Pages

Monday, May 4, 2020

Parah-07

ساتویں پارے کے شروع میں نرم دل اور ایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں اور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے، ہمارا نام بھی اسلام کی گواہی دینے والوں میں لکھ دے۔ یہ آیت اس وقت نجاشی شاہِ حبشہ کی شان میں اتری جب قرآن کی تلاوت سن کر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے اور اس نے اپنا شمار اسلام کی گواہی دینے والوں میں کروا لیا۔

اہلِ ایمان سے مخاطب ہو کر ارشاد ہوتا ہے کہ انھیں پاک چیزوں کو خود پر حرام نہیں کرنا چاہیے اور اللہ کے دیے پاک رزق کو کھانا چاہیے اور اس سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ نیز ارشاد ہےکہ اللہ انسان کی بلاارادہ کھائی قسموں پر مواخذہ نہیں کرتا لیکن جب کسی قسم کو پوری پختگی سے کھایا جائے تو ایسی صورت میں انسان کو اس قسم کو پورا کرنا چاہیے۔

اس کے بعد شراب اور دیگر کچھ چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ اے ایمان والو، بے شک شراب، جوا، بت گری اور پانسہ ناپاک اور شیطانی کام ہیں۔ پس تم ان سے بچو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔ بے شک شیطان جوئے اور شراب کے ذریعے تمھارے درمیان دشمنی اور عداوت پیدا کرنا چاہتا ہے اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکنا چاہتا ہے، تو کیا تم لوگ باز آ جاؤ گے؟

اس کے بعد سمندری شکار کو حلال قرار دینے کا ذکر ہے اور حالتِ احرام میں خشکی کے شکار سے منع کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے عزت کے گھر یعنی کعبہ کو لوگوں کے لیے موجبِ امن قرار دیا ہے۔ نیز یہ بھی ذکر ہے کہ پیغمبر کے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے، اور جو کچھ تم سامنے اور پوشیدہ کرتے ہو وہ اللہ کو معلوم ہے۔ ارشاد ہے کہ اچھا اور برا برابر نہیں ہو سکتے خواہ برے کی کثرت تمھیں حیرانی میں ڈال دے۔

اس پارے میں اللہ نے بکثرت سوال کرنے سے بھی روکا ہے۔ کئی مرتبہ کثرتِ سوال کی وجہ سے جائز اشیا بھی حرام ہو جاتی ہیں۔ وصیت کرنے اور گواہی کو چھپانے والے کے بارے میں احکام بھی یہیں نازل ہوئے ہیں۔ نیز اسی موقع پر نبیوں کو دیے گئے علمِ غیب کا تذکرہ ہے۔ ارشاد ہے کہ وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے جب اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمھیں کیا جواب ملا تھا تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں، تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔

اس کے بعد حضرت عیسیٰ کے حواریوں کی باتوں کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ سے کہا کیا آپ کا رب ہمارے لیے آسمان سے دسترخوان اتار سکتا ہے۔ حواریوں کے اس بلاجواز مطالبے پر انھیں تنبیہہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ اللہ سے ڈر جاؤ اگر تم مومن ہو۔ حضرت عیسیٰ کی اس نصیحت کے جواب میں حواریوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور اپنے دلوں کو مطمئن کریں اور ہم جان لیں کہ ہمیں سچ بتایا گیا ہے اور اس پر گواہ رہیں۔ اس اصرار پر حضرت عیسیٰ نے دعا مانگی کہ اے ہمارے پروردگار، ہمارے اوپر آسمان سے دسترخوان نازل فرما جو ہمارے اول اور آخر کے لیے عید اور تیری جانب سے ایک نشانی بن جائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہت ہی بہتر رزق دینے والا ہے۔ اس دعا پر خدا نے فر مایا کہ میں دستر خوان تمھارے لیے اتاروں گا، پھر جو کوئی تم سے اس کے بعد کفر کرے گا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا ہوگا۔

سورۃ المائدہ کے آخر میں اس بات کا ذکر ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ سے پوچھیں گے کہ کیا انھوں نے لوگوں کو کہا تھا کہ ان کی اور ان کی والدہ مریم صدیقہ کی پوجا کی جائے۔ آپ کہیں گے کہ یا اللہ میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہوں جسے کہنے کا مجھے حق نہیں۔ میں تو ان کو ہمیشہ یہی کہتا رہا کہ میرے اور اپنے اللہ کی پوجا کرو۔ پھر حضرت عیسیٰ کا جملہ منقول ہے کہ اے اللہ اگر تو ان لوگوں کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کی مغفرت فرما دے تو تو غالب حکمت والا ہے۔

سورۃ المائدہ کے بعد سورۃ الانعام ہے جس کے شروع میں ارشاد ہے کہ ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو زمین اور آسمان کا خالق ہے اور جس نے اندھیروں اور اجالوں کو پیدا کیا لیکن کافر پھر بھی اس کا شریک بناتے ہیں۔ انسان کی تخلیق کا ذکر ہے اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس کو رہنے کا ایک وقت دیا، پھر ایک مخصوص مدت کے بعد اس کو زندہ کیا جائے گا لیکن انسان ہے کہ دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں شک کا شکار ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ ہی ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے جو وہ کماتا ہے۔ ارشاد ہے کہ دن اور رات میں جو کچھ بھی موجود ہے اسی کا ہے اور وہ سننے جاننے والا ہے۔

اس سورت میں ارشاد ہے کہ اگر اللہ انسان کو کوئی گزند پہنچانا چاہے تو اس کو کوئی نہیں ٹال سکتا اور اگر وہ اس کو خیریت سے رکھے تو بھی وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ آگے ذکر ہے کہ کافروں کے طعن و تشنیع رسولِ اکرم کو دکھ پہنچاتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی کو ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ درحقیقت آپ کو نہیں بلکہ مجھ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ اللہ کے پاس غیب کے خزانوں کی چابیاں ہیں اور ان کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ خشکی اور سمندر میں جو کچھ بھی موجود ہے اللہ اس کو جانتا ہے اور کوئی پتہ جو زمین پر گرتا ہے اللہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی ذرہ جو زمین کے کسی اندھیرے مقام پر پڑا ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے۔

اس سورت میں اللہ نے حضرت ابراہیم کے اپنی قوم کی بت پرستی کی بھرپور طریقے سے مذمت کا ذکر کیا ہے۔ بت پرستی کی مذمت کے ساتھ ساتھ آپ نے اجرامِ فلکی کی حقیقت کو بھی پا لیا۔ جگمگ کرتے ستارے، چاند اور سورج کو ڈوبتا دیکھ کر آپ نے اعلان کر دیا میں قوم کے شرک سے بری ہوں اور اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے زمین و آسمان کو بنایا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں۔

اس پارے کے آخر میں ارشاد ہے کہ لوگوں نے اللہ کی قدر جیسی جاننی چاہیے تھی نہ جانی ۔ ارشاد ہوا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو یہ کہے مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو، اور جو یہ کہے جیسی کتاب اللہ نے نازل کی ہے ویسی میں بھی بنا لیتا ہوں۔

ارشاد ہے کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور اس کی اولاد کیسے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے۔ وہ اللہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک کر ہی نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کر سکتا ہے۔

مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جو مشرک غیراللہ کے پجاری ہیں ان کو گالی نہ دیں۔ یہ لوگ جواب میں اللہ کو گالی دیں گے۔ یہ لوگ اللہ کی سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ ایمان لے آئیں گے۔ ان سے کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو سب اللہ کے پاس ہیں۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس اگر نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Parah-06

چھٹا پارہ اس اعلان سے شروع ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ غلط بات کو پسند نہیں کرتا لیکن اگر کوئی مظلوم شخص اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ ارشاد ہے کہ کفار اللہ اور اس کے رسول کے درمیان تفریق کرتے ہیں یعنی اللہ کی بات کو مانتے ہیں لیکن رسول کی بات کو نہیں مانتے، یا اللہ کے بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں یعنی حضرت موسی و عیسیٰ علیہما السلام کو تو مانتے ہیں لیکن حضرت محمد کا انکار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ حق سے انکاری ہیں۔ مومنوں کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کو بیک وقت مانتے ہیں یعنی اللہ کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں۔

ارشاد ہے کہ یہود حضرت مریم صدیقہ کی کردار کشی کیا کرتے تھے حالانکہ وہ پاک دامن عورت تھیں۔ ارشاد ہے کہ یہود اپنی دانست میں عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر چکے تھے جب کہ اللہ فرماتا ہے کہ عیسیٰ کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی دی گئی بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اسی طرح یہود کو اللہ نے سود کھانے سے روکا تھا لیکن وہ اس غلط کام میں مسلسل ملوث رہے، اللہ نے ان کافروں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ لیکن اہلِ کتاب کے پختہ علم والے لوگ جو قرآن اور سابقہ الہامی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور نمازوں کو قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آخرت پر ایمان لے آتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم تیار کر دیا ہے۔

سورۃ نساء کے آخر میں اللہ نے قرآنِ مجید کو اپنی دلیل اور واضح روشنی قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ جو قرآنِ مجید کو مضبوطی کے ساتھ تھامے گا، خدا اس کو اپنے فضل اوررحمت میں داخل فرمائے گا اور اس کو صراطِ مستقیم پر چلائے گا۔ آخرِ سورت میں کلالہ کے ترکے کے بارے میں احکام ذکر کیے گئے ہیں۔

سورۃ نساء کے بعد سورۃ مائدہ ہے جس کے شروع میں اللہ نے اہلِ ایمان کو اپنے وعدے پورے کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ انھیں کامیابی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد دس چیزوں کی حرمت بیان کی گئی ہے: مرا ہوا جانور، بہتا ہوا خون، سور کا گوشت ، جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، جو جانور گُھٹ کر مر جائے، جو جانور چوٹ لگ کر مر جائے، جو جانور گر کر مر جائے، جو جانور سینگ لگ کر مر جائے، وہ جانور جس کو درندے پھاڑ کھائیں مگر وہ جسے تم مرنے سے پہلے ذبح کرلو، اور پانسوں سے قسمت کا حال معلوم کرنا۔

ارشاد ہے کہ آج کافر تمھارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں، ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرو۔ آج ہم نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمھارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو مومن عورتوں کے ساتھ ساتھ اہلِ کتاب کی پاک دامن عورتوں سے بھی نکاح کی اجازت دی ہے، ان کے مہر ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کی عفت قائم رکھنے اور ان سے کھلی بدکاری اور چھپی دوستی نہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ بین المذاہب شادیاں معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مودت پیدا کرنے کے طریقوں میں سے موثر ترین طریقہ ہے جسے قرآنِ مجید نے جاری کیا۔

اس کے بعد پاکی کا بیان ہے۔ وضو کا طریقہ ذکر کیا گیا ہے کہ چہرے اور بازوؤں کو کہنیوں تک دھویا جائے اور سر اور پاؤں کا مسح کیا جائے۔ نیز بیماری اور سفر کی حالت میں مٹی سے تیمم کا ارشاد ہوا۔

اللہ تعالیٰ عیسائیوں کے اس قول کو رد فرماتے ہیں کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کہتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ اگر خدا عیسیٰ علیہ السلام، ان کی والدہ مریم صدیقہ اور زمین پر جو کوئی بھی موجود ہے ان کو فنا کے گھاٹ اتار دے تو اسے کون پوچھ سکتا ہے؟

پھر حضرت موسیٰ کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نےتم پر جو انعامات کیے ہیں ان کو یاد کرو۔ تم میں انبیا مبعوث کیے گئے اور تم کو بادشاہت عطا کی گئی اور تم کو وہ کچھ عطا کیا گیا جو کائنات میں کسی دوسرے کو نہیں ملا۔ خدا کے احسانات کا احساس دلانے کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم تم لوگ ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ۔ فرمایا کہ اگر تم لوگ ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ گے تو یقینًا تم غالب آؤ گے۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اس حوصلہ افزا بات کو سن کر بھی لوگ بزدل بنے رہے اور کہنے لگے: اے موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں رہیں گے ہم لوگ کبھی وہاں نہیں جائیں گے۔ تم اور تمھارا رب جائے اور جنگ کرے، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ موسیٰ اس سارے منظر کو دیکھ کر رنجیدہ ہوئے اور خدا سے یوں گویا ہوئے کہ اے میرے رب مجھے اپنے اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر اختیار نہیں۔ پس تو ہمارے اور نافرمانوں کے درمیان فیصلہ کر دے۔ القصہ اپنے نبی کی اس نافرمانی کی وجہ سے بنی اسرائیل منزل سے بھٹک گئے اور چالیس برس تک دربدر پھرا کیے۔

اس سورت میں حضرت آدم کے دو بیٹوں کے اختلاف کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ نے ایک بیٹے کی قربانی کو قبول کر لیا جب کہ دوسرے کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ جس کی قربانی قبول نہیں ہوئی تھی اس نے اپنے بھائی کو حسد کا شکار ہو کر بلاوجہ قتل کر دیا۔ حضرت آدم کے بیٹوں کے واقعہ کو بیان فرما کر اللہ نے انسان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ ارشاد ہے کہ جو ایک انسان کا ناحق قتل کرتا ہے وہ ایک انسان کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا قتل کرتا ہے اور جو ایک انسان کی زندگی کا سبب بنتا ہے وہ ایک انسان کو زندہ نہیں کرتا بلکہ پوری انسانیت کو زندہ کرتا ہے۔

اس سورت میں زمین میں فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت سزا ذکر کی گئی ہے۔ ارشاد ہے زمین میں فساد پھیلانے والوں کو پھانسی دے دینی چاہیے یا ان کو قتل کر دینا چاہیے یا ان کے ہاتھ پاؤں کو کاٹ دینا چاہیے یا ان کو جلاوطن کر دینا چاہیے۔ یہ دنیا میں ان کے کیے کی سزا ہے، اور آخرت کا عذاب تو انتہائی درد ناک ہے۔

نیز ارشاد ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اس سے قریب ہونے کے لیے وسیلہ پکڑا کرو، اور فلاح حاصل کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کیا کرو۔ اس کے بعد چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت، اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔

اللہ نے یہود و نصاریٰ سے دوستی کی مذمت کی ہے اور فرمایا ہے کہ جو ان سے دِلی دوستی رکھتا ہے وہ انہی میں سے ہے۔ اس کے بعد اللہ نے یہودیوں کے ذاتِ باری کے بارے میں منفی اقوال پیش کیے ہیں۔ یہودی کہتے تھے کہ اللہ کا ہاتھ تنگ ہے۔ ارشاد ہوا کہ ان کے اپنے ہاتھ تنگ ہیں اور ان پر لعنت ہو اپنے قول کی وجہ سے۔ اللہ نے کہا کہ اس کے ہاتھ کھلے ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔

نیز رسولِ کریم علیہ السلام سے بطورِ خاص ارشاد ہے کہ آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے وہ سب کا سب لوگوں تک پہنچا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ اللہ کا پیغام پہنچانے سے قاصر رہے۔

چھٹے پارے کے آخر میں اللہ نے اس بات کو ذکر کیا ہے کہ جنابِ داؤد اور عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے کافروں پر اس لیے لعنت کی کہ وہ برائی کے کاموں سے روکنے کے بجائے خود ان میں ملوث ہو چکے تھے اور ان کا یہ فعل انتہائی برا تھا۔ چنانچہ ہم مسلمانوں کو برائی کے کام سے روکنے کی تلقین کی گئی ہے۔

Parah-05

چوتھے پارے کے آخر میں ان رشتوں کا ذکر ہے جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ پانچویں پارے کے آغاز میں یہی مضمون چل رہا ہے اور اللہ نے نکاح کے لیے چنی جانے والی عورتوں کے اوصاف کا ذکر فرمایا ہے کہ نہ ان میں برائی کی علت ہونی چاہیے اور نہ غیر مردوں سے خفیہ مراسم پیدا کرنے کی بری عادت۔ اسی طرح انسان جب کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو اسے عورت کے اہلِ خانہ کی اجازت سے یہ کام کرنا چاہیے۔

مومنوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ ان کو باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ باہمی رضا مندی سے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کیا کریں۔ نیز خدا نے اپنے بندوں کو خوشخبری بھی دی ہے کہ اگر وہ بڑے گناہوں سے بچ جائیں گے تو وہ ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور ان کو جنت میں داخل فرما دے گا۔

سماج کی بنیادی اکائی گھر ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے گھریلو سطح پر اختیارات کا تعین ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ مرد عورتوں پر نگران کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ میاں بیوی میں ان بن ہو تو میاں اور بیوی دونوں کے خاندانوں سے منصف مقرر کرنے اور صلح کرانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز والدین، قریبی اعزہ و اقارب، یتیموں، مسکینوں، اور قریبی اور دور کے ہمسایوں سے حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

آگے ارشاد ہے کہ اے ایمان والو, نماز کے قریب نہ جاؤ جب کہ تم نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تمھیں معلوم ہو جائے کہ کیا کہہ رہے ہو، اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ غسل کرلو۔ نیز تیمم کے مسائل کا ذکر بھی اسی موقع پر کیا گیا ہے۔

اس کے بعد زبانیں مروڑ مروڑ کر خدا کے کلام میں الفاظ اور معانی بدلنے والے علما کا ذکر ہے اور ان پر لعنت کی گئی ہے۔ اللہ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خدا شرک کے علاوہ ہر گناہ کو معاف کر دے گا لیکن شرک کو کسی بھی طور پر معاف نہیں کرے گا۔ اس کے بعد حسد کی شدید مذمت کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ حسد کرنے والے لوگ درحقیقت اللہ کے فضل اور عطا سے حسد کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم کی آل پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر ہے کہ اللہ نے اپنے فضل سے ابراہیم کی آل کو نبوت اور حکومت سے نوازا تھا۔

اس کے بعد ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے پاس پہنچا دو۔ امانتوں میں اللہ اور بندوں دونوں کی امانتیں شامل ہیں۔

اس پارے میں سماجی اور حکومتی نظام کے چلانے کا اسلامی طریقہ بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار والوں کی، اور پھر اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔

اس کے بعد حضرت محمد علیہ السلام کی اطاعت کی اہمیت کا ذکر ہے کہ جو رسول اللہ کی اطاعت کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ مزید ارشاد ہوا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صلحاء کے ہمراہ ہوں گے۔

اس پارے میں تحفے اور سلام کے جواب کے آداب بھی بتلائے گئے ہیں کہ جب کوئی کسی کو سلام کہے یا تحفہ دے تو ایسی صورت میں بہتر تحفہ پلٹانا چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم اتنا جواب اور اتنا تحفہ ضرور دینا چاہیے جتنا وصول کیا گیا ہو۔

آگے دارالکفر میں رہنے والے مسلمانوں کا ذکر ہے کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض اور واجبات کو احسن انداز میں ادا کریں لیکن اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو ان کو اس ملک سے ہجرت کر جانی چاہیے۔ اگر وہ ہمت اور استطاعت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتے تو ان کو اللہ کی بارگاہ میں جوابدہ ہونا پڑے گا تاہم ایسے لوگ اور عورتیں جو معذوری اور بڑھاپے کی وجہ سے ہجرت سے قاصر ہوں تو اللہ ان سے مواخذہ نہیں کریں گے۔

اس پارے میں نماز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ نماز حالتِ جہاد میں بھی معاف نہیں ہے تاہم جہاد اور سفر کے دوران نماز کو قصر کیا جا سکتا ہے۔ خوف اور جنگ کی حالت میں فوج کے ایک حصہ کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے جب کہ ایک حصے کو نماز ادا کرنا چاہیے اور جونہی امن حاصل ہو جائے، نماز کو بروقت اور احسن انداز میں ادا کرنا چاہیے۔

آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت میں ارشاد ہے کہ جو کوئی ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول اللہ کی مخالفت کرے گا خدا اس کا رخ اس کی مرضی کے راستے کی طرف موڑ دے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔

منافقین کے بارے میں ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی چالوں سے خدا کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ اس کو کیا دھوکہ دیں گے کیونکہ خدا خود انھیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔ یہ جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہوکر صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے، اور خدا کو یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم۔ یہ لوگ بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں، نہ ان کی طرف ہوتے ہیں نہ ان کی طرف۔ جس کو خدا بھٹکا دے تو تم اس کے لیے کبھی رستہ نہ پاؤ گے۔ اور ایمان والوں سے ارشاد ہے کہ تم اپنے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ۔ ارشاد ہے کہ منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔

اس پارے کے آخر میں خدا نے اپنی رحمت کے بارے میں اپنے بندوں کو بتایا ہے کہ اگر لوگ اللہ کی ذات پر ایمان لے آئیں اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں تو اللہ کو انھیں عذاب دینے کی کیا ضرورت ہے؟

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Parah-04

چوتھے پارے کا آغاز خدا کے لیے خرچ کرنے کی ترغیب سے ہوتا ہے۔ ارشاد ہے کہ تم اس وقت تک بھلائی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہ کرو جو تمھیں محبوب ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو خدا اس سے خوب واقف ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پہلا گھر مکہ مکرمہ میں تعمیر کیا گیا تھا اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔ ارشاد ہے کہ جو بھی اس گھر میں داخل ہوتا ہے اس کو امن حاصل ہو جاتا ہے۔ نیز یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر اہلِ ایمان اہلِ کتاب کے کسی گروہ کی اطاعت اختیار کریں گے تو وہ ان کو ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں گے۔

ارشاد ہوا کہ جس نے خدا کی ہدایت کی رسی کو مضبوط پکڑا وہ سیدھے راستے پر لگ گیا۔ اے مومنو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔ اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اللہ کی رسی سے مراد وحیِ غیر محرف یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر مسلمان مضبوطی کے ساتھ قرآن کو تھام لیں تو ان کے باہمی اختلافات بآسانی دور ہو سکتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن اہلِ ایمان کے چہرے سفید اور ایمان کو ٹھکرانے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ سفید چہروں والے خدا کی رحمتوں کے مستحق ٹھہریں گے جب کہ سیاہ چہروں والے اپنے کفر کی وجہ سے شدید عذاب سے دوچار ہوں گے۔

ارشاد ہے کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کو کہا کرے اور برے کاموں سے رکنے کو کہا کرے۔ یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔ جتنی بھی قومیں تم لوگوں میں پیدا ہوئیں، اے مومنو تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے لیے اچھا ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر ہم صحیح معنوں میں بہترین امت بننا چاہتے ہیں تو ہمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بطورِ کارِ منصبی اپنی زندگی کا ایک شعبہ بنانا چاہیے۔

ارشاد ہے کہ جب مسلمانوں کو کوئی تکلیف آئے تو کافر خوش ہوتے ہیں اور جب ان کو کوئی خوشی حاصل ہو تو کافر غیظ و غضب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر مسلمان صبر اور تقویٰ کا راستہ اختیار کریں تو کافروں کی کوئی خوشی اور ناراضی مسلمانوں کو گزند نہیں پہنچا سکتی۔

اس سورۃ میں غزوۂ بدر کا بھی ذکر ہے۔ خدا نے اپنے رسول سے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی نصرت کے لیے تین ہزار فرشتوں کو اتارے گا اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر کافر مسلمانوں تک رسائی حاصل کر لیں اور مسلمان صبر و استقامت سے ان کا مقابلہ کریں تو خدا پانچ ہزار فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کے لیے اتارے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ فرشتوں کی مدد تو ایک خوشخبری ہے وگرنہ اصل میں تو مدد کرنے والا خدا بذاتِ خود ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اے ایمان والو، سود در سود کھانے سے اجتناب کرو۔

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنت کی طرف تیزی سے بڑھنے کی تلقین کی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ جنت کی چوڑائی زمین اور آسمان کے برابر ہے۔ پھر جنتی مومنوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب ان سے صغیرہ یا کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو انھیں خدا کا خوف دامن گیر ہو جاتا ہے اور وہ خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور خدا کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کر سکے۔

غزوۂ احد میں مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں سے بہت نقصان اٹھانا پڑا جس کی وجہ سے مسلمان بہت دکھی تھے۔ اللہ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اگر تمھیں زخم لگا ہے تو تمھاری طرح تمھارے دشمنوں کو بھی زخم لگا ہے۔ ارشاد ہوا کہ ایام کو ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ اس ذریعے سے خدا مومنوں کو بھی جانچ لیتا ہے اور کئی لوگوں کو شہادت کا منصب بھی عطا فرما دیتا ہے۔ ارشاد ہوا کہ تم لوگ اہلِ کتاب اور مشرکین سے بہت سی ایذا رسانی کی باتیں سنو گے لیکن تمھیں دل گرفتہ نہیں ہونا اور صبر و تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ بے شک یہ بہت بڑا کام ہے۔

سورۃ آلِ عمران کے آخری حصے میں ارشاد ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں جو کھڑے بیٹھے اور لیٹے یعنی ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے یہ سب بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ مزید ارشاد ہے کہ عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت، میں اس کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ تم کفار کے مقابلے میں ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو، اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

سورۃ آلِ عمران کے بعد سورۃ النساء ہے۔ اس کے شروع میں انسانوں کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ ذات پات اور برادری وجہ عزت نہیں اس لیے کہ تمام انسانوں کی اصل ایک ہے۔ انھیں اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے جو کہ ان کا پروردگار ہے اور اس نے ان کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں سے کثیر تعداد میں مردوں اور عورتوں کو پیدا کرکے روئے زمین پر پھیلا دیا۔

ارشاد ہوا کہ یتیموں کا مال جو تمھاری تحویل میں ہو ان کے حوالے کرو اور ان کے پاکیزہ عمدہ مال کو اپنے ردی مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ اور اگر تمھیں اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمھیں پسند ہوں، دو دو تین تین یا چار چار، ان سے نکاح کرلو، اور اگر تمھیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ سب عورتوں سے یکساں سلوک نہ کر سکو گے تو ایک عورت کافی ہے یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔

اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال کے بارے میں کئی باتیں ارشاد فرمانے کے بعد وراثت کے مسائل کو بھی بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے اور جائیداد میں بیٹوں کا بیٹیوں کے مقابلے میں دو گنا حصہ رکھا ہے۔ اگر کسی کی صرف بیٹیاں ہوں تو اس صورت میں وہ دو تہائی جائیداد کی مالک ہوں گی اور اگر صرف ایک بیٹی ہو تو وہ نصف جائیداد کی مالک ہوگی۔ شوہر اپنی بیوی کی جائیداد میں ایک چوتھائی حصے کا مالک ہوگا جب کہ بیوی اپنے شوہر کی جائیداد میں آٹھویں حصے کی مالک ہوگی۔ والد اور والدہ کا اپنے بیٹے کی جائیداد میں چھٹا حصہ ہوگا۔ اسی طرح بے اولاد شخص کی جائیداد اس کے بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگی۔ جائیداد کی تقسیم سے قبل واجب الادا قرض کو ادا کرنا چاہیے۔ یہ تمام احکام خدا کی قائم کردہ حدیں ہیں۔

اس کے بعد غیرت کے نام پر قتل (Honour-Killing) کے بارے میں خدا کا حکم ذکر ہوا ہے۔ ارشاد ہے کہ اے مسلمانو، تمھاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی گواہی لو۔ اگر وہ ان کی بدکاری کی گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور سبیل پیدا کرے۔ اس کے علاوہ نکاح کے کئی مسائل ان آیات میں بیان کیے گئے ہیں اور ان رشتوں کا تفصیلی ذکر ہے جن سے نکاح حرام ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرانِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Parah-03

تیسرا پارہ اس اظہاریے سے شروع ہوتا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں میں سے کچھ کو کچھ پر فضیلت حاصل ہے، ان میں سے بعض نے خدائے پاک کے ساتھ کلام کیا اور بعض کے مرتبے دوسرے امور میں بلند فرمائے گئے۔ ارشاد ہوا کہ اے ایمان والو، جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو مبادا وہ دن آ جائے جس میں نہ اعمال کا سودا ہو سکے گا اور نہ سفارش اور دوستی کام آئے گی۔

اس کے بعد آیت الکرسی ہے جس میں خدا نے اپنی خاص صفات کو ذکر کیا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ جو بھی شخص طاغوت کا انکار کرتا اور خدا پر ایمان لے آتا ہے وہ ایک ایسی مضبوط رسی کو تھام لیتا ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست اللہ ہے، کہ اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے۔ اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں۔

اس پارے میں کئی اہم واقعات بیان ہوئے ہیں۔ پہلا واقعہ حضرت ابراہیم کا حاکمِ وقت کے ساتھ خدا کی قدرتوں کے بارے میں مناظرے کا ہے۔ حضرت ابراہیم نے کہا کہ میرا رب زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ جواب میں اس نے کہا کہ میں بھی مارتا ہوں اور زندہ کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے ایک مجرم کو آزاد کر دیا اور ایک بے گناہ کو مروا دیا۔ اس پر حضرت ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، پس تم اس کو مغرب سے نکال کر لاؤ۔ یہ مطالبہ سن کر کفر مبہوت رہ گیا۔

اس کے بعد حضرت عزیر اور حضرت ابراہیم کے واقعات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نبیوں کی وساطت سے انسانوں کو یہ بات سمجھاتا ہے کہ اس کے لیے قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنا چنداں مشکل نہیں ہے اور جب وہ قبروں میں پڑے انسانوں کو زندہ ہونے کا حکم دے گا تو مردے بالکل صحیح سالم میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ حضرت عزیر کا واقعہ ہے کہ وہ ایک اجڑی بستی کے پاس سے گزرے اور بولے کہ یہ بستی کیونکر دوبارہ زندہ ہوگی۔ خدا نے عزیر کو سو برس کے لیے سلا دیا اور پھر ان کو دوبارہ زندہ کر دیا اور پوچھا کہ تم کتنا عرصہ مرے یعنی سوئے رہے، تو انھوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ ارشاد ہوا کہ نہیں بلکہ سو برس مرے رہے ہو، اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ اس عرصے میں خراب نہیں ہوئی ہیں اور اپنے گدھے کو دیکھو کہ مرا پڑا ہے۔ یوں اللہ نے ان کو اپنی قدرت دکھائی کہ ان کے مرے ہوئے گدھے کی ہڈیوں کو جوڑا اور ان پر گوشت اور پوست چڑھا دیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح چار مردہ پرندوں کے چار پہاڑوں پر رکھے گوشت کو دوبارہ زندہ پرندوں میں تبدیل کر دیا۔

اس کے بعد انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت کا ذکر ہے کہ خدا اپنے راستے میں خرچ کیے گئے مال کو سات سو گنا کر کے پلٹائے گا اور کئی لوگوں کو اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا۔ آگے سود کی مذمت کی گئی ہے اور ارشاد ہے کہ جو لوگ سود کھانے سے باز نہیں آتے ان کا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔

نیز یہ شاندار سماجی اور معاشی اصول ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو اسے کشائش حاصل ہونے تک مہلت دو۔ ارشاد ہے کہ اگر تم آپس میں کسی معیّن میعاد کے لیے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو، اور بڑی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ قرض لینے والا بے عقل یا ضعیف ہو تو لکھنے والا کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ انصاف سے لکھے۔ ارشاد ہے کہ ایسے معاملے میں دو مرد گواہ کر لیا کرو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں، کہ ان میں سے ایک اگر بھول جائے تو دوسری اسے یاد کرا دے۔ یہ نصیحت بھی کی گئی ہے کہ قرض تھوڑا ہو یا بہت، اس کی دستاویز لکھنے لکھانے میں کاہلی نہ کرنا۔

آخرِ سورت میں ارشاد ہے کہ خدا کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ جو اچھا کرے گا فائدہ پائے گا، اور جو برا کرے گا نقصان اٹھائے گا۔

سورہ بقرہ کے بعد سورہ آلِ عمران ہے۔ اس کے شروع میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جو کہ سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس سے قبل اس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ خدا رحمِ مادر میں انسانوں کو جس طرح کی چاہتا ہے صورت عطا فرما دیتا ہے۔

ارشاد ہے کہ قرآنِ مجید میں دو طرح کی آیات ہیں: محکم اور متشابہات۔ فرمایا کہ محکم آیات کتاب کی اصل ہیں اور متشابہات کی تاویل کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہوتا ہے وہ متشابہات کی تاویل کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور اہلِ ایمان کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہمارے رب نے اتارا ہے ہمارا اس پر کامل ایمان ہے۔

ارشاد ہے کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ اس لیے جو آخرت کی فلاح و بہبود کا خواہشمند ہو اس کو اسلام کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ارشاد ہے کہ بادشاہی کا مالک اللہ ہے جو جسے چاہتا ہے بادشاہی عطا فرما دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہی چھین لیتا ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ وہی بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ ارشاد ہے کہ مومنوں کو چاہیے کہ مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جنابِ عمران کی اہلیہ کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے منت مانی کہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو خدا کے لیے وقف کریں گی لیکن بچے کے بجائے بچی پیدا ہوئی۔ اس خاتون نےاپنی منت کو بچی ہونے کے باوجود پورا کیا اور بچی کا نام مریم رکھ کر آپ کو جنابِ زکریا کی کفالت میں دے دیا۔ بارگاہِ الٰہی سے آپ کے لیے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم کے پھل آنے لگے۔ حضرت زکریا نے مریم سے پوچھا کہ آپ کے پاس یہ بے موسم پھل کہاں سے آتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ اللہ کی طرف سے۔

اس کے بعد جنابِ مریم صدیقہ کے ہاں سیدنا عیسیٰ کی معجزاتی ولادت کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدہ مریم کا دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بن شوہر کے ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ کے حکم سے کوڑھ اور برص کے مریضوں پر ہاتھ پھیرتا تو وہ شفایاب ہو جاتے۔ حضرت عیسیٰ کی معجزاتی پیدائش کی وجہ سے عیسائی ان کو خدا کا بیٹا قرار دینے لگے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے جن کو اللہ نے بن باپ اور بن ماں کے مٹی سے پیدا کیا اور کہا ہوجا تو وہ ہوگئے۔

یہودی حضرت عیسیٰ کی جان کے درپے تھے اور ان کے قتل کی چال چل رہے تھے۔ اللہ نے بھی عیسیٰ کو بچانے کے لیے چال چلی اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ، میں تمھیں موت دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور کفار آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔

اس کے بعد ذکر ہے کہ جو لوگ اللہ کے اقراروں اور اپنی قسموں کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ بھی حصہ نہیں۔

اس سورت میں دین فروش علمائے سُوء کا بھی ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب میں سے بعض ایسے ہیں کہ کتاب یعنی تورات کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں وہ کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہوتا، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ یہ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔

اس کے بعد ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالمِ ارواح میں انبیا کی روحوں سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں حضرت محمد علیہ السلام آ جائیں تو ان پر ایمان لانا اور ان کی حمایت کرنا گروہِ انبیا پر لازم ہوگا۔ آگے ارشاد ہے کہ کفر پر مرنے والے اگر زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی لے کر آئیں تو اللہ تعالیٰ اس سونے کے بدلے انھیں معاف نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں قرانِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

Saturday, May 2, 2020

Parah-02

دوسرے پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے قبلے کی تبدیلی کا ذکر فرمایا ہے۔ مسلمانوں پر جب اللہ نے نماز کو فرض کیا تو ابتدائی طور پر مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ حضرت محمد علیہ السلام کی یہ دلی تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ قبلے کو تبدیل کرکے بیت الحرام کو قبلہ بنا دے۔ چنانچہ بیت الحرام کو قبلہ بنا دیا گیا۔ اس پر بعض کم عقل لوگوں نے تنقید کی کہ جس طرح قبلہ تبدیل ہوا ہے، مذہب بھی تبدیل ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قبلے کی تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون حضرت محمد کا سچا پیروکار ہے اور کون ہے جو اپنے قدموں پر پھر جانے والا ہے۔ وگرنہ جہتیں تو ساری اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہیں۔ مشرق و مغرب اللہ کے لیے ہیں اور وہ جس کو چاہتا ہے صراطِ مستقیم پر چلا دیتا ہے۔

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اہلِ کتاب کے پختہ علم والے لوگ پیغمبر علیہ السلام کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کا ایک گروہ جانتے بوجھتے ہوئے حق کو چھپاتا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اس کے بندوں کو اس کا ذکر کرنا چاہیے۔ ارشاد ہوا: "تم میرا ذکر کرو میں تمھارا ذکر کروں گا۔”

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے: اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ خدا کی تائید و نصرت صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ارشاد ہے کہ شہید مرتا نہیں بلکہ زندہ ہوتا ہے مگر تم اس کی حیات کا شعور نہیں رکھتے۔ اگر کوئی مصیبت آئے تو کہو کہ بے شک ہم اللہ کی طرف ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، پس جو کوئی بھی حج اور عمرہ کرے اس کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی ضرور کرنی چاہیے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر ہے جو خدا کے احکامات اور اس کی آیات کو چھپاتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کی اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو، یعنی ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے محروم رہیں گے۔

اس کے بعد ارشاد ہے کہ نیکی یہ نہیں ہے کہ تم عبادت کے لیے مشرق کی طرف رخ کرتے ہو یا مغرب کی طرف بلکہ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ کی ذات، یومِ حساب، تمام انبیا اور ملائکہ پر پختہ ایمان ہو اور وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنے والا ہو، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ صحیح طریقے سے ادا کرنے والا ہو، وعدوں کو پورا کرنے والا ہو اور تنگی اور کشادگی دونوں حالتوں میں صبر کرنے والا ہو۔ جس میں یہ تمام اوصاف ہوں گے وہی حقیقی متقی ہے۔

اس کے بعد قانونِ قصاص و دیت کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت کو قتل کیا جائے گا تاہم اگر کوئی اپنے بھائی کو دیت دے کر معاف کر دیتا ہے تو یہ خدا کی طرف سے رخصت ہے لیکن زندگی بہرحال قصاص لینے میں ہی ہے۔

اس کے بعد رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا ذکر ہے اور ارشاد ہے کہ قرآنِ کریم کو رمضان کے مہینے میں اتارا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسافروں اور مریضوں کو رخصت دی ہے کہ اگر وہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکیں تو بعد میں کسی وقت قضا روزے پورے کر سکتے ہیں، اور جن میں قضا کی استعداد نہ ہو وہ فدیے میں مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ روزوں کے بارے میں بطورِ قاعدہ یہ بات بتائی گئی ہے کہ خدا تمھارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔ نیز رمضان کی راتوں میں بیویوں کے پاس جانا جائز کر دیا گیا کیونکہ لوگ اس سلسلے میں خیانت کیا کرتے تھے، اور ارشاد ہوا کہ عورتیں تمھاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو یعنی مرد و عورت ایک دوسرے کی زینت بھی ہیں اور ضرورت بھی۔ نیز ارشاد ہوا کہ سحری کا وقت تب تک ہے جب تک تم کالے اور سفید دھاگے میں تمیز کر سکو۔

اس کے بعد چاند کے گھٹنے بڑھنے کی غرض و غایت بتائی گئی ہے کہ اس کے ذریعے اوقات اور حج کے ایام کا تعین ہوتا ہے۔ پھر قتال کی فرضیت کے آداب و احکام ذکر کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد حج کے آداب کا ذکر ہے کہ حج میں بے حیائی اور لڑائی جھگڑے والی کوئی بات نہ ہو۔ ارشاد ہوا کہ حاجی کو زادِ راہ کی ضرورت ہے اور سب سے بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔

اس کے بعد دعا مانگنے کا طریقہ بتایا گیا۔ ارشاد ہوا کہ بعض لوگ دعا مانگتے ہیں کہ خدا ہمیں دنیا میں بہترین دے جب کہ بعض لوگ جو ان کے مقابلے میں بہتر دعا مانگتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بہترین دے اور آخرت میں بھی بہترین دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

Parah-01

قرانِ مجید دعا سے شروع ہوتا ہے جسے فاتحۃ الکتاب یا سورہ فاتحہ کہتے ہیں۔ اس میں خدا کی حمد و ثنا کے بعد اسی کو کارسازِ حقیقی مانتے ہوئے یہ کہلوایا گیا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا (صراطِ مستقیم کیا ہے؟ دیکھیے الانعام 151-153)، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا نہ کہ ان لوگوں کا جن پر تو نے غضب کیا اور نہ ہی گمراہوں کا۔
اس کے بعد سورہ بقرہ شروع ہوتی ہے جو قرآن کی سب سے لمبی سورت ہے۔ اس کا آغاز قرآن کے بارے میں اس اعلان سے ہوتا ہے کہ یہ کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ یہ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے، جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ لوگ آپ پر اور آپ سے پہلے جو کچھ نازل کیا گیا ہے، سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ یہی ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور حقیقی کامیابی پانے والے ہیں۔ بے شک جنھوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے لیے آپ کا ڈرانا نہ ڈرانا برابر ہے اور وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔
لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور یومِ قیامت پر ایمان لائے حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں: ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خوب آگاہ ہو جاؤ کہ یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں۔ اور جب وہ (منافق) اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم یقینًا تمھارے ساتھ ہیں اور ہم مسلمانوں کا تو محض مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ انھیں ان کے مذاق کی سزا دیتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی۔ یہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اور یہ راہِ راست کی طرف نہیں لوٹیں گے۔
اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں اور تمھارے پچھلوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ اور اگر تم اس کلام کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے بندے حضرت محمد علیہ السلام پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ اگر تم ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اے نبی، آپ ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان کے لیے جنت میں پاکیزہ بیویاں بھی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ بے شک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ سمجھانے کے لیے کوئی بھی مثال بیان فرمائے خواہ مچھر کی ہو یا ایسی چیز کی جو حقارت میں اس سے بھی بڑھ کر ہو۔
اور وہ وقت یاد کیجیے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انھوں نے عرض کیا: کیا تو زمین میں کسی ایسے شخص کو نائب بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی اور خونریزی کرے گا، حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیے۔
اور وہ وقت بھی یاد کیجیے جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار اور تکبر کیا اور نتیجۃً کافروں میں سے ہو گیا۔ اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم، تم اور تمھاری بیوی اس جنت میں رہائش رکھو اور تم دونوں اس میں سے جو چاہو، جہاں سے چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا۔ پھر شیطان نے انھیں اس جگہ سے ہلا دیا اور انھیں اس راحت کے مقام سے جہاں وہ تھے الگ کر دیا، اور بالآخرہم نے حکم دیا کہ تم نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ اب تمھارے لیے زمین میں ہی ایک معین مدت تک جائے قرار ہے۔ پھر آدم نے اپنے رب سے عاجزی اور معافی کے چند کلمات سیکھ لیے۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔
اللہ نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ، پھر اگر تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو بھی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے اپنے رسول حضرت محمد علیہ السلام پر اتاری ہے۔ میری آیتوں کو دنیا کی تھوڑی سی قیمت پر فروخت نہ کرو اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔ اور باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو۔
کیا تم دوسرے لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم اللہ کی کتاب پڑھتے ہو۔ اور صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد چاہو۔ اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی جان کسی دوسرے کی طرف سے کچھ بدلہ نہ دے سکے گی اور نہ اس کی طرف سے کسی شخص کی کوئی سفارش قبول کی جائے گی۔
اور وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا پھر تم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تم واقعی بڑے ظالم تھے۔ پھر ہم نے اس کے بعد بھی تمھیں معاف کر دیا تاکہ تم شکرگزار ہو جاؤ۔ اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم، بے شک تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، تو اب اپنے پیدا فرمانے والے رب کے حضور توبہ کرو۔ اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا: اپنا عصا اس پتھر پر مارو، پھر اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے، واقعۃً ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ ہم نے کہا کہ ہمارے عطا کردہ رزق میں سے کھاؤ اور پیو لیکن زمین میں فساد انگیزی نہ کرتے پھرو۔ اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ، ہم فقط ایک کھانے یعنی منّ و سلویٰ پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے اور آپ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہمارے لیے زمین سے اگنے والی چیزوں میں سے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز پیدا کر دے۔
بے شک جو لوگ ایمان لائے یعنی مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، تو ان کے لیے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔
اور وہ واقعہ بھی یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو، تو وہ بولے: کیا آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں؟ موسیٰ نے فرمایا: اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔
اے مسلمانو! کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہودی تم پر یقین کر لیں گے جب کہ ان میں سے ایک گروہ کے لوگ ایسے بھی تھے کہ اللہ کا کلام یعنی تورات سنتے پھر اسے سمجھنے کے بعد خود بدل دیتے حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ حقیقت کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں۔ ان کا حال تو یہ ہو چکا ہے کہ جب اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی تمھاری طرح حضرت محمد پر ایمان لے آئے ہیں، اور جب آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں ہوتے ہیں تو مکر جاتے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ کو وہ سب کچھ معلوم ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں؟ پس ایسے لوگوں کے لیے بڑی خرابی ہے جو اپنے ہی ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑے سے دام کما لیں، سو ان کے لیے اس کتاب کی وجہ سے ہلاکت ہے جو ان کے ہاتھوں نے تحریر کی۔ کیا تم کتاب کے بعض حصوں پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ پس تم میں سے جو شخص ایسا کرے اس کی کیا سزا ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ دنیا کی زندگی میں ذلت ہو، اور قیامت کے دن بھی ایسے لوگ سخت ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے آخرت کے بدلے میں دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کتاب پر ایمان لاؤ جسے اللہ نے اب نازل فرمایا ہے، تو کہتے ہیں کہ ہم صرف اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی، اور وہ اس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں۔ بے شک ہم نے آپ کی طرف روشن آیتیں اتاری ہیں اور ان نشانیوں کا سوائے نافرمانوں کے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہم جب کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو بہرصورت اس سے بہتر یا ویسی ہی کوئی اور آیت لے آتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟
اے مسلمانو! کیا تم چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسول سے اسی طرح سوالات کرو جیسا کہ اس سے پہلے موسیٰ سے سوال کیے گئے تھے؟ تو جو کوئی ایمان کے بدلے کفر حاصل کرے پس وہ واقعۃً سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
اہلِ کتاب کہتے ہیں کہ جنت میں ہرگز کوئی بھی داخل نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، یہ ان کی باطل امیدیں ہیں۔ ہاں، جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ صاحبِ اِحسان ہو گیا تو اس کے لیے اس کا اجر اس کے رب کے ہاں ہے اور ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔
اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش کرے۔ اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے، یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے۔ وہی آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے، اور جب کسی چیز کی ایجاد کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی کہتا ہے کہ تو ہو جا، پس وہ ہوجاتی ہے۔
اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر یعنی خانہ کعبہ کو لوگوں کے لیے رجوع اور اجتماع کا مرکز اور جائے امان بنا دیا، اور حکم دیا کہ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقامِ نماز بنا لو، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف کر دو۔ اور ابراہیم نے عرض کیا: اے میرے رب! اسے امن والا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے نواز یعنی ان لوگوں کو جو تجھ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے۔
اور جب ابراہیم اور اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو دونوں دعا کر رہے تھے کہ اے ہمارے رب! تو ہماری یہ خدمت قبول فرما لے۔ اے ہمارے رب! ہم دونوں کو اپنے حکم کے سامنے جھکنے والا بنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک امت کو خاص اپنا تابع فرمان بنا اور ہمیں ہماری عبادت قواعد بتا دے اور ہم پر رحمت و مغفرت کی نظر فرما۔ اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان قلوب کو خوب پاک صاف کر دے۔ اور جب ان کے رب نے ان سے فرمایا کہ میرے سامنے گردن جھکا دو، تو عرض کرنے لگے: میں نے سارے جہانوں کے رب کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی یہی کہا کہ اے میرے لڑکو! بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہی دین یعنی اسلام پسند فرمایا ہے، سو تم بہرصورت مسلمان رہتے ہوئے ہی مرنا۔
اے مسلمانو! تم کہہ دو: ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس کتاب پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر بھی جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور ان کتابوں پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ کو عطا کی گئیں اور اسی طرح جو دوسرے انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئیں، ہم ان میں سے کسی ایک پر بھی ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی معبودِ واحد کے فرمانبردار ہیں۔ کہہ دو کہ ہم اللہ کے رنگ میں رنگے گئے ہیں، اور کس کا رنگ اللہ کے رنگ سے بہتر ہے۔
وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی، جو اس نے کمایا وہ اس کے لیے تھا اور جو تم کماؤ گے وہ تمھارے لیے ہوگا، اور تم سے ان کے اعمال کی نسبت نہیں پوچھا جائے گا۔