Pages

Thursday, May 7, 2020

Parah-14

چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ اللہ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو تنقید کا نشانہ بناتے اور کہتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے، تو اللہ نے ان کے اعتراض کا جواب دیا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کے لیے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی. قرآنِ مجید کے نزول پر شک اور اعتراض کرنے والے کافروں سے مخاطب ہو کر اللہ نے کہا کہ بےشک ہم نے ہی ذکر (قرآنِ مجید) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اس سورت میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور ان کو شیطان کے شر سے محفوظ کیا مگر جو آسمان کی بات کو چرا کر زمین پر لانا چاہے تو اس کو اللہ شہابِ ثاقب سے نشانہ بناتا ہے۔ آگے قومِ لوط کی طرف روانہ کیے جانے والے فرشتوں کا بھی ذکر کیا ہے. یہ فرشتے جنابِ لوط کی طرف جانے سے قبل جناب ابراہیم کے پاس آئے۔ انھوں نے جنابِ ابراہیم کو ایک عالم فاضل بیٹے کی بشارت دی اور انھیں بتایا کہ ہم ایک مجرم قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اس قوم میں سے لوط کے گھرانے کے علاوہ ہر شخص کو ہلاک کر دیا جائے گا سوائے لوط کی بیوی کے کہ جس کے بارے میں ہمارا فیصلہ ہے کہ وہ ضرور مجرموں کے ساتھ پیچھے رہ جائے گی۔ اللہ کے فرشتوں نے لوط کی پوری بستی کو بلندی پر لے جا کر الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش کر دی۔

اس سورۃ میں اللہ نے اس امر کا بھی اعلان فرمایا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتا ہے، اس سے نبٹنے کے لیے خود اللہ کی ذات کافی ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کے ہر دشمن کو ذلت اور عبرت کا نشان بنا دیا۔ اس سورت میں یہ ارشاد بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات بار پڑھی جانے والی آیات اور قرآنِ عظیم یعنی سورہ فاتحہ عطا کی گئی ہے۔

سورۃ الحجر کے بعد سورۃ النحل ہے۔ اس میں ارشاد ہے کہ اللہ اپنے جس بندے پر چاہتے ہیں روح الامین کو فرشتوں کے ہمراہ نازل فرماتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ڈرائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں. یہ بھی بیان کیا گیا کہ انسانوں کے لیے انواع و اقسام کی سواریوں کو پیدا فرمایا گیا ہے۔ اللہ نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا اور وہ کچھ پیدا فرمایا جس کو انسان نہیں جانتا۔

اللہ نے دو خداؤں کے تصور کی نفی کی اور کہا انسانوں کو دو خدا نہیں پکڑنے چاہییں، بے شک وہ اکیلا اللہ ہے۔ ثنویت کا عقیدہ آتش پرستوں میں موجود تھا اور وہ دو خداؤں کی بات کیا کرتے تھے۔ اللہ نے ان کے عقیدے کو رد کیا. اللہ نے انسانوں کی توجہ مویشیوں کی طرف بھی مبذول کرائی اور کہا کہ چوپایوں میں انسانوں کے لیے عبرت ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ان کے پیٹوں سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو کہ خون اور گوبر کے درمیان سے نکلتا ہے لیکن اس میں نہ خون کی رنگت ہوتی ہے اور نہ فضلے کی گندگی۔ ارشاد ہے کہ پرندے کو فضائے بسیط میں اللہ ہی سہارا دیتا ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے گھروں کو ہمارے لیے جائے سکونت بنایا ہے، جو سکون انسان کو گھر میں حاصل ہوتا ہے وہ کسی دوسرے مقام پر حاصل نہیں ہوتا۔

ارشاد ہے کہ اللہ نے رسول پر قرآن مجید کو اس لیے نازل کیا کہ وہ لوگوں کو بیان کریں جو ان پر نازل کیا گیا ہے۔ گویا رسول کے فرامین اور آپ کی سنتیں قرآن مجید کے بیان کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اللہ نے کافروں کی ہرزہ سرائی کا ذکر کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ رسول پر قرآن نازل نہیں ہوا بلکہ حضرت محمد علیہ السلام روم کے ایک نومسلم (مراد صہیب رومی) سے سن کر اس کو آگے لوگوں کو سناتے ہیں۔ آپ کی طرف سے اللہ نے خود جواب دیا کہ جس آدمی کے بارے میں ان کا یہ گمان ہے کہ وہ رسول اللہ کو سکھلاتا ہے وہ تو عجمی ہے جب کہ رسول اللہ پر نازل ہونے والے قرآن کی زبان تو عربی مبین (صاف صاف) ہے۔ نیز قرآن مجید کو روح القدس نے رسول اللہ کے قلب پر نازل کیا تاکہ مومنوں کو ثابت قدم رکھا جائے، اور اس میں مسلمانوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔

اللہ نے سبا کی بستی کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس کو اللہ نے رزق اور امن کی جملہ نعمتوں سے نوازا تھا لیکن وہ لوگ اللہ کی ناشکری اور نافرمانی کے کاموں میں مشغول ہوگئے تو اللہ نے ان سے امن کو چھین کر خوف میں اور رزق کو چھین کر بھوک میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس واقعے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ قوموں کے امن اور معیشت کا تعلق اللہ کی فرمانبرداری کے ساتھ ہے اور جب کوئی قوم اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کا ارتکاب کرتی ہے تو اللہ اسے بدامنی اور بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اللہ نے جنابِ ابراہیم کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بے شک وہ اپنی ذات میں ایک امت تھے۔ وہ اللہ کے انتہائی فرمان بردار اور یکسو (حنیف) مسلمان تھے. انھوں نے کبھی شرک نہیں کیا۔ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔ اللہ نے ان کو قبول کر لیا تھا اور ان کو سیدھے راستے پر چلا دیا تھا۔

اس سورت کے آخر میں دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف بلانے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ دانشمندی سے اور اچھے انداز سے وعظ و نصیحت کریں اور پسندیدہ طریقہ سے بحث کریں۔ بے شک اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا ہوا اور کون ہدایت پر ہے۔ اعدائے دین کی تکلیفوں پر صبر کرنے کو اچھا عمل قرار دیا گیا ہے اور یہ کہ صبر اللہ کی ذات پر یقین رکھ کر ہی ہو سکتا ہے۔ بے شک اللہ تقوی اختیار کرنے والوں اور نیکوکاروں کےساتھ ہے۔ تائیدِ خداوندی حاصل کرنے کے لیے خدا کا ڈر اور نیکی کے راستے پر استقامت درکار ہے، جس انسان کو یہ دو چیزیں حاصل ہو جائیں گی اسے تائیدِ خداوندی حاصل ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن مجید کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

Parah-13

تیرھویں پارے کا آغاز سورۃ یوسف کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ حضرت یوسف جب جیل سے آزاد ہوگئے تو بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر بتانے کے عوضانے میں انھیں اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ ابتدائی طور پر وزیرِ خزانہ اور ازاں بعد عزیزِ مصر کے منصب پر فائز کیے گئے۔ آپ نے زرعی نظام کو بڑی توجہ سے چلایا اور خوشحالی کے سات سالوں میں مستقبل کے لیے بہترین پلاننگ کی یہاں تک کہ جب پوری معلوم دنیا میں قحط سالی عام ہوگئی تب مصر کی معیشت انتہائی مضبوط اور مستحکم ہوچکی تھی۔ قحط سالی اپنے عروج پر پہنچی تو غلے کے حصول کے لیے دنیا بھر سے قافلے مصر پہنچنا شروع ہوگئے۔ جنابِ یعقوب کے بیٹوں نے بھی مصر کا رخ کیا۔ جب وہ عزیزِ مصر کے محل میں داخل ہوئے تو یوسف اپنے بھائیوں کو پہچان گئے جب کہ بھائی آپ کو نہ پہچان سکے۔ آپ نے باتوں باتوں اپنے بھائیوں کو کہا کہ آتی دفعہ چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لانا۔ اگر تم اپنے چھوٹے بھائی کو نہ لائے تو تمھیں غلہ نہیں ملے گا اور ساتھ ہی جو پونجی ان کے بھائی غلہ خریدنے کے لیے لائے تھے اسے بھی ان کے سامان میں ڈال دیا۔

یوسف کے بھائی اپنے والد جنابِ یعقوب کے پاس واپس پہنچے تو انھوں نے عزیزِ مصر کی بہت تعریف کی اور بتایا کہ عزیزِ مصر کی خواہش تھی کہ ہم چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لائیں۔ جنابِ یعقوب نے کہا کہ کیا میں تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح میں نے اس سے قبل یوسف کے معاملے میں تم پر اعتماد کیا تھا۔ اس پر جنابِ یعقوب کے بیٹے خاموش ہوگئے۔ جب سامان کھولا گیا تو اس میں غلے کے ساتھ ساتھ پونجی بھی نکلی۔ اس پر یعقوب کے بیٹوں نے کہا دیکھیے بابا، عزیزِ مصر نے تو ہماری پونجی بھی ہمیں دے دی ہے۔ اب جنابِ یعقوب نے کہا کہ میں چھوٹے بھائی کو تمھارے ساتھ اس صورت میں روانہ کروں گا کہ تم اس کی حفاظت کی قسم کھاؤ۔ بیٹوں نے جنابِ یعقوب کے سامنے حلف لیا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ جب مصر میں داخلے کا وقت آئے تو علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونا۔

جب یوسف کے بھائی دوبارہ ان کے پاس پہنچے تو یوسف نے چھوٹے بھائی کو علیحدہ ایک طرف کرلیا اور ان سے کہا کہ میں تمھارا بھائی یوسف ہوں۔ اس کے بعد یوسف نے اپنا پیالہ اس کے سامان میں رکھوا دیا۔ جب قافلہ روانہ ہونے لگا تو اعلان کروایا گیا کہ قافلے والو تم چور ہو۔ جنابِ یعقوب کے بیٹوں نے جواب میں کہا کہ اللہ کی قسم ہم زمین پر فساد پھیلانے نہیں آئے اور نہ ہی ہم چور ہیں۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ اگر تم میں سے کسی کے سامان سے بادشاہ کا پیالہ برآمد ہوگیا تو اس کی کیا سزا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جو مجرم ہوگا وہ خود اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ سامان کی تلاشی لی گئی تو چھوٹے بھائی کے سامان سے پیالہ برآمد ہوگیا۔

یوسف کے بھائیوں نے اس موقع پر بڑے عجیب ردِعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر چھوٹے بھائی نے چوری کی ہے تو اس سے قبل ان کے بھائی یوسف نے بھی چوری کی تھی، اور کہا کہ آپ ہم بھائیوں میں سے کسی ایک کو پکڑ لیں۔ جنابِ یوسف نے کہا کہ معاذ اللہ ہم کسی مجرم کی جگہ کسی دوسرے کو کس طرح پکڑ سکتے ہیں۔ یوسف کے ایک بھائی نے کہا کہ میں تو واپس نہیں جاؤں گا جب تک بابا یعقوب مجھے اجازت نہیں دیں گے یا اللہ میرے حق میں کوئی فیصلہ نہیں فرما دیتا۔

یوسف کے بھائی جنابِ یعقوب کے پاس پہنچے اور ان کو چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی خبر دی تو جنابِ یعقوب نے بلند آواز سے یوسف کا نام لیا اور اتنی شدت سے روئے کہ آپ کی بینائی بھی گل ہوگئی۔ آپ نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اور یوسف اور ان کے بھائی کو تلاش کریں۔

یوسف کے بھائی دوبارہ مصر آئے تو حالت بدلی ہوئی تھی۔ افلاس اور فلاکت زدگی نے ان کی حالت غیر کر رکھی تھی۔ انھوں نے یوسف سے اپنی غربت کی شکایت کی اور صدقے کا تقاضہ کیا تو یوسف نے پوچھا کیا آپ بھول گئے جو آپ نے اپنے بھائی یوسف کے ساتھ کیا تھا۔ بھائیوں نے کہا کہ آپ یوسف کو کیسے جانتے ہیں؟ کہیں آپ ہی تو یوسف نہیں؟ جواب میں یوسف نے کہا کہ میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان کیا۔ بے شک جو صبر اور تقویٰ کو اختیار کرتا ہے تو اللہ نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ یوسف کے بھائی انتہائی شرمسار ہوئے اور انھوں نے آپ سے معافی چاہی تو آپ نے کہا کہ تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا اور اللہ بھی تمھیں معاف کرے۔ یوسف نے اپنے بھائیوں کو اپنی قمیص اتار کر دی اور کہا کہ اسے جنابِ یعقوب کے چہرے پر ڈالنا، ان کی بینائی واپس آجائے گی اور آئندہ ان کو بھی اپنے ہمراہ لانا۔

جنابِ یعقوب کے بیٹے جب آپ کی قمیص لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو انھوں نے اپنے گھر میں موجود بیٹوں سے کہا کہ مجھے میرے بیٹے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔ اس پر بیٹوں نے کچھ بے ادبی والے الفاظ کہے تو یعقوب خاموش ہوگئے۔ جب مصر سے آپ کے بیٹے پہنچے اور انھوں نے آپ کے چہرے پر قمیص ڈالی تو آپ کی بنیائی واپس آگئی۔ گھر میں موجود بیٹوں نے آپ سے معافی مانگی۔ آپ نے بیٹوں کو معاف کر دیا۔ سب اہلِ خانہ مصر کو روانہ ہوئے۔ جب یوسف کے پاس پہنچے تو آپ نے اپنے والد جنابِ یعقوب کو تخت پر بٹھا لیا۔ یعقوب اور ان کے گیارہ بیٹے جنابِ یوسف کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔ یوسف نے اس موقع پر خدا کا شکر ادا کیا اور دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار، مجھے اسلام پر موت دینا اور صالحین کے ساتھ ملا دینا۔

آخرِ سورت میں ارشاد ہے کہ زمین و آسمان میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر سے لوگ گزرتے ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں کرتے، اور اکثر لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر شرک کرتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ کہہ دیجیے کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں لوگوں کو سمجھ بوجھ کر اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میرے پیروکار بھی یہی کرتے ہیں۔ اللہ پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

ارشاد ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بستیوں میں رہنے والوں کی طرف مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔

ارشاد ہے کہ اس قصے میں عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ قرآن ایسی بات نہیں جو اپنے دل سے بنائی گئی ہو بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں یہ ان کی تصدیق کرنے والا ہےاور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا اور مومنوں کے لیے ہدایت و رحمت ہے۔

سورۃ یوسف کے بعد سورۃ الرعد ہے جس کے آغاز میں اللہ نے اپنی نعمتیں جتلاتے ہوئے بتایا ہے کہ اس نے انسانوں کے لیے انواع و اقسام کے پھل پیدا کیے۔ ارشاد ہے کہ ہر قوم میں ایک ہادی مبعوث فرمایا۔

ارشاد ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے، اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ٹھہر نہیں سکتی۔ فرمایا کہ بجلی کی کڑک اللہ کی حمد و ثنا کرتی ہے اور فرشتے اللہ کے خوف سے کانپتے ہیں۔

ارشاد ہے کہ اللہ نے آسمان سے مینہ برسایا اور اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے اور ہر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے نفع کی ہوتی ہے وہی زمین میں ٹھہری رہتی ہے۔ اس طرح اللہ صحیح اور غلط کی مثالیں بیان فرماتا ہے۔

ارشاد ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگئی اور جنھوں نے قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں اور وہ اتنے ہی اور خزانے اپنی نجات کے بدلے میں صرف کر ڈالیں تب بھی نجات کہاں؟

فرمایا کہ سمجھنے والے وہ ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے، اور جن رشتوں کو جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ ان لوگوں کے دل یادِ الٰہی آرام پاتے ہیں اور سن رکھو کہ دلوں کا سکون اللہ کی یاد سے حاصل ہوتا ہے۔

ارشاد ہے کہ پہلے والے بھی بہتیری چالیں چلتے رہے ہیں لیکن چال تو سب اللہ ہی کی ہے۔ ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کافر جلد معلوم کرلیں گے کہ عاقبت کا گھر کس کے لیے ہے۔

سورۃ الرعد کے بعد سورۃ ابراہیم ہے۔ اس کے شروع میں ارشاد ہے کہ ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انھیں اللہ کے احکام کھول کھول کر بتائے۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

ارشاد ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے جیسے پاکیزہ درخت، جس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں آسمان میں، اور اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا اور میوے دیتا ہو۔ اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔ اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی ہے کہ زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اور اس جڑ کو ذرا بھی قرار نہیں۔ اللہ مومنوں کو پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی رکھے گا۔

پھر حضرت ابراہیم کی اپنی اولاد کی دنیوی اور اخروی فلاح و بہبود کے لیے مانگی گئی بہت سی دعائیں ذکر کی گئی ہیں۔ ارشاد ہے کہ اے پروردگار مجھ کو ایسی توفیق عنایت کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی یہ توفیق بخش، اور اے پروردگار میری دعا قبول فرما۔ اے پروردگار حساب کتاب کے دن میری اور میرے ماں باپ کی اور مومنوں کی مغفرت فرمانا۔

ارشاد ہے کہ یہ قرآن انسانیت کے نام اللہ کا پیغام ہے تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہلِ عقل نصیحت پکڑیں۔

سورۃ ابراہیم کے بعدسورۃ الحجر ہے جس کی صرف پہلی آیت تیرھویں پارے میں ہے۔ اسے چودھویں پارے میں ذکر کیا جائے گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس میں بیان کردہ واقعات سے صحیح نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Parah-12

بارھویں پارے کا آغاز سورۃ ہود کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ ارشاد ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور اللہ اس کے ٹھکانے یعنی Habitat کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ سب کچھ روشن کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔

انسان کا حال ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ اگر ہم انسان کو نعمت بخش دیں اور پھر اس سے اس نعمت کو چھین لیں تو وہ ناامید اور ناشکرا ہو جاتا ہے، اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو وہ خوشیاں منانے اور فخر کرنے لگتا ہے۔ ہاں جنھوں نے صبر کیا اور نیک عمل کیے وہی ہیں جن کے لیے بخشش اور اجرِ عظیم ہے۔

ارشاد ہے کہ لوگ یہ کیا کہتے ہیں کہ محمد علیہ السلام نے قرآن ازخود بنا لیا ہے؟ کہہ دیجیے کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اپنی مدد کے لیے اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو، اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم سے اترا ہے اور تمھیں بھی اسلام لے آنا چاہیے۔

ارشاد ہے کہ جو لوگ دنیا کی زندگی اور زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ اور نہیں۔ ارشاد ہے کہ فریقین یعنی کفار و مومنین کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہرا ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟

اس سورت میں اللہ نے ان اقوام کا ذکر کیا جو اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے الوہی غضب کا نشانہ بنیں۔ حضرت نوح کی قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی جنھیں نوح علیہ السلام نے شرک سے باز رہنے کی تلقین کی مگر انھوں نے جنابِ نوح کا شدید مذاق اڑایا اور کہا کہ ہماری قوم میں تمھارے پیروکار وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں نہایت ادنیٰ درجے کے لوگ ہیں۔ اللہ نے جنابِ نوح کی مدد فرمائی اور آسمان سے بارش اور زمین سے یہاں تک کہ تنور سے سیلاب کی شکل میں پانی جاری کر دیا جس کی زد میں جنابِ نوح کا بیٹا اور نافرمان بیوی سمیت تمام کافر آگئے۔

اس کے بعد قومِ عاد کا ذکر ہے جو قومِ نوح کی طرح شرک کی بیماری میں مبتلا تھی۔ ان کے لیے بھیجے گئے نبی جنابِ ہود ان کو توحید کی دعوت دیتے رہے اور ترغیب دیتے رہے کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور توبہ کرو تاکہ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسا کر تمھاری طاقت بڑھائے لیکن انھوں نے ان کی ایک نہ سنی۔ قومِ عاد کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا۔ اللہ نے ایک طاقتور طوفانی ہوا کو ان پر مسلط کر دیا جس نے پوری قوم کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی طاقت پر ناز کرنے والے زمین پر یوں پڑے تھے جیسے کٹے ہوئے درخت کی شاخیں ہوتی ہیں۔

قومِ عاد کے بعد قومِ ثمود کے لیے اللہ نے اپنی ایک نشانی کو ظاہر فرمایا۔ ان کے نبی حضرت صالح کی دعا پر اللہ کے حکم سے بستی کی ایک بڑی پہاڑی پھٹی جس سے ایک اونٹنی نکلی جس نے فوراً ہی بچہ دیا، مگر بستی کے لوگوں نے اتنے بڑے معجزے کو دیکھ کر ایمان لانے کے بجائے اونٹنی کے پیروں کو کاٹ دیا۔ اس پر خدا ان سے ناراض ہوا اور ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کر دیا۔ فرشتے نے چیخ ماری اور اس چیخ کی آواز سے بستی کے لوگوں کے بھیجے پھٹ گئے۔

اس کے بعد قومِ لوط کا ذکر ہے جو ہم جنس پرستی کی بیماری کا شکار تھی۔ اللہ نے ان کی طرف عذاب والے فرشتے بھیجے اور انھیں حکم دیا کہ بدکاروں کی اس بستی پر عذاب کو مسلط کر دیں۔ فرشتوں نے بستی کو اپنے پروں پر اٹھا کر زمین پر پھینک دیا اور پوری بستی کو پتھروں سے کچل دیا۔

اس کے بعد قومِ مدین کا ذکر ہے جو شرک کے ساتھ ساتھ ناجائز منافع خوری کرتی تھی۔ اللہ نے ان پر اسی طرح کی چیخ کو مسلط کر دیا جیسی چیخ سے قومِ ثمود تباہ ہوئی تھی۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ اور فرعون کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہے کہ یہ پرانی بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض تو باقی ہیں اور باقی تہس نہس ہو چکی ہیں۔ ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا اور اللہ کے سوا جن معبودوں کو یہ پکارتے تھے ان میں سے کوئی ان کے کام نہ آ سکا۔

ارشاد ہے کہ ان قصوں میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو عذابِ آخرت سے ڈرے۔ یہی وہ دن ہوگا جس میں سب اکٹھے کیے جائیں گے اور سب اللہ کے روبرو حاضر کیے جائیں گے۔ اس دن کے آنے میں ہم ایک معین وقت تک کے لیے تاخیر کر رہے ہیں۔ اور جب وہ دن آ جائے گا تو کوئی متنفس اللہ کے حکم کے بغیر بول بھی نہ سکے گا۔ ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ جو بدبخت ہوں گے وہ آگ میں ڈالے جائیں گے اور چیخم چاخا کریں گے اور جو نیک بخت ہوں گے وہ بہشت میں داخل کیے جائیں گے اور جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

ارشاد ہے کہ دن کے دونوں سِروں میں یعنی صبح اور شام کے اوقات میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے ان کے لیے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں۔

سورۃ ہود کے بعد سورۃ یوسف ہے جس کے شروع میں ارشاد ہے کہ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔ یہ اس لیے ارشاد ہوا کہ قرآن جس نبی پر اور جس قوم والوں پر اترا وہ عرب تھے۔

اس سورت میں اللہ نے حضرت یوسف کے واقعہ کو بیان کیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ہم اس قرآن کے ذریعے جو آپ پر اتارا ہے، آپ کو ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں جس سے آپ پہلے بے خبر تھے۔ جنابِ یوسف نے بچپن میں ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کو سجدہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے والد حضرت یعقوب سے اپنا یہ خواب بیان کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اے بیٹے تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا کیونکہ وہ اسے سننے کے بعد حسد کا شکار ہوجائیں گے۔

ادھر یہ معاملہ ہو رہا تھا اُدھر جنابِ یوسف کے سوتیلے بھائی آپس میں مشورہ کر رہے تھے کہ ہم جوان ہیں لیکن ہمارے والد یعقوب صرف یوسف ہی سے پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ کسی بہانے سے بھائی یوسف کو والد سے علیحدہ کر دیا جائے تاکہ ہم ان کے منظورِ نظر بن سکیں۔ چنانچہ بھائی اکٹھے ہوکر جنابِ یعقوب کے پاس آئے اور کہا کہ آپ یوسف کو ہمارے ساتھ کیوں روانہ نہیں کرتے کہ وہ ہمارے ساتھ جنگل کی طرف جائے اور ہم اس کے ساتھ کھیلیں۔ جنابِ یعقوب نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم اپنے کاموں میں مصروف ہو جاؤ اور کوئی بھیڑیا اس کو نہ کھا جائے۔ بھائیوں نے کہا کہ بابا ہم جوان ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے کوئی بھیڑیا اس کو کھا جائے۔ جنابِ یعقوب نے یقین دہانیوں پر یوسف کو اپنے بیٹوں کے ساتھ روانہ کر دیا۔ یوسف کے بھائیوں نے انھیں ایک کنویں میں پھینک دیا اور رات کے وقت روتے ہوئے جنابِ یعقوب کے پاس آگئے کہ بھیڑیا یوسف کو کھا گیا ہے۔ اس پر جنابِ یعقوب نے کہا کہ میں صبر کروں گا۔ اللہ کو معلوم ہے کہ حقیقت کیا ہے۔

یوسف جس کنویں میں تھے وہاں سے ایک قافلے والوں کا گزر ہوا جنھوں نے پانی نکالنے کے لیے کنویں میں ڈول ڈالا۔ یوسف کنویں سے باہر نکل آئے۔ اہلِ قافلہ مصر جا رہے تھے۔ انھوں نے یوسف کو مصر کے ایک بڑے گھرانے میں فروخت کر دیا ۔ یوسف کی خوبصورتی اور وجاہت کو دیکھ کر اس گھر کے مالک نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ ہم یوسف کو اپنا بیٹا بنا لیتے ہیں، امید ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے گا۔ یوسف جب جوان ہوئے تو گھر کی مالکن ان پر بری نظر رکھنے لگی اور ایک دن اس نے ان کو برائی کی دعوت دی جسے یوسف نے ٹھکرا دیا۔ عورت نے یوسف پر برائی کا الزام لگایا لیکن اللہ نے محل میں ایک بچے کو قوتِ گویائی عطا کرکے جنابِ یوسف کو اس الزام سے بری کروا دیا۔

عزیزِ مصر کی بیوی فتنے کا شکار تھی۔ اس نے جنابِ یوسف کو مصر کی دیگر عورتوں کے ساتھ مل کر فتنے کا نشانہ بنانا چاہا تو یوسف نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے برائی سے بچاکر جیل میں پہنچا دے۔ اللہ نے دعا قبول فرما کر ان کو جیل میں پہنچا دیا۔ جیل میں آپ کی ملاقات دو قیدیوں سے ہوئی جنھیں آپ نے توحید کی دعوت دی۔ ان دونوں قیدیوں نے اپنے خواب یوسف کو سنائے۔ ایک قیدی نے خواب دیکھا کہ وہ انگوروں کو نچوڑ رہا ہے جب کہ دوسرے قیدی کو خواب آیا کہ اس کے سر پر روٹیاں ہیں اور پرندے چگ رہے ہیں۔ جنابِ یوسف نے فرمایا کہ ایک آدمی بادشاہ کا ساقی بنے گا جب کہ دوسرے کو پھانسی ہوگی۔ جس آدمی نے بادشاہ کا ساقی بننا تھا، اس کو جنابِ یوسف نے کہا کہ بادشاہ کو بتلانا کہ جیل میں ایک بے گناہ قیدی پڑا ہے لیکن آزاد ہونے والا قیدی یہ بات بھول گیا اور جنابِ یوسف کئی برس تک جیل میں قید رہے۔

اسی اثنا میں بادشاہ کو خواب آیا کہ سات پتلی گائیں سات موٹی گائیوں کو کھا رہی ہیں اور سات سرسبز بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں ہیں۔ اس پر بادشاہ کے ساقی کو جنابِ یوسف کی یاد آئی۔ اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت، جیل خانے میں ایک بہت بڑا عالم فاضل قیدی ہے جو اس کی صحیح تعبیر بتلا سکتا ہے۔ جنابِ یوسف نے تعبیر بتائی کہ آنے والے سات سال قحط سالی کے ہوں گے اور اس کے بعد خوشحالی اور ہریالی ہوگی۔ جنابِ یوسف کی تعبیر سننے کے بعد بادشاہ نے کہا کہ انھیں جیل سے بلایا جائے۔ یوسف نے کہا کہ جب تک میری علانیہ بے گناہی ثابت نہیں ہوگی میں جیل سے نہیں نکلوں گا۔ اس مطالبے پر عزیزِ مصر کی بیوی نے برملا جنابِ یوسف کو پاک دامن قرار دیا۔ اس پر جنابِ یوسف جیل سے باہر آنے پر آمادہ ہوگئے۔

حضرت یوسف کے واقعے کا باقی حصہ تیرھویں پارے میں بیان ہوگا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس میں بیان کردہ واقعات سے صحیح نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Parah-11

گیارھویں پارے کا آغاز سورۃ توبہ کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ نے مہاجر اور انصار میں سے ایمان میں سبقت لے جانے والے صحابہ کا ذکر کیا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے اپنی جنتوں کو تیار کر دیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور یہ بہت بڑا اجر ہے۔

اس کے بعد اللہ نے اس خوفناک حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ مدینہ میں رہنے والے بہت سے لوگ منافق ہیں۔ اگرچہ نبی کریم ان کو نہیں جانتے مگر اللہ ان سے اچھی طرح واقف ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو عام لوگوں کے مقابلے میں دو گنا عذاب دوں گا۔ پھر اللہ نے ان منافقین کا ذکر کیا ہے جو بغیر کسی سبب کے جنگِ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ ان منافقوں کے ذہن میں یہ بدگمانی موجود تھی کہ مسلمان تبوک کے محاذ پر شکست سے دوچار ہوں گے۔ اللہ نے اہلِ ایمان کی مدد فرمائی اور اپنے خاص فضل سے ان کو فتح یاب فرما دیا۔ اللہ نے اپنے نبی کو پیشگی اطلاع دی کہ آپ ان کے پاس پہنچیں گے تو وہ آپ کے سامنے عذر پیش کریں گے۔ ارشاد ہوا کہ آپ انھیں کہیں کہ بہانے نہ بناؤ، ہم تم پر یقین نہیں کریں گے۔ اللہ نے تمھاری خبریں ہمیں پہنچا دی ہیں اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمھاری حرکتوں پر نظر رکھیں گے۔ پھر تم اس ذات کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو حاضر اور غائب سب کا جاننے والا ہے تو وہ تمھیں تمھارے اعمال کی اصلیت سے آگاہ کرے گا۔

ارشاد ہے کہ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اس غرض سے مسجد بنائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنین میں تفرقہ ڈالیں۔ ارشاد ہے کہ تم اس مسجد میں جاکر کبھی کھڑے بھی نہ ہونا البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہو وہ اس قابل ہے کہ اس میں جایا کرو۔

نیز ارشاد ہے کہ نیکی کرنے والوں نے اگر اللہ کی راہ میں کوئی چھوٹی بڑی رقم خرچ کی یا کسی وادی کو طے کیا تو اس عمل کو ان کے نامہ اعمال میں لکھ دیا گیا ہے تاکہ اللہ ان کے کاموں کا اچھا بدلہ عطا فرمائے۔

غزوہ تبوک کے موقع پر صحابہ سے مالی تعاون کے تقاضے اور ان کے چندہ دینے کے بارے میں اللہ فرماتا ہے کہ بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے جنت کا سودا کر لیا ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اللہ کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور خود بھی اللہ کے راستے میں قتل ہوتے ہیں۔ اللہ نے اس تجارت کو انتہائی فائدہ مند تجارت قرار دیا۔

اللہ نے صحابہ کے بعض امتیازی اوصاف کا بھی ذکر کیا ہے کہ صحابہ کرام توبہ کرنے والے، اللہ کی عبادت کرنے والے، اللہ کی حمد کرنے والے، زمین میں پھرنے والے، اللہ کے سامنے جھکنے والے، اس کے سامنے سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے تھے، اور ایسے ہی مومنوں کے لیے خوشخبری ہے۔

اس سورت میں اللہ نے دینی علم کو فرضِ کفایہ قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ تمام مومنوں کے لیے ضروری نہیں کہ اپنے آپ کو دینی تعلیم کے لیے وقف کریں بلکہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر گروہ میں سے کچھ لوگ اپنے آپ کو دینی تعلیم کے لیے وقف کریں تاکہ جب اپنی قوم کی طرف پلٹیں تو ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرا سکیں۔

سورت توبہ کے آخر میں اللہ نے اپنے نبی کی صفات کا ذکر کیا ہے کہ تم میں سے ایک رسول تمھارے پاس آیا جو کہ کافروں پر زبردست ہے، مسلمانوں پر لالچ رکھتا ہے کہ وہ جنت میں چلے جائیں اور مومنوں پر رحم کرنے والا ہے۔ پس اگر وہ رسول کی ذات اور ان کے پیغام سے روگردانی کریں تو رسول اعلان فرما دے کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

سورۃ توبہ کے بعد سورۃ یونس ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ کیا انسانوں کے تعجب کی بات ہے کہ انہی میں سے ایک مرد پر وحی نازل کی جائے جو اس کے ذریعے ان کو ڈرائے۔ ارشاد ہوا کہ اللہ نے سورج اور چاند کو روشنی عطا کی اور چاند کی منازل کو بھی طے کیا تاکہ تم اس کے ذریعے سال اور مہینوں کا حساب لگاؤ۔ ارشاد ہے کہ بےشک زمین اور آسمان کی تخلیق اور رات اور دن کے آنے جانے میں اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

ارشاد ہے کہ اے لوگو! تم تک تمھارے رب کی نصیحت آ پہنچی ہے جو شفا ہے سینے کی بیماریوں کے لیے اور رحمت ہے اہلِ ایمان کے لیے۔ اے نبی، آپ اعلان فرمائیے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے اہلِ ایمان کو خوش ہو جانا چاہیے اور یہ قرآن ہر اس چیز سے بہتر ہے جسے تم اکٹھا کرتے ہو۔ مزید ارشاد ہے کہ خبردار رہو کہ اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم، اور ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایمان والے اور تقویٰ اختیار کرنے والے ہوں گے۔

اس کے بعد اللہ نے فرعون کا ذکر کیا ہے کہ اس کے خوف کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لوگ ایمان لانے سے کتراتے تھے۔ بنی اسرائیل کی مرعوبیت دیکھ کر حضرت موسیٰ نے دعا مانگی کہ اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے مصاحبوں کو دنیا کی زینت اور مال عطا کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو تیرے راستے سے برگشتہ کرے۔ اے مالک، تو ان کے مال و دولت کو نیست و نابود فرما اور ان کے دلوں کو سخت بنا تاکہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔

حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے لوگوں کو لے کر نکلے تو فرعون نے اپنے لشکر سمیت ان کا تعاقب کیا۔ موسیٰ دریا پار کر گئے تو اللہ نے اس کی لہروں کو آپس میں ملا دیا۔ فرعون دریا کے وسط میں غوطے کھانے لگا۔ اس حالت میں فرعون نے پکار کر کہا کہ میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں اس کے سوا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اللہ نے فرعون کا ایمان قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ کیا اب ایمان لائے ہو؟ اس سے پہلے تک تو تو نافرمانی اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ پس آج ہم تیرے جسم کو دریا سے نکال لیں گے تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے نصیحت بنے۔

اس سورت میں قومِ یونس کا بھی ذکر ہے کہ جب حضرت یونس اپنی قوم کی نافرمانیوں پر ناراض ہوکر ان کو خیرباد کہہ دیتے ہیں تو وہ اللہ سے باجماعت اپنے گناہوں پر معافی مانگ لیتے ہیں۔ اللہ ان کی اجتماعی توبہ اور استغفار کی وجہ سے ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔

سورت یونس کے آخر میں ارشاد ہے کہ تم سب یکسو ہوکر دینِ اسلام کی پیروی کیے جاؤ اور مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا۔ اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو تمھارا نہ بھلا کر سکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ ارشاد ہے کہ اے نبی، جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کیے جائیے اور تکلیفوں پر صبر کیجیے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے۔ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

اس کے بعد سورت ہود شروع ہوتی ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔ ارشاد ہے کہ تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

Monday, May 4, 2020

Parah-10

دسویں پارے کا آغاز سورۃ انفال کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اس کے شروع میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا ذکر ہے کہ اس مال میں اللہ اور اس کے رسول کا صوابدیدی اختیار پانچویں حصے کا ہے یعنی نبی کریم علیہ السلام کو یہ اختیار تھا کہ آپ مالِ غنیمت کے پانچویں حصے کو اپنی مرضی کے ساتھ تقسیم کر سکتے تھے۔

اس کے بعد کامیابی کے لیے دعا اور دوا کا الوہی نسخہ ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اے ایمان والو! جب کسی فوج سے ملو تو ثابت قدم رہو (بلند ہمتی) اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم نجات پاؤ (مسلسل دعا) اور اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو (اللہ اور اس کے رسول کے قائم کردہ اصول و ضوابط کی ہر حال میں پاسداری) اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی (اتفاق و اتحاد، ٹیم ورک) اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (مستقل مزاجی) اور ان لوگوں جیسا نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے (شیخی بگھارنے اور ڈینگیں مارنے سے گریز، عجز و انکساری کا رویہ)۔

آگے بدر کے معرکے کا ذکر ہے کہ شیطان اس معرکے میں انسانی شکل میں موجود تھا اور کافروں کو لڑائی کے لیے اکسا رہا تھا۔ وہ کافروں کو یقین دلا رہا تھا کہ مسلمان کافروں پر غلبہ نہیں پا سکتے۔ جب اللہ نے جبریل کی قیادت میں فرشتوں کی جماعتوں کو اتارا تو شیطان میدانِ بدر سے فرار ہونے لگا۔ کافروں نے اس سے پوچھا کہ تم تو ہمیں فتح کی نوید سنا رہے تھے، اب کہاں بھاگے جا رہے ہو؟ اس پر شیطان نے جواب دیا کہ میں وہ یکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ مجھے اللہ کا خوف دامن گیر ہے اور اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہے۔

اس سورت میں اللہ نے یہود کی متواتر بدعہدیوں اور خیانت کے بعد یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر آپ کو کسی قوم کی جانب سے خیانت کا ڈر ہو تو اس کا معاہدہ لوٹا کر حساب برابر کر دیجیے۔ بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

اس سورت میں مسلمانوں کو اس بات کی بھی تلقین کی گئی ہے کہ کافروں سے مقابلہ کے لیے ہر ممکن طاقت اور فوجی گھوڑوں کو تیار رکھیں۔ اس تیاری کی وجہ سے اللہ کے دشمن اور مسلمانوں کے دشمن مرعوب ہوں گے اور وہ دشمن بھی جن کو مسلمان نہیں جانتے اور اللہ کے راستے میں جو خرچ کریں گے ان کو پورا پورا اجر ملے گا۔ یہ بھی ارشاد ہے کہ مسلمان افرادی اعتبار سے کمزور بھی ہوں تو کفار پر غالب رہتے ہیں۔

سورۃ الانفال کے بعد سورۃ توبہ ہے۔ اس کے شروع میں ارشاد ہے کہ جو شخص نماز باقاعدگی سے ادا کرتا ہے اور زکوٰۃ صحیح طریقے سے دیتا ہے ایسا شخص مسلمانوں کی جماعت سے منسلک ہے اور دینی اعتبار سے ان کا بھائی ہے۔ آگے ارشاد ہے کہ بعض کافر اس بات پر اتراتے تھے کہ ہم حرم کی صفائی کرتے ہیں اور حاجیوں کو ستو پلاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ حرم اور حاجیوں کی خدمت سے کہیں زیادہ بہتر اللہ کی ذات پر ایمان لانا اور اس کی خوشنودی کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔

مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ اگر تمھارے باپ، تمھارے بیٹے، تمھارے بھائی، تمھاری بیویاں، تمھارے قبیلے، تمھارے مال جو تم اکٹھا کرتے ہو، تمھاری تجارت جس سے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور گھر جن میں رہنا تمھیں مرغوب ہے، تم کو اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں کیے جانے والے جہاد سے زیادہ پسند ہیں تو انتظار کرو کہ اللہ کا عذاب نہیں آجاتا۔

آگے حنین کے معرکے کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کا ہمیشہ یہ طرزِ عمل رہا کہ وہ قلتِ وسائل اور افرادی قوت میں کمی کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر ثابت قدم اور اللہ کی غیبی نصرت و حمایت کے طلب گار رہے، لیکن حنین کا معرکہ ایسا تھا جس میں مسلمانوں کی تعداد اور افرادی قوت بہت زیادہ تھی۔ اس تعداد کی کثرت اور فراوانی نے مسلمانوں کے دلوں میں ایک گھمنڈ کی سی کیفیت پیدا کر دی۔ جب مسلمان کافروں کے آمنے سامنے ہوئے تو ہوازن کے تجربہ کار تیر اندازوں نے یکلخت مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تاہم نبی کریم علیہ السلام پورے وقار اور شجاعت کے ساتھ میدانِ جنگ میں ڈٹے رہے۔ آپ کی استقامت کی وجہ سے مسلمان بھی دوبارہ حوصلے میں آگئے اور خدا سے مدد طلب کی۔ خدا نے مسلمانوں کو کفار پر غلبہ عطا فرما دیا اور مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ جنگوں میں فتح وسائل کی کثرت اور فراوانی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔

اس کے بعد اللہ نے یہودیوں اور نصرانیوں کے برے عقیدے کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہودی ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ حضرت عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اللہ کہتا ہے کہ یہ باتیں انھوں نے اپنی طرف سے گھڑی ہیں اور اللہ کی ان پر مار ہو جو یہ جھوٹ بولتے ہیں۔

سورۃ توبہ ہی میں اللہ نے ان لوگوں کو وعید سنائی ہے جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں مگر اس کو راہِ خدا میں خرچ نہیں کرتے۔ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن سونے چاندی کو آگ میں پگھلانے کے بعد ان کی پیشانیوں کو، پہلوؤں کو اور پشتوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ اس چیز کے سبب ہے جو تم اکٹھا کرتے ہو پس اکٹھا کرنے کا مزہ چکھ لو۔

اس سورت میں اللہ نے مصارفِ صدقات (زکوٰۃ) کا ذکر کیا ہے کہ اس کے آٹھ مصارف ہیں: مفلس، محتاج، عاملین یعنی صدقات جمع کرنے والے کارکنان، جن کی تالیفِ قلب منظور ہو یعنی اسلام کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے والے، رقاب یعنی قیدی اور غلام (کے آزاد کرانے میں)، غارمین یعنی قرضہ و تاوان کے تلے دبے ہوئے لوگ، اللہ کی راہ میں اور مسافر (کی مدد میں خرچ کرنا چاہیے)۔ نیز ارشاد ہے کہ منافق مرد اور عورت ایک دوسرے میں سے ہیں اور یہ بھی کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔

اس کے بعد اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ انھیں کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کرنا چاہیے اور ان پر سختی کرنی چاہیے۔ اس کے بعد اللہ نے بعض منافقین کے اعمال کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اللہ سے وعدہ کیا کہ اللہ ہمیں مال دے گا تو ہم اس کے راستے میں خرچ کریں گے، جب اللہ نے ان کو مال دے دیا تو وہ بخل کرنا شروع ہوگئے۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق لکھ دیا اس دن تک جب ان کی اللہ کے ساتھ ملاقات ہوگی۔

اس سورت میں غزوۂ تبوک کے موقع پر فتنے کا عذر پیش کرکے پیچھے رہ جانے والے اس منافق کا بھی ذکر ہے جس نے کہا تھا کہ روم کی خوبصورت عورتیں دیکھ کر مجھ سے صبر نہیں ہوسکے گا اور میں فتنے میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ رسولِ اکرم علیہ السلام نے اس کو رکنے کی اجازت دی تو اللہ نے واضح کر دیا کہ درحقیقت یہ بہانہ بناکر پیچھے رہنے والے لوگ فتنے کا شکار ہوچکے ہیں اور اللہ نے جہنم کو منکروں کے لیے تیار کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین.

Parah-09

نواں پارہ سورۃ الاعراف کے بقیہ حصے سے شروع ہوتا ہے اور وہی حضرت شعیب علیہ السلام والا مضمون چل رہا ہے جس پر آٹھواں پارہ مکمل ہوا۔ حضرت شعیب کی قوم کے لوگ مال کی محبت میں اندھے ہو کر حرام حلال کی تمیز بھلا چکے تھے۔ حضرت شعیب نے جب انھیں پورا تولنے اور ماپنے کا خدائی حکم سنایا تو انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اگر تم نے اس کی مانی تو گھاٹے میں پڑ جاؤ گے۔ اللہ کہتا ہے کہ حقیقی خسارہ اور گھاٹا تو شعیب کو جھٹلانے والوں کے لیے تھا۔

ارشاد ہے کہ ہم نے کسی شہر میں پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں جو ایمان نہ لائے، دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔ پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا۔ ارشاد ہے کہ اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ ان کے لیے آسمانوں اور زمین سے برکات کے دروازے کھول دے گا، چونکہ وہ اللہ کے احکامات کو جھٹلاتے ہیں اسی لیے اللہ ان پر گرفت کرتا ہے۔

اس سورت میں حضرت موسیٰ کی فرعون کے دربار میں آمد کا ذکر کیا گیا ہے اور ارشاد ہے کہ جب موسیٰ فرعون کو توحید کی دعوت دینے آئے اور فرعون نے سرکشی کا مظاہرہ کیا تو موسیٰ نے اللہ کے حکم سے اللہ کی عطا کردہ نشانیوں کو ظاہر فرمایا۔ آپ نے اپنا عصا زمین پر گرایا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا۔ آپ نے اپنے ہاتھ کو بغل میں ڈال کر باہر نکالا تو وہ روشن ہوگیا۔ اللہ کی اتنی واضح نشانیوں کو دیکھ کر بھی فرعون اور اس کے مصاحب سرکشی پر تلے رہے اور جنابِ موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو جادوگر قرار دے دیا۔ آگے ذکر ہے کہ اللہ نے فرعون اور اس کے قبیلے پر مختلف قسم کے عذاب مسلط کیے۔ اللہ نے کبھی پھلوں کے نقصانات کے ذریعے، کبھی خون کی بارش، کبھی جوؤں، مینڈکوں اور کبھی ٹڈیوں کی بارش کے ذریعے ان پر اپنے عذاب نازل کیے۔ ہر دفعہ آتے ہوئے عذاب کو دیکھ کر آلِ فرعون اپنی اصلاح کا وعدہ کرتی لیکن جب وہ عذاب ٹل جاتا تو دوبارہ نافرمانی پر آ جاتے یہاں تک کہ اللہ نے ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں ان کو سمندر میں غرق کر دیا۔

اس سورت میں اللہ نے جنابِ موسیٰ کو خود سے ہم کلام ہونے کا شرف عطا ہونے کو ذکر کیا ہے۔ اس کلام کے دوران میں جنابِ موسیٰ نے اللہ سے پوچھا کہ اے پروردگار کیا میں تجھ کو دیکھ نہیں سکتا، تو اللہ نے کہا کہ نہیں، لیکن ایک دفعہ کوہِ طور پر نظر کریں، اگر یہ اپنی جگہ جما رہا تو آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ نے جب اپنی تجلی کو کوہِ طور پر گرایا تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور جنابِ موسیٰ بے ہوش ہوگئے۔ جب وہ ہوش میں آئے تو کہا کہ اے پروردگار آپ کی ذات پاک ہے اس بات سے کہ اسے ان آنکھوں سے دیکھا جا سکے۔

حضرت موسیٰ جب کوہِ طور پر اللہ سے ملاقات کے لیے گئے تو آپ اپنی عدم موجودگی میں حضرت ہارون کو نگران مقرر کر گئے تھے۔ لیکن ان کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری جادوگر نے سونے چاندی کا بچھڑا بنا کر اس میں حضرت جبریل کے قدموں سے چھونے والی راکھ کو ڈال کر جادو پھونکا تو اس میں حقیقی بچھڑے کی طرح آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ موسیٰ کی قوم نے اسے پوجنا شروع کر دیا۔ جنابِ ہارون نے اپنی قوم کے لوگوں کو بہت سمجھایا کہ یہ شرک ہے اور اس سے بچنا چاہیے لیکن ان نادانوں نے نصیحت نظر انداز کر دی۔ حضرت موسیٰ اللہ سے ملاقات کے بعد جب توریت لیے ہوئے پلٹے تو اپنی قوم کے لوگوں کو شرک میں مبتلا پایا۔ منظر دیکھ کر آپ اتنا غضبناک ہوئے کہ جنابِ ہارون کی داڑھی کے بالوں کو پکڑ لیا۔ ہارون نے عذر کیا کہ میں نے ان کو بہتیرا سمجھایا لیکن انھوں نے میری نصیحت کو قبول نہیں کیا۔ جنابِ موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو آپ نے اپنے اور جناب ہارون کے لیے دعا مانگی کہ پروردگار ان کے اور فاسقوں کے درمیان تفریق پیدا فرمائیں۔

اس سورت میں اللہ نے ہفتے کے دن والی آزمائش کا بھی ذکر کیا ہے کہ سمندر کے کنارے ایک بستی کے رہنے والے یہودیوں کو اللہ نے ہفتے کے دن مچھلی کے شکار سے روکا تھا۔ وہ ہفتے کے دن جال لگا لیتے اور اتوار کو مچھلیاں پکڑ لیتے۔ ان نافرمانوں کو اس بستی کے ایک گروہ نے نیکی کی نصیحت کی جب کہ ایک غیر جانبدار گروہ نے نصیحت کرنے والے گروہ سے کہا کہ تم ان لوگوں کو سمجھا کر کیا کر لو گے جو ہلاکت اور خدائی عذاب کا نشانہ بننے والے ہیں۔ اس پر نصیحت کرنے والی جماعت نے کہا کہ اس کارِ خیر سے ہمارا عذر ثابت ہو جائے گا اور ہو سکتا ہے یہ لوگ بھی راہِ راست پر آ جائیں۔ آخر الامر اللہ نے نافرمانی کرنے والوں کو عذاب دیا اور ان کے چہرے اور جسم مسخ کرکے انھیں بندروں کی مانند کر دیا۔

اس سورت میں حضرت محمد علیہ السلام کی دو عظیم خصوصیات کا بھی ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ حضرت محمد کا ذکر توریت اور انجیل میں بھی ہے۔ نیز ارشاد ہے کہ حضرت محمد علیہ السلام کو اللہ نے تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے اور آپ کی رسالت زمانوں اور علاقوں کی محدودیت سے ماورا ہے۔

اس سورت یہ بھی ذکر ہے کہ اللہ کے خوبصورت نام ہیں اور ہمیں اللہ کو ان ناموں کے ساتھ پکارنا چاہیے۔ یہ بھی ارشاد ہے کہ لوگ رسولِ کریم کے پاس آکر پوچھتے تھے کہ قیامت کب آئے گی؟ اللہ نے کہا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ اللہ کے سوا قیامت کے وقت کو کوئی نہیں جانتا۔

اس سورت کے آخر میں قرآن کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب قرآنِ مجید کی تلاوت ہو رہی ہو تو اس توجہ سے سننا چاہیے اور خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔

سورۃ الاعراف کے بعد سورۃ الانفال ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ لوگ مالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ مالِ غنیمت تو اللہ و رسول کا ہے، تم لوگ تقویٰ اختیار کرو اور آپس کے تعلقات کو ٹھیک رکھو، اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو۔

آگے ارشاد ہے کہ اللہ نے بدر کے معرکے میں مسلمانوں کی قلیل تعداد کے باوجود ان کو کافروں پر غالب کیا اور ان کی مدد کے لیے ایک ہزار فرشتے اتارے۔ اس کے بعد اس بات کا ذکر ہے کہ اہلِ ایمان کو جب اللہ اور اس کے رسول بلائیں تو ان کو فوراً ان کی پکار کا جواب دینا چاہیے۔ نیز یہ ارشاد ہے کہ جس جگہ پر رسولِ اکرم موجود ہوں یا جس قوم کے لوگ استغفار کرنے والے ہوں ان پر اللہ کا عذاب نہیں آسکتا۔

اللہ ہمیں قرآن مجید پڑ ھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Parah-08

آٹھواں پارہ سورۃ الانعام کے بقیہ حصے سے شروع ہوتا ہے اور وہی مضمون چل رہا ہے جس پر ساتواں پارہ مکمل ہوا۔ یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب مشرکینِ مکہ اور کفارِ عرب نے حضرت محمد علیہ السلام سے مختلف طرح کی نشانیاں طلب کرنا شروع کیں۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے اوپر فرشتے اترنے چاہییں تو کبھی کہتے اگر تم سچے ہو تو ہم اپنے پروردگار کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں، اور کبھی کہتے کہ ہمارے آبا جو دنیا سے چلے گئے ہیں ان کو دوبارہ زندہ کرو۔ خدا نے اپنے حبیب کو کافروں کی سرشت سے آگاہ کیا کہ ان کا نشانیاں طلب کرنا حق پرستی پر مبنی نہیں بلکہ یہ تو صرف حق سے فرار حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے مطالبات کر رہے ہیں۔ ارشاد ہے کہ اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔

آگے ارشاد ہے کہ اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں وہ گمراہ ہیں، اگر تم زمین پر رہنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرنے لگو گے تو وہ تمھیں خدا کے راستے سے گمراہ کر دیں گے۔ یہ صرف گمان کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔ اس آیت کو بعض لوگ غلط طور پر جمہوریت یعنی Democracy کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

ارشاد ہے کہ جس چیز پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے اسے کھانا درست نہیں۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے یہود پر ان کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا اور گائے اور بکری کی پیٹھ پر لگی چربی کے علاوہ باقی چربی کو بھی ان پر حرام کر دیا لیکن یہود کی سرکشی کا عالم یہ تھا کہ وہ چربی بیچ کر کھانا شروع ہوگئے۔

ارشاد ہے کہ ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کیے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں، اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہی کو ہے۔ ارشاد ہے کہ جس شخص کو اللہ چاہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کر دے اس کا سینہ تنگ کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ ارشاد ہے کہ یہی تمھارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے اور جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں اور ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔

اس کے بعد اللہ نے اولاد کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ لوگ گھاٹے میں ہیں جنھوں نے اپنی اولادوں کو بے وقوفی کے ساتھ قتل کر دیا اور اپنی مرضی سے اللہ کے جائز کیے ہوئے رزق کو حرام قرار دیا۔ اللہ نے رزق کی ان چار بڑی اقسام کا بھی ذکر کیا ہے جو انسانوں پر حرام ہیں: پہلا حرام مردار ہے، دوسرے بہتا ہوا خون، تیسرے خنزیر کا گوشت اور چوتھے غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ۔

اس سورت میں اللہ نے مشرکین کے اس غلط عذر کو بھی رد کیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے آبا و اجداد کے بارے میں کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے پرکھے ہرگز شرک نہ کرتے۔ ارشاد ہے کہ یہ اور ان سے پہلے لوگ بھی اسی طرح جھوٹ تراشتے رہے۔

سورۃ الانعام میں اللہ نے بعض کبیرہ گناہوں اور پھر سورۃ فاتحہ میں بتائے گئے صراطِ مستقیم کا بھی ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے کہ آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمھارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق کے ساتھ۔ ان کاموں کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے، اور ناپ تول پوری پوری کرو انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔ اور یہ صراطِ مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔

ارشاد ہے کہ جو خدا کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی، اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسی ہی ملے گی۔

سورۃ الانعام کے آخر میں اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ وہ اعلان فرمائیں کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے یعنی ابراہیم کا مذہب جو ایک اللہ ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ (اور اے نبی آپ کہیے کہ) بے شک میری نمازیں، میری قربانیاں، میرا جینا اور میرا مرنا سبھی کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں۔ نیز یہ بھی ارشاد ہے کہ کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

سورۃ الانعام کے بعد سورۃ الاعراف ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ اے محمد علیہ السلام یہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی ہے اس سے آپ کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ تو اس لیے نازل ہوئی ہے کہ آپ لوگوں کو ڈر سنائیں اور یہ ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ آپ اس کی پیروی کریں اور دوسروں کی پیروی نہ کریں۔ اس کے بعد قیامت کے دن کے وزن کا ذکر ہے کہ قیامت میں وزن حق اور انصاف کے ساتھ ہوگا چنانچہ جس کا پلڑا بھاری ہوگا وہ کامیاب ہوگا اور جس کا پلڑا ہلکا ہوگا تو یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہماری آیات کو رد کرکے اپنی ہی جانوں کا نقصان کیا۔

اس سورت میں اللہ نے اپنے ایک بہت بڑے انعام کا ذکر کیا ہے کہ اس نے انسانوں کو زمین پر ٹھہرایا اور ان کے لیے مختلف طرح کے پیشے بنائے لیکن پھر بھی کم ہی انسان ہیں جو شکر گزار ہیں۔ پھر مسجدوں میں آنے کے آداب کا ذکر ہے کہ مسجد میں آتے ہوئے انسانوں کو اپنی زینت کو اختیار کرنا چاہیے اور اچھا لباس پہن کر مسجد آنا چاہیے۔ ارشاد ہے کہ کھاؤ اور پیو مگر بے جا نہ اڑاؤ۔ بے شک خدا بے جا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ارشاد ہے کہ زینت و آرائش اور کھانےپینے کی پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن بھی خاص انہی کا حصہ ہوں گی۔

آگے اصحابِ اعراف کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جہنم کے عذاب سے تو محفوظ ہوں گے لیکن اعمال میں کمزوری کی وجہ سے جنت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ایک مخصوص مدت گزارنے کے بعد اللہ ان پر نظرِ رحمت فرماتے ہوئے انھیں جنت میں داخل فرما دے گا۔ اللہ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ خوف اور طمع کے ساتھ اللہ کو پکارتے رہیں۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے قریب ہے۔

دعا مانگنے کے آداب کے سلسلے میں ارشاد ہے کہ لوگو اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو، خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اللہ سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا۔

اس پارے کے آخری حصہ میں اللہ نے ان قوموں کا ذکر کیا ہے جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئیں۔ خدا نے حضرت نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو ان کے سرداروں نے کہا کہ ہم تمھیں صریح گمراہی میں مبتلا دیکھتے ہیں۔ انھوں نے نوح کی تکذیب کی تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو بچا لیا اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا انھیں غرق کر دیا۔

اسی طرح ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمھیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ پھر ہم نے ہود کو اور جو ان کے ساتھ تھے نجات بخشی اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔

اسی طرح ہم نے قومِ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو ان کی قوم کے مغرور سرداروں نے کہا کہ جس چیز پر تم ایمان رکھتے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔ پھر ان کو بھونچال نے آن پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

اسی طرح ہم نے لوط کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور انھوں نے قوم سے کہا کہ تم ایسی بے حیائی کا کام کیوں کرتے ہو جو تم سے پہلے ساری دنیا کے انسانوں نے کبھی نہیں کیا یعنی خواہشِ نفسانی پوری کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر گرتے ہو۔ پھر ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا اور دیکھ لو کہ گناہ گاروں کا کیسا انجام ہوا۔

اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا اور انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ ان کی قوم کے جو سردار اور بڑے تھے انھوں نے کہا کہ ہم تمھیں شہر سے نکال دیں گے۔ پھر ان کو بھونچال نے آن پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

اس پارے کے آخر میں حضرت شعیب کا ارشاد ہے کہ اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور تمھارے درمیان میں فیصلہ کر دے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین