری خبریں ہمیں پہنچا دی ہیں اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمھاری حرکتوں پر نظر رکھیں گے۔ پھر تم اس ذات کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو حاضر اور غائب سب کا جاننے والا ہے تو وہ تمھیں تمھارے اعمال کی اصلیت سے آگاہ کرے گا۔

ارشاد ہے کہ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اس غرض سے مسجد بنائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنین میں تفرقہ ڈالیں۔ ارشاد ہے کہ تم اس مسجد میں جاکر کبھی کھڑے بھی نہ ہونا البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہو وہ اس قابل ہے کہ اس میں جایا کرو۔

نیز ارشاد ہے کہ نیکی کرنے والوں نے اگر اللہ کی راہ میں کوئی چھوٹی بڑی رقم خرچ کی یا کسی وادی کو طے کیا تو اس عمل کو ان کے نامہ اعمال میں لکھ دیا گیا ہے تاکہ اللہ ان کے کاموں کا اچھا بدلہ عطا فرمائے۔

غزوہ تبوک کے موقع پر صحابہ سے مالی تعاون کے تقاضے اور ان کے چندہ دینے کے بارے میں اللہ فرماتا ہے کہ بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے جنت کا سودا کر لیا ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اللہ کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور خود بھی اللہ کے راستے میں قتل ہوتے ہیں۔ اللہ نے اس تجارت کو انتہائی فائدہ مند تجارت قرار دیا۔

اللہ نے صحابہ کے بعض امتیازی اوصاف کا بھی ذکر کیا ہے کہ صحابہ کرام توبہ کرنے والے، اللہ کی عبادت کرنے والے، اللہ کی حمد کرنے والے، زمین میں پھرنے والے، اللہ کے سامنے جھکنے والے، اس کے سامنے سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے تھے، اور ایسے ہی مومنوں کے لیے خوشخبری ہے۔

اس سورت میں اللہ نے دینی علم کو فرضِ کفایہ قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ تمام مومنوں کے لیے ضروری نہیں کہ اپنے آپ کو دینی تعلیم کے لیے وقف کریں بلکہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر گروہ میں سے کچھ لوگ اپنے آپ کو دینی تعلیم کے لیے وقف کریں تاکہ جب اپنی قوم کی طرف پلٹیں تو ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرا سکیں۔

سورت توبہ کے آخر میں اللہ نے اپنے نبی کی صفات کا ذکر کیا ہے کہ تم میں سے ایک رسول تمھارے پاس آیا جو کہ کافروں پر زبردست ہے، مسلمانوں پر لالچ رکھتا ہے کہ وہ جنت میں چلے جائیں اور مومنوں پر رحم کرنے والا ہے۔ پس اگر وہ رسول کی ذات اور ان کے پیغام سے روگردانی کریں تو رسول اعلان فرما دے کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

سورۃ توبہ کے بعد سورۃ یونس ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ کیا انسانوں کے تعجب کی بات ہے کہ انہی میں سے ایک مرد پر وحی نازل کی جائے جو اس کے ذریعے ان کو ڈرائے۔ ارشاد ہوا کہ اللہ نے سورج اور چاند کو روشنی عطا کی اور چاند کی منازل کو بھی طے کیا تاکہ تم اس کے ذریعے سال اور مہینوں کا حساب لگاؤ۔ ارشاد ہے کہ بےشک زمین اور آسمان کی تخلیق اور رات اور دن کے آنے جانے میں اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

ارشاد ہے کہ اے لوگو! تم تک تمھارے رب کی نصیحت آ پہنچی ہے جو شفا ہے سینے کی بیماریوں کے لیے اور رحمت ہے اہلِ ایمان کے لیے۔ اے نبی، آپ اعلان فرمائیے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے اہلِ ایمان کو خوش ہو جانا چاہیے اور یہ قرآن ہر اس چیز سے بہتر ہے جسے تم اکٹھا کرتے ہو۔ مزید ارشاد ہے کہ خبردار رہو کہ اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم، اور ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایمان والے اور تقویٰ اختیار کرنے والے ہوں گے۔

اس کے بعد اللہ نے فرعون کا ذکر کیا ہے کہ اس کے خوف کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لوگ ایمان لانے سے کتراتے تھے۔ بنی اسرائیل کی مرعوبیت دیکھ کر حضرت موسیٰ نے دعا مانگی کہ اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے مصاحبوں کو دنیا کی زینت اور مال عطا کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو تیرے راستے سے برگشتہ کرے۔ اے مالک، تو ان کے مال و دولت کو نیست و نابود فرما اور ان کے دلوں کو سخت بنا تاکہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔

حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے لوگوں کو لے کر نکلے تو فرعون نے اپنے لشکر سمیت ان کا تعاقب کیا۔ موسیٰ دریا پار کر گئے تو اللہ نے اس کی لہروں کو آپس میں ملا دیا۔ فرعون دریا کے وسط میں غوطے کھانے لگا۔ اس حالت میں فرعون نے پکار کر کہا کہ میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں اس کے سوا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اللہ نے فرعون کا ایمان قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ کیا اب ایمان لائے ہو؟ اس سے پہلے تک تو تو نافرمانی اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ پس آج ہم تیرے جسم کو دریا سے نکال لیں گے تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے نصیحت بنے۔

اس سورت میں قومِ یونس کا بھی ذکر ہے کہ جب حضرت یونس اپنی قوم کی نافرمانیوں پر ناراض ہوکر ان کو خیرباد کہہ دیتے ہیں تو وہ اللہ سے باجماعت اپنے گناہوں پر معافی مانگ لیتے ہیں۔ اللہ ان کی اجتماعی توبہ اور استغفار کی وجہ سے ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔

سورت یونس کے آخر میں ارشاد ہے کہ تم سب یکسو ہوکر دینِ اسلام کی پیروی کیے جاؤ اور مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا۔ اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو تمھارا نہ بھلا کر سکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ ارشاد ہے کہ اے نبی، جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کیے جائیے اور تکلیفوں پر صبر کیجیے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے۔ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

اس کے بعد سورت ہود شروع ہوتی ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔ ارشاد ہے کہ تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین