Pages

Saturday, May 9, 2020

Parah-17

سترھویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگوں کے حساب کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔ اللہ نے دین سمجھنے کا طریقہ بھی بتایا کہ اگر کسی چیز کا علم نہ ہو تو اہلِ علم سے پوچھ لینا چاہیے۔ یہ بھی ارشاد ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے لیے نہیں بنایا، اگر اس نے کھیل ہی کھیلنا ہوتا تو وہ کسی اور طریقے سے بھی یہ کام کر سکتا تھا۔ اللہ نے یہ بھی بتایا کہ اس نے ہر چیز کو پانی سے زندگی دی ہے۔ اللہ انسانوں کو اچھے اور برے حالات سے آزماتا ہے۔ حالات اچھے ہوں تو انسان کو شکر کرنا چاہیے اور حالات برے ہوں تو انسان کو صبر کرنا چاہیے۔

اس سورت میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں کے اعمال کو تولنے کے لیے میزانِ عدل قائم کریں گے۔ اس میزان میں ظلم والی کوئی بات نہیں ہوگی اور جو کچھ اس میں ڈالا جائے گا وہ انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہوگی۔ حضرت ابراہیم کی جوانی کا وہ واقعہ بھی ذکر کیا گیا ہے جب انھوں نے اپنے والد اور قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا ہم نے اپنے باپ داداؤں کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے۔ جنابِ ابراہیم نے کہا کہ تم اور تمھارے باپ کھلی گمراہی میں ہیں۔ لوگوں نے کہا کیا تم واقعی ہمارے پاس حق لے کر آئے ہو یا یونہی مذاق کر رہے ہو؟ تو ابراہیم نے جواب دیا کہ تمھارا رب آسمان اور زمین کا رب ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں اس بات کے حق ہونے کی گواہی دیتا ہوں، اللہ کی قسم جب تم لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمھارے بتوں کے خلاف ضرور کارروائی کروں گا۔ چنانچہ جنابِ ابراہیم نے ان کی عدم موجوگی میں بت کدے میں داخل ہو کر بتوں کو توڑ ڈالا۔ جب قوم کے لوگ بت کدے میں داخل ہوئے اور بتوں کو ٹوٹا دیکھا تو کہا جس نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے وہ یقینًا ظالم آدمی ہے۔ لوگوں نے پوچھا اے ابراہیم کیا تم نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے۔ آپ نے کہا اس بڑے بت نے یہ کیا ہے۔ اگر یہ بت بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔ لوگوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بت بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا تو کیا تم لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمھیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ تف ہے تم پر اور تمھارے ان معبودوں پر جن کی اللہ کے سوا تم عبادت کرتے ہو، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

اس دعوتِ توحید پر بستی کے لوگ بھڑک اٹھے اور کہنے لگے کہ ابراہیم کو جلا دو اور اگر اپنے معبودوں کی مدد کر سکتے ہو تو کرو۔ ابراہیم کو جلانے کے لیے الاؤ بھڑکایا گیا۔ جب آگ خوب بھڑک اٹھی تو ابراہیم نے دعا مانگی: حسبنا اللہ و تعم الوکیل (ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔ اس پر اللہ نے کہا اے آگ تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔ اللہ کہتا ہے کہ لوگوں نے جنابِ ابراہیم کے خلاف سازش کرنا چاہی تو ہم نے انھیں بڑا خسارہ پانے والا بنا دیا۔

پھر اللہ نے جنابِ داؤد اور سلیمان کی حکومت کا اور جنابِ ایوب کے صبر کا ذکر کیا کہ آپ شدید بیماری کے باوجود اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوئے۔ اللہ نے ایوب کی دعا قبول کرکے آپ کی تمام مشکلات کو دور فرما دیا۔ جنابِ یونس کے واقعے کا بھی ذکر ہے کہ آپ جب غم کی شدت سے دوچار تھے تو آپ نے پروردگارِ عالم سے دعا کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کی ذات پاک ہے اس تکلیف سے جو مجھ کو پہنچی ہے اور بے شک یہ تکلیف مجھے اپنی وجہ سے آئی ہے۔ اللہ نے جنابِ یونس کی فریاد سن کر ان کے دکھوں کو دور فرما دیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی فرما دیا کہ جو کوئی بھی حالتِ غم میں جنابِ یونس کی طرح اللہ کی تسبیح کرے گا، اللہ اس کے غم کو دور کر دے گا۔ اللہ تعالی نے حضرت محمد علیہ السلام کے منصب کا بھی ذکر کیا کہ آپ کو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اللہ ہی حقیقی مددگار اور کارساز ہے.

سورۃ الانبیاء کے بعد سورہ حج ہے جس کے شروع میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا اور ارشاد فرمایا کہ بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ اس زلزلے کی وجہ سے حاملہ اپنے حمل کو گرا دے گی اور دودھ پلانے والیاں شیر خواروں کو پھینک دیں گی اور لوگ نشے کی حالت میں نظر آئیں گے جب کہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ پھر اللہ تعالی نے بدر کے معرکے کا ذکر کیا کہ جس میں ایک ہی قبیلے کے لوگ آپس میں ٹکرا گئے تھے اور یہ جنگ نسل، رنگ یا علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقیدہ توحید کی بنیاد پر ہوئی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کی نشان دِہی فرمائی کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو واضح گمراہ ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو تذبذب کا شکار ہیں. جب فراخی ہوتی ہے، دنیوی منافع حاصل ہوتے ہیں تو عبادت کرتے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی آزمائش آئے تو پیٹھ پھیر جاتے ہیں. اللہ تعالیٰ نے دونوں سے علیحدہ رہنے کی ہدایت فرمائی ہے.

اللہ تعالیٰ نے جنابِ ابراہیم کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کی اور ان سے کہا کہ آپ کسی بھی چیز میں میرا شریک نہ ٹھہرائیے اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے شرک اور بت پرستی سے پاک رکھیے اور آپ لوگوں میں حج کا اعلان کیجیے تاکہ وہ آپ کے پاس پیدل چل کر اور دبلی اونٹنیوں پر سوار ہو کر دور دراز علاقوں سے آئیں اور اپنے لیے دینی اور دنیوی فوائد حاصل کرسکیں۔ اور گنتی کے مخصوص دنوں میں ان چوپایوں کو اللہ کے نام پر ذبح کیجیے جو اللہ نے بطورِ روزی انھیں دیے ہیں۔ پس تم لوگ ان کا گوشت خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔

اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے کامل مومنین کی چار صفات کا ذکر بھی فرمایا ہے: جب اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں، مصائب پر صبر کرتے ہیں، نماز کی پابندی کرتے ہیں، اور نیک مصارف میں خرچ کرتے ہیں. نیز یہ خوبی بھی بیان کی ہے کہ ان لوگوں کو اگر اللہ زمین میں تمکنت عطا فرما دے تو بھی یہ نماز کی پابندی کرتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہتے ہیں.

اللہ تعالیٰ نے قربانی کی قبولیت کے لیے تقویٰ کو شرط قرار دیا کہ اللہ کو جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اللہ کو انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے اور وہ بند برجوں میں چھپ جانے والوں تک بھی پہنچ جاتی ہے. اللہ نے ان مظلوم مسلمانوں کو بھی جہاد کی اجازت دی کہ جن کو بغیر کسی جرم کے ان کے گھروں سے عقیدہ توحید کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔

اس سورت میں اللہ نے ایک مثال کے ذریعے شرک کی تردید کی کہ جن معبودانِ باطل کو لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں ان کی ناتوانی و بے بسی کی کیفیت یہ ہے کہ وہ سارے جمع ہو کر ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے، اور مکھی بنانا تو دور کی بات ہے، اگر مکھی جیسی بے حیثیت مخلوق ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اس کو واپس بھی نہیں لے سکتے۔ یہ مانگنے والے بھی کمزور ہیں اور جن سے مانگتے ہیں وہ بھی کمزور ہیں. درحقیقت انھوں نے خدا کی قدر نہیں جانی جیسی کہ جاننا چاہیے تھی. خدا اگلا پچھلا سب جانتا ہے. اے ایمان والو اگر فلاح چاہتے ہو تو خدا کی عبادت کرو اور اسی کو رکوع و سجدہ کرو. اور خدا کی راہ میں ویسے جہد و جہاد کرو جیسا کہ اس کا حق ہے کیونکہ خدا نے تمھیں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چن لیا ہے، اور نماز و زکوٰة کا اہتمام کرتے ہوئے خدائے حامی و ناصر کے ساتھ کو مضبوط پکڑے رہو. اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین.

Parah-16

سولھویں پارے کے آغاز میں سورہ الکہف تقریبًا تین رکوع ہیں. پندرھویں پارے کا اختتام حضرت موسیٰ کی ایک باخدا آدمی سے ملاقات کے ذکر پر ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ اس آدمی کے کشتی میں سوراخ کرنے کے بعد ایک خوبصورت بچے کے قتل کرنے پر بھی بالکل مطمئن نہ تھے اس لیے اس پر بھی اعتراض کیا۔ اس آدمی نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ کیا میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس پر موسیٰ نے کہا کہ اب اگر میں نے کوئی سوال کیا تو آپ مجھے علیحدہ کر دیجیے گا۔

اب پھر دونوں اکٹھے آگے چلے اور ایک بستی میں جا پہنچے۔ بستی کے لوگ بڑے بے مروت تھے۔ انھوں نے دو معزز مہمانوں کی کوئی خاطر تواضع نہ کی۔ اس بستی میں ایک جگہ ایک دیوار گر چکی تھی۔ حضرت موسیٰ کے ساتھی نے اس کی تعمیر شروع کر دی۔ دیوار مکمل ہوگئی تو اس آدمی نے وہاں سے چلنے کا ارادہ کیا۔ موسیٰ نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام کا معاوضہ بھی وصول کر سکتے تھے۔ سوال سنتے ہی اس آدمی نے کہا کہ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آپہنچا ہے۔ جدا ہونے سے قبل میں آپ کو اپنے تمام کاموں کی توجیہات پیش کرنا چاہتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔ کشتی میں سوراخ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جس ساحل پر جا کر کشتی رکی تھی وہاں پر ایک غاصب بادشاہ کی حکومت تھی جو ہر بے عیب کشتی پر جبری قبضہ کیے جا رہا تھا۔ میں نے کشتی میں سوراخ کر دیا تاکہ کشتی کے مسکین مالک بادشاہ کے ظلم سے بچ جائیں۔ جس خوبصورت بچے کو میں نے قتل کیا وہ بڑا ہو کر اپنے والدین کے ایمان کے لیے خطرہ بننے والا تھا، اس کی موت کے بعد اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے والدین کو ایک صالح بچہ عطا فرمانے والے ہیں۔ تعمیر کی جانے والی دیوار ایک ایسے گھر کی تھی جو بستی کے دو یتیم بچوں کی ملکیت تھا جن کا باپ نیک آدمی تھا اور ان کے گھر کے نیچے خزانہ دفن تھا۔ خدا چاہتا تھا کہ بچے جوان ہو کر اپنے خزانے کو نکال لیں اور یہ ابھی کسی کے ہاتھ نہ لگے۔ جو کچھ بھی میں نے کیا اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خدا کے حکم پر کیا۔

یہ واقعہ علمِ لدنی کی حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ کامل علم خدا کے پاس ہے اور وہ جتنا علم کسی کو دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ رسول تھے لیکن خدا نے بعض معاملات کا علم اس دوسرے گمنام غیر معروف اور معاشرے میں اہم حیثیت نہ رکھنے ایک آدمی کو عطا فرمایا تھا جس سے موسیٰ واقف نہ تھے۔ مطلب یہ کہ اس دوسرے شخص کے پاس جو علم تھا وہ عام انسانوں کو دیا جانے والا ایک علم تھا جو کارِ نبوت یا کارِ رشد و ہدایت کے لیے ہرگز ضروری نہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دنیا میں جس جس آدمی پر جو مصیبت آتی ہے اس میں اللہ کی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے لہٰذا انسان کو اس کی رضا میں راضی رہنا چاہیے اور صبر و شکر اختیار کرنا چاہیے.

اس کے بعد اللہ رب العزت نے ذوالقرنین کا قصہ ذکر فرمایا ہے جو وسیع و عریض سلطنت کا مالک تھا. وہ ایک بستی کے پاس سے گزرا تو بستی والوں نے درخواست کی کہ سامنے پہاڑوں کے درمیان سے ایک مخلوق جسے قرآن نے یاجوج ماجوج سے تعبیر کیا ہے، اترتی ہے اور ہمارے کھیتوں کو تہس نہس کر دیتی ہے. لہٰذا ہمارے بچاؤ کی کوئی صورت کیجیے. ذوالقرنین نے اپنی فوج کے ساتھ مل کر پہاڑی درے کو سیسے سے بھر دیا جس سے یاجوج ماجوج کا راستہ بند ہو گیا. لیکن قرب قیامت میں یہ دیوار گر جائے گی اور یاجوج ماجوج پھر تباہی پھیلائیں گے.

سورہ کہف کے آخر میں اللہ تعالی نے اپنی توانائیوں کو محض دنیاوی زیب و زینت پر صرف کرنے والوں کے اعمال کو بدترین اعمال قرار دیا ہے جب کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہترین کاموں میں مشغول ہیں۔ اللہ کہتا ہے کہ ایسے لوگ میری ملاقات اور نشانیوں کا انکار کرنے والے ہیں اور ایسے لوگوں کے اعمال برباد ہو جائیں گے۔ نیز حضرت محمد علیہ السلام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں میں اعلان کریں کہ میں آدم کی اولاد ہونے کے اعتبار سے تمھاری ہی طرح کا انسان ہوں البتہ مجھ پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے اور خدا کی طرف رجوع صرف عمل صالح اور شرک سے بچنے سے حاصل ہوگا.

سورہ کہف کے بعد سورہ مریم ہے۔ اس میں اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ کی معجزاتی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔ جنابِ زکریا جنابِ مریم کے کفیل اور خالو تھے۔ ان کی عمر زیادہ ہونے کے سبب ان پر شیخوخت آ چکی تھی اور ان کی اہلیہ بھی کہولت زدہ تھیں. جب انھوں نے سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کے پاس بے موسمی پھل دیکھے تو سوچا کہ جو اللہ بے موسمے پھل دے سکتا ہے وہ اسباب کے بغیر اولاد بھی دے سکتا ہے لہٰذا انھوں نے اللہ سے دعا مانگی کہ اے پروردگار تو مجھے بھی صالح اولاد عطا فرما۔ اللہ نے جنابِ زکریا کی فریاد کو سن کر انھیں بڑھاپے میں جنابِ یحییٰ سے نواز دیا۔

اسی طرح جنابِ مریم کے پاس جبریل آتے ہیں اور ان کو ایک صالح بیٹے کی بشارت دیتے ہیں۔ آپ کہتی ہیں کہ کیا میرے ہاں بیٹا پیدا ہوگا جب کہ میں نے تو کسی مرد سے نزدیکی نہیں کی۔ جبریل کہتے ہیں کہ جب اللہ کسی کام کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا۔ وہ کُن کہتا ہے تو چیزیں رونما ہو جاتی ہیں۔ جب عیسیٰ پیدا ہوئے تو سیدہ مریم لوگوں کے طعن و تشنیع کے خوف سے بے قرار ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالی ان کے دل کو مضبوط فرماتے ہیں اور ان کو حکم دیتے ہیں کہ جب آپ کی ملاقات کسی انسان سے ہو تو آپ کو کہنا ہے کہ میں نے رحمٰن کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے اس لیے میں کسی کے ساتھ کلام نہیں کروں گی۔جب آپ بستی میں داخل ہوتی ہیں تو بستی کے لوگ آپ کی جھولی میں بچے کو دیکھ کر کہتے ہیں اے ہارون کی بہن، اے عمران کی بیٹی، نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں نے خیانت کی۔ تم نے یہ کیا کر دیا۔ جنابِ عیسیٰ نے مریم کی گود سے آواز دی: میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ گود میں لیٹے ہوئے بچے کی آواز سن کر لوگ خاموش ہو جاتے ہیں.

سورۃ مریم کی آخری آیات میں اللہ نے آپس میں محبت پیدا کرنے کا نسخہ ایمان اور عملِ صالح کو قرار دیا ہے۔

سورہ مریم کے بعد سورہ طہٰ ہے۔ ابتدائی آیات میں اللہ تعالٰی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی لوگوں کی اسلام سے دوری پر بے چینی کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ آپ پریشان نہ ہوں. یہ کتاب یعنی قرآنِ مجید ہم نے اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ اس کی وجہ سے تکلیف اٹھائیں. یہ کتاب تو اسے ہی نصیحت کرے گی جو اللہ کا خوف رکھے گا.

سورہ طہٰ میں اللہ تعالی نے جنابِ موسیٰ کی کوہِ طور پر اپنے ساتھ ہونے والی ملاقات کو ذکر کیا اور بتایا کہ جب موسیٰ طور پر تشریف لائے تو اللہ تعالی نے ان سے پوچھا کہ موسیٰ آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ جنابِ موسیٰ نے کہا کہ یہ میری لاٹھی ہے اور میں اس سے پتے جھاڑتا ہوں اور سہارا لیتا ہوں۔ اللہ نے ان کو لاٹھی زمین پر گرانے کا حکم دیا، جو گرتے ہی اژدھا کی شکل اختیار کر گئی جسے دیکھ کر موسیٰ خوف زدہ ہوگئے۔ اللہ نے اب اژدھے کو اٹھانے کا حکم دیا جو ان کے ہاتھ میں آتے ہی لاٹھی کی صورت اختیار کر گیا۔

اس واقعہ سے موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے ساری دنیا کو بتایا گیا کہ کسی بھی چیز کے اندر نفع یا نقصان اس کا ذاتی خاصہ نہیں ہے بلکہ خدا قادرِ مطلق ہے جو نفع والی چیز کو نقصان اور نقصان دینے والی چیز کو نفع دینے والی چیز میں بدل سکتا ہے۔

اس کے بعد اللہ نے جنابِ موسیٰ کو فرعون کے سامنے جاکر نرم گفتاری سے تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر موسیٰ نے اللہ سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار میرے سینے کو کھول دے، میرے معاملے کو آسان کر دے، میری زبان سے گرہ کو دور کر دے تاکہ لوگ میری بات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور میرے اہلِ خانہ میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے۔ اللہ نے جنابِ موسیٰ کی دعا کو قبول کیا۔ دونوں بھائی فرعون کے دربار میں آئے۔ فرعون نے اپنی قوم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آپ سے سوال کیا کہ میری قوم کے لوگ جو ہم سے پہلے مر چکے ہیں آپ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ جنابِ موسیٰ نے جواب دیا کہ ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے اور میرا پروردگار نہ کبھی بھولا ہے اور نہ کبھی گمراہ ہوا ہے۔ آخر الامر اللہ نے فرعون کو تباہ و برباد کر دیا اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔

اس کے بعد اللہ نے جنابِ موسیٰ کو اپنی ملاقات کے لیے بلایا۔ جب موسیٰ اللہ سے ہم کلام ہو رہے تھے تو قومِ موسیٰ نے ان کی عدم موجودگی میں سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔ موسیٰ جب واپس ہوئے تو اپنی قوم کو شرک کی دلدل میں اترا دیکھ کر غضبناک ہوئے اور جنابِ ہارون سے پوچھا کہ آپ نے اپنی ذمہ داری کیوں ادا نہیں کی۔ جنابِ ہارون نے کہا کہ میں نے ان پر سختی اس لیے نہیں کی کہ یہ لوگ کہیں منتشر نہ ہو جائیں۔ جنابِ موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انھوں نے سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کو آگ لگاکر اس کی راکھ کو سمندر میں بہا دیا اور اس جھوٹے معبود کی بے بسی، ناکارگی اور ناطاقتی کو بنی اسرائیل پر ثابت کر دیا۔

اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمان سے مینہ برسایا جس کے نتیجے میں کھیتوں نے غلہ اگایا جس سے انسان اور جانور فائدے حاصل کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ عقل والے لوگ ان انعامات میں کھو کر اپنی حقیقت کو نہیں بھولتے. وہ ہر وقت یاد رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان کی اس مٹی سے پرورش کی ہے اور آئندہ اسی مٹی میں وہ ڈالے جائیں گے اور روزِ قیامت اسی مٹی سے ان کا بدن اٹھایا جائے گا. اس لیے وہ اللہ تعالٰی کے انعامات کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال میں لاتے ہیں.

سورہ طہٰ کے آخر میں اللہ تعالٰی نے قرآن مجید سے اعراض کرنے والوں کو تنبیہہ فرمائی ہے. جو لوگ قرآن مجید کی تعلیمات پر توجہ نہیں دیتے ان کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور روز قیامت اندھے بنا کر پیش کیے جائیں گے. آخر میں اللہ تعالٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہیں کہ ان معاندین سے کہہ دیجیے کہ میں بھی منتظر ہوں اور تم بھی انتظار کرو، جلد اللہ تعالٰی فیصلہ فرما دیں گے کہ کون سیدھے راستے پر گامزن ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ مجید میں مذکور واقعات کو سمجھنے اور ان سے روشنی لیتے ہوئے زندگی کو گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

Thursday, May 7, 2020

Parah-15

پندرھویں پارے کا آغاز سورہ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ ارشاد ہے کہ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انھیں اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

ارشاد ہے کہ یہ قرآن مجید نیک اعمال کرنے والے مومنوں کے لیے بشارت ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اللہ تعالی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پوجا صرف اللہ تعالی کی ہونی چاہیے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ اگر وہ دونوں (والد والدہ) یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کو اُف بھی نہیں کہنا چاہیے اور نہ ان کو جھڑکنا چاہیے اور ان کو اچھی بات کہنی چاہیے اور ان کے سامنے محبت کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکانا چاہیے اور یہ دعا مانگنی چاہیے کہ پروردگار ان پر رحم کر جس طرح وہ بچپن میں مجھ پر رحم کرتے رہے۔

اللہ تعالی نے اس سورت میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کے حق ادا کرنا چاہییں اور فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے۔ بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے۔

ارشاد ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی ہر شخص کو اس کے امام کے نام سے بلائیں گے یعنی جس کی پیروی انسان کرتا ہے اسی کی نسبت سے انسان کو بلایا جائےگا۔ اس سورہ میں آیا ہے کہ اللہ نے بنی آدم کو اکرام والا بنایا ہے چنانچہ انسانیت کا احترام اللہ کا حکم ہے اور انسانیت کا احترام نہ کرنا حرام ہے اور ایسا کرنے والا حرامکار ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ فجر کے وقت فرشتے قرآن سننے کو حاضر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے نبی کریم علیہ السلام کو تہجد کی نماز ادا کرنے کا حکم دیا کہ یہ نماز آپ پر فرض ہے، اور اس کا سبب یہ بتلایا کہ آپ کو قیامت کے دن مقامِ محمود پر فائز کیا جائے گا۔ سورہ کے آخر میں ارشاد ہے کہ رب تعالی کو چاہے اللہ کہہ کر پکارو چاہے رحمان کہہ کر پکارو، اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اس کو جس نام سے چاہو پکارو۔

سورت اسراء کی خاص بات اس میں مذکور معاشرتی آداب ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، والدین کے ساتھ بھلائی کا رویہ اپناؤ، رشتہ داروں مسکینوں ناداروں کو ان کا حق دو، مال خرچ کرنے کے معاملہ میں اعتدال کا رویہ اپناؤ یعنی نہ فضول خرچی کرو نہ ہی مال پر سانپ بن کر بیٹھے رہو، اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو (اس میں Abortion کی طرف اشارہ ہے جس سے روکا گیا ہے)، کسی جان کا ناحق خون مت کرو، یتیم کا مال انصاف سے خرچ کرو، وعدہ کرو تو پورا کرو، ناپ تول میں کمی بیشی مت کرو، زمین پر اکڑ کر مت چلو، اور جس بات کا علم نہ ہو اس کی ٹوہ میں نہ لگو.

سورہ بنی اسرائیل کے بعد سورۃ کہف ہے۔ ارشاد ہے کہ قرآن مجید بشارت دیتا ہے نیک عمل کرنے والے مسلمانوں کو کہ ان کے لیے بڑے اجر کو تیار کیا گیا ہے۔ اس میں عیسائیوں اور یہودیوں کو ڈرایا گیا ہے جو عیسیٰ اور عزیر علیہما السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ نہ ان کے پاس علم ہے اور نہ ان کے آبا و اجداد کے پاس علم تھا اور یہ بات گھڑی ہوئی ہے۔ پس یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔

سورۃ کہف میں اللہ تعالی نے بعض مومن نوجوانوں کا ذکر کیا ہے جو وقت کے بے دین بادشاہ کے شر اور فتنے سے بچنے کے لیے ایک غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے۔ اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کے لیے انھیں تین سو نو برس کے لیے سلا دیا اور جب وہ بیدار ہوئے تو آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ ہم کتنا سوئے ہوں گے تو ان کا خیال تھا کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سوئے ہوں گے۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایسے واقعات بیان کر کے درحقیقت توجہ آخرت کی طرف مبذول کروائی ہے کہ جو اللہ تین سو نو برس سلا کر بیدار کر سکتا ہے کیا وہ قبروں سے مردوں کو برآمد نہیں کر سکتا؟

اس کے بعد جنابِ موسیٰ کا واقعہ ذکر ہوا۔ ہوا یوں کہ جناب موسیٰ ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے اجتماع میں موجود تھے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں۔ اللہ تعالی نے موسیٰ کو بہت بڑا مقام عطا کیا تھا لیکن یہ جواب اللہ تعالی کی منشا کے مطابق نہ تھا۔ اللہ تعالی نے جناب موسیٰ کو کہا کہ دو دریاؤں کے سنگم پر چلے جائیں، وہاں پر آپ کی ملاقات ایک ایسے بندے سے ہوگی جس کو میں نے اپنی طرف سے علم اور رحمت عطا کی ہے۔ جناب موسیٰ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو آپ کی ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ جناب موسیٰ نے اس سے پوچھا اگر میں آپ کے ہمراہ رہوں تو کیا آپ رشد و ہدایت کی وہ باتیں جو آپ کے علم میں ہیں مجھے بھی سکھلائیں گے۔ اس نے جواب دیا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اور آپ ان باتوں کی بابت کیونکر صبر کریں گے جن کا آپ جانتے ہی نہیں۔ جنابِ موسیٰ نے ان کو صبر کی یقین دہانی کرائی تو دونوں اکٹھے چل پڑے۔ کچھ چلنے کے بعد دونوں ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ جب اترنے لگے تو اس آدمی نے کشتی میں سوراخ کر دیا۔ موسیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی کہ جس کشتی میں سفر کیا اس میں سوراخ کر دیا۔ آپ نے کہا کہ تم نے یہ کیا کر دیا۔ اس نے کہا کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میر ے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ جناب موسیٰ نے کہا کہ آپ میرے بھول جانے پر مواخذہ نہ کریں اور نہ ہی میرے سوالات پر تنگی محسوس کریں۔

وہ آدمی اور موسیٰ پھر چل دیے۔ کچھ آگے جا کر ایک خوبصورت بچہ نظر آیا ۔ اس آدمی نے بچے کو قتل کر ڈالا۔ جناب موسیٰ سے نہ رہا گیا اور آپ نے پھر اس کے اس عمل پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ اس کا ذکر سولھویں پارے کے شروع میں کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس میں مذکور مضامین سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔

Parah-14

چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ اللہ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو تنقید کا نشانہ بناتے اور کہتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے، تو اللہ نے ان کے اعتراض کا جواب دیا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کے لیے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی. قرآنِ مجید کے نزول پر شک اور اعتراض کرنے والے کافروں سے مخاطب ہو کر اللہ نے کہا کہ بےشک ہم نے ہی ذکر (قرآنِ مجید) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اس سورت میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور ان کو شیطان کے شر سے محفوظ کیا مگر جو آسمان کی بات کو چرا کر زمین پر لانا چاہے تو اس کو اللہ شہابِ ثاقب سے نشانہ بناتا ہے۔ آگے قومِ لوط کی طرف روانہ کیے جانے والے فرشتوں کا بھی ذکر کیا ہے. یہ فرشتے جنابِ لوط کی طرف جانے سے قبل جناب ابراہیم کے پاس آئے۔ انھوں نے جنابِ ابراہیم کو ایک عالم فاضل بیٹے کی بشارت دی اور انھیں بتایا کہ ہم ایک مجرم قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اس قوم میں سے لوط کے گھرانے کے علاوہ ہر شخص کو ہلاک کر دیا جائے گا سوائے لوط کی بیوی کے کہ جس کے بارے میں ہمارا فیصلہ ہے کہ وہ ضرور مجرموں کے ساتھ پیچھے رہ جائے گی۔ اللہ کے فرشتوں نے لوط کی پوری بستی کو بلندی پر لے جا کر الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش کر دی۔

اس سورۃ میں اللہ نے اس امر کا بھی اعلان فرمایا کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتا ہے، اس سے نبٹنے کے لیے خود اللہ کی ذات کافی ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کے ہر دشمن کو ذلت اور عبرت کا نشان بنا دیا۔ اس سورت میں یہ ارشاد بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات بار پڑھی جانے والی آیات اور قرآنِ عظیم یعنی سورہ فاتحہ عطا کی گئی ہے۔

سورۃ الحجر کے بعد سورۃ النحل ہے۔ اس میں ارشاد ہے کہ اللہ اپنے جس بندے پر چاہتے ہیں روح الامین کو فرشتوں کے ہمراہ نازل فرماتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ڈرائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں. یہ بھی بیان کیا گیا کہ انسانوں کے لیے انواع و اقسام کی سواریوں کو پیدا فرمایا گیا ہے۔ اللہ نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا اور وہ کچھ پیدا فرمایا جس کو انسان نہیں جانتا۔

اللہ نے دو خداؤں کے تصور کی نفی کی اور کہا انسانوں کو دو خدا نہیں پکڑنے چاہییں، بے شک وہ اکیلا اللہ ہے۔ ثنویت کا عقیدہ آتش پرستوں میں موجود تھا اور وہ دو خداؤں کی بات کیا کرتے تھے۔ اللہ نے ان کے عقیدے کو رد کیا. اللہ نے انسانوں کی توجہ مویشیوں کی طرف بھی مبذول کرائی اور کہا کہ چوپایوں میں انسانوں کے لیے عبرت ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ان کے پیٹوں سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو کہ خون اور گوبر کے درمیان سے نکلتا ہے لیکن اس میں نہ خون کی رنگت ہوتی ہے اور نہ فضلے کی گندگی۔ ارشاد ہے کہ پرندے کو فضائے بسیط میں اللہ ہی سہارا دیتا ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے گھروں کو ہمارے لیے جائے سکونت بنایا ہے، جو سکون انسان کو گھر میں حاصل ہوتا ہے وہ کسی دوسرے مقام پر حاصل نہیں ہوتا۔

ارشاد ہے کہ اللہ نے رسول پر قرآن مجید کو اس لیے نازل کیا کہ وہ لوگوں کو بیان کریں جو ان پر نازل کیا گیا ہے۔ گویا رسول کے فرامین اور آپ کی سنتیں قرآن مجید کے بیان کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اللہ نے کافروں کی ہرزہ سرائی کا ذکر کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ رسول پر قرآن نازل نہیں ہوا بلکہ حضرت محمد علیہ السلام روم کے ایک نومسلم (مراد صہیب رومی) سے سن کر اس کو آگے لوگوں کو سناتے ہیں۔ آپ کی طرف سے اللہ نے خود جواب دیا کہ جس آدمی کے بارے میں ان کا یہ گمان ہے کہ وہ رسول اللہ کو سکھلاتا ہے وہ تو عجمی ہے جب کہ رسول اللہ پر نازل ہونے والے قرآن کی زبان تو عربی مبین (صاف صاف) ہے۔ نیز قرآن مجید کو روح القدس نے رسول اللہ کے قلب پر نازل کیا تاکہ مومنوں کو ثابت قدم رکھا جائے، اور اس میں مسلمانوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔

اللہ نے سبا کی بستی کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس کو اللہ نے رزق اور امن کی جملہ نعمتوں سے نوازا تھا لیکن وہ لوگ اللہ کی ناشکری اور نافرمانی کے کاموں میں مشغول ہوگئے تو اللہ نے ان سے امن کو چھین کر خوف میں اور رزق کو چھین کر بھوک میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس واقعے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ قوموں کے امن اور معیشت کا تعلق اللہ کی فرمانبرداری کے ساتھ ہے اور جب کوئی قوم اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کا ارتکاب کرتی ہے تو اللہ اسے بدامنی اور بھوک اور خوف میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اللہ نے جنابِ ابراہیم کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بے شک وہ اپنی ذات میں ایک امت تھے۔ وہ اللہ کے انتہائی فرمان بردار اور یکسو (حنیف) مسلمان تھے. انھوں نے کبھی شرک نہیں کیا۔ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔ اللہ نے ان کو قبول کر لیا تھا اور ان کو سیدھے راستے پر چلا دیا تھا۔

اس سورت کے آخر میں دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف بلانے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ دانشمندی سے اور اچھے انداز سے وعظ و نصیحت کریں اور پسندیدہ طریقہ سے بحث کریں۔ بے شک اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا ہوا اور کون ہدایت پر ہے۔ اعدائے دین کی تکلیفوں پر صبر کرنے کو اچھا عمل قرار دیا گیا ہے اور یہ کہ صبر اللہ کی ذات پر یقین رکھ کر ہی ہو سکتا ہے۔ بے شک اللہ تقوی اختیار کرنے والوں اور نیکوکاروں کےساتھ ہے۔ تائیدِ خداوندی حاصل کرنے کے لیے خدا کا ڈر اور نیکی کے راستے پر استقامت درکار ہے، جس انسان کو یہ دو چیزیں حاصل ہو جائیں گی اسے تائیدِ خداوندی حاصل ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن مجید کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

Parah-13

تیرھویں پارے کا آغاز سورۃ یوسف کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ حضرت یوسف جب جیل سے آزاد ہوگئے تو بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر بتانے کے عوضانے میں انھیں اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ ابتدائی طور پر وزیرِ خزانہ اور ازاں بعد عزیزِ مصر کے منصب پر فائز کیے گئے۔ آپ نے زرعی نظام کو بڑی توجہ سے چلایا اور خوشحالی کے سات سالوں میں مستقبل کے لیے بہترین پلاننگ کی یہاں تک کہ جب پوری معلوم دنیا میں قحط سالی عام ہوگئی تب مصر کی معیشت انتہائی مضبوط اور مستحکم ہوچکی تھی۔ قحط سالی اپنے عروج پر پہنچی تو غلے کے حصول کے لیے دنیا بھر سے قافلے مصر پہنچنا شروع ہوگئے۔ جنابِ یعقوب کے بیٹوں نے بھی مصر کا رخ کیا۔ جب وہ عزیزِ مصر کے محل میں داخل ہوئے تو یوسف اپنے بھائیوں کو پہچان گئے جب کہ بھائی آپ کو نہ پہچان سکے۔ آپ نے باتوں باتوں اپنے بھائیوں کو کہا کہ آتی دفعہ چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لانا۔ اگر تم اپنے چھوٹے بھائی کو نہ لائے تو تمھیں غلہ نہیں ملے گا اور ساتھ ہی جو پونجی ان کے بھائی غلہ خریدنے کے لیے لائے تھے اسے بھی ان کے سامان میں ڈال دیا۔

یوسف کے بھائی اپنے والد جنابِ یعقوب کے پاس واپس پہنچے تو انھوں نے عزیزِ مصر کی بہت تعریف کی اور بتایا کہ عزیزِ مصر کی خواہش تھی کہ ہم چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لائیں۔ جنابِ یعقوب نے کہا کہ کیا میں تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح میں نے اس سے قبل یوسف کے معاملے میں تم پر اعتماد کیا تھا۔ اس پر جنابِ یعقوب کے بیٹے خاموش ہوگئے۔ جب سامان کھولا گیا تو اس میں غلے کے ساتھ ساتھ پونجی بھی نکلی۔ اس پر یعقوب کے بیٹوں نے کہا دیکھیے بابا، عزیزِ مصر نے تو ہماری پونجی بھی ہمیں دے دی ہے۔ اب جنابِ یعقوب نے کہا کہ میں چھوٹے بھائی کو تمھارے ساتھ اس صورت میں روانہ کروں گا کہ تم اس کی حفاظت کی قسم کھاؤ۔ بیٹوں نے جنابِ یعقوب کے سامنے حلف لیا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ جب مصر میں داخلے کا وقت آئے تو علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونا۔

جب یوسف کے بھائی دوبارہ ان کے پاس پہنچے تو یوسف نے چھوٹے بھائی کو علیحدہ ایک طرف کرلیا اور ان سے کہا کہ میں تمھارا بھائی یوسف ہوں۔ اس کے بعد یوسف نے اپنا پیالہ اس کے سامان میں رکھوا دیا۔ جب قافلہ روانہ ہونے لگا تو اعلان کروایا گیا کہ قافلے والو تم چور ہو۔ جنابِ یعقوب کے بیٹوں نے جواب میں کہا کہ اللہ کی قسم ہم زمین پر فساد پھیلانے نہیں آئے اور نہ ہی ہم چور ہیں۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ اگر تم میں سے کسی کے سامان سے بادشاہ کا پیالہ برآمد ہوگیا تو اس کی کیا سزا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جو مجرم ہوگا وہ خود اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ سامان کی تلاشی لی گئی تو چھوٹے بھائی کے سامان سے پیالہ برآمد ہوگیا۔

یوسف کے بھائیوں نے اس موقع پر بڑے عجیب ردِعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر چھوٹے بھائی نے چوری کی ہے تو اس سے قبل ان کے بھائی یوسف نے بھی چوری کی تھی، اور کہا کہ آپ ہم بھائیوں میں سے کسی ایک کو پکڑ لیں۔ جنابِ یوسف نے کہا کہ معاذ اللہ ہم کسی مجرم کی جگہ کسی دوسرے کو کس طرح پکڑ سکتے ہیں۔ یوسف کے ایک بھائی نے کہا کہ میں تو واپس نہیں جاؤں گا جب تک بابا یعقوب مجھے اجازت نہیں دیں گے یا اللہ میرے حق میں کوئی فیصلہ نہیں فرما دیتا۔

یوسف کے بھائی جنابِ یعقوب کے پاس پہنچے اور ان کو چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی خبر دی تو جنابِ یعقوب نے بلند آواز سے یوسف کا نام لیا اور اتنی شدت سے روئے کہ آپ کی بینائی بھی گل ہوگئی۔ آپ نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اور یوسف اور ان کے بھائی کو تلاش کریں۔

یوسف کے بھائی دوبارہ مصر آئے تو حالت بدلی ہوئی تھی۔ افلاس اور فلاکت زدگی نے ان کی حالت غیر کر رکھی تھی۔ انھوں نے یوسف سے اپنی غربت کی شکایت کی اور صدقے کا تقاضہ کیا تو یوسف نے پوچھا کیا آپ بھول گئے جو آپ نے اپنے بھائی یوسف کے ساتھ کیا تھا۔ بھائیوں نے کہا کہ آپ یوسف کو کیسے جانتے ہیں؟ کہیں آپ ہی تو یوسف نہیں؟ جواب میں یوسف نے کہا کہ میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان کیا۔ بے شک جو صبر اور تقویٰ کو اختیار کرتا ہے تو اللہ نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ یوسف کے بھائی انتہائی شرمسار ہوئے اور انھوں نے آپ سے معافی چاہی تو آپ نے کہا کہ تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا اور اللہ بھی تمھیں معاف کرے۔ یوسف نے اپنے بھائیوں کو اپنی قمیص اتار کر دی اور کہا کہ اسے جنابِ یعقوب کے چہرے پر ڈالنا، ان کی بینائی واپس آجائے گی اور آئندہ ان کو بھی اپنے ہمراہ لانا۔

جنابِ یعقوب کے بیٹے جب آپ کی قمیص لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو انھوں نے اپنے گھر میں موجود بیٹوں سے کہا کہ مجھے میرے بیٹے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔ اس پر بیٹوں نے کچھ بے ادبی والے الفاظ کہے تو یعقوب خاموش ہوگئے۔ جب مصر سے آپ کے بیٹے پہنچے اور انھوں نے آپ کے چہرے پر قمیص ڈالی تو آپ کی بنیائی واپس آگئی۔ گھر میں موجود بیٹوں نے آپ سے معافی مانگی۔ آپ نے بیٹوں کو معاف کر دیا۔ سب اہلِ خانہ مصر کو روانہ ہوئے۔ جب یوسف کے پاس پہنچے تو آپ نے اپنے والد جنابِ یعقوب کو تخت پر بٹھا لیا۔ یعقوب اور ان کے گیارہ بیٹے جنابِ یوسف کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔ یوسف نے اس موقع پر خدا کا شکر ادا کیا اور دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار، مجھے اسلام پر موت دینا اور صالحین کے ساتھ ملا دینا۔

آخرِ سورت میں ارشاد ہے کہ زمین و آسمان میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر سے لوگ گزرتے ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں کرتے، اور اکثر لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر شرک کرتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ کہہ دیجیے کہ میرا راستہ تو یہ ہے کہ میں لوگوں کو سمجھ بوجھ کر اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میرے پیروکار بھی یہی کرتے ہیں۔ اللہ پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

ارشاد ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بستیوں میں رہنے والوں کی طرف مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔

ارشاد ہے کہ اس قصے میں عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ قرآن ایسی بات نہیں جو اپنے دل سے بنائی گئی ہو بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں یہ ان کی تصدیق کرنے والا ہےاور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا اور مومنوں کے لیے ہدایت و رحمت ہے۔

سورۃ یوسف کے بعد سورۃ الرعد ہے جس کے آغاز میں اللہ نے اپنی نعمتیں جتلاتے ہوئے بتایا ہے کہ اس نے انسانوں کے لیے انواع و اقسام کے پھل پیدا کیے۔ ارشاد ہے کہ ہر قوم میں ایک ہادی مبعوث فرمایا۔

ارشاد ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے، اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ٹھہر نہیں سکتی۔ فرمایا کہ بجلی کی کڑک اللہ کی حمد و ثنا کرتی ہے اور فرشتے اللہ کے خوف سے کانپتے ہیں۔

ارشاد ہے کہ اللہ نے آسمان سے مینہ برسایا اور اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے اور ہر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے نفع کی ہوتی ہے وہی زمین میں ٹھہری رہتی ہے۔ اس طرح اللہ صحیح اور غلط کی مثالیں بیان فرماتا ہے۔

ارشاد ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگئی اور جنھوں نے قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں اور وہ اتنے ہی اور خزانے اپنی نجات کے بدلے میں صرف کر ڈالیں تب بھی نجات کہاں؟

فرمایا کہ سمجھنے والے وہ ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے، اور جن رشتوں کو جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ ان لوگوں کے دل یادِ الٰہی آرام پاتے ہیں اور سن رکھو کہ دلوں کا سکون اللہ کی یاد سے حاصل ہوتا ہے۔

ارشاد ہے کہ پہلے والے بھی بہتیری چالیں چلتے رہے ہیں لیکن چال تو سب اللہ ہی کی ہے۔ ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کافر جلد معلوم کرلیں گے کہ عاقبت کا گھر کس کے لیے ہے۔

سورۃ الرعد کے بعد سورۃ ابراہیم ہے۔ اس کے شروع میں ارشاد ہے کہ ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انھیں اللہ کے احکام کھول کھول کر بتائے۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

ارشاد ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے جیسے پاکیزہ درخت، جس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں آسمان میں، اور اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا اور میوے دیتا ہو۔ اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔ اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی ہے کہ زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اور اس جڑ کو ذرا بھی قرار نہیں۔ اللہ مومنوں کو پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی رکھے گا۔

پھر حضرت ابراہیم کی اپنی اولاد کی دنیوی اور اخروی فلاح و بہبود کے لیے مانگی گئی بہت سی دعائیں ذکر کی گئی ہیں۔ ارشاد ہے کہ اے پروردگار مجھ کو ایسی توفیق عنایت کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی یہ توفیق بخش، اور اے پروردگار میری دعا قبول فرما۔ اے پروردگار حساب کتاب کے دن میری اور میرے ماں باپ کی اور مومنوں کی مغفرت فرمانا۔

ارشاد ہے کہ یہ قرآن انسانیت کے نام اللہ کا پیغام ہے تاکہ لوگوں کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہلِ عقل نصیحت پکڑیں۔

سورۃ ابراہیم کے بعدسورۃ الحجر ہے جس کی صرف پہلی آیت تیرھویں پارے میں ہے۔ اسے چودھویں پارے میں ذکر کیا جائے گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس میں بیان کردہ واقعات سے صحیح نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Parah-12

بارھویں پارے کا آغاز سورۃ ہود کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ ارشاد ہے کہ زمین پر چلنے والا کوئی چوپایہ ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور اللہ اس کے ٹھکانے یعنی Habitat کو اور اس کے پلٹنے کی جگہ کو نہ جانتے ہوں اور یہ سب کچھ روشن کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔

انسان کا حال ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ اگر ہم انسان کو نعمت بخش دیں اور پھر اس سے اس نعمت کو چھین لیں تو وہ ناامید اور ناشکرا ہو جاتا ہے، اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو وہ خوشیاں منانے اور فخر کرنے لگتا ہے۔ ہاں جنھوں نے صبر کیا اور نیک عمل کیے وہی ہیں جن کے لیے بخشش اور اجرِ عظیم ہے۔

ارشاد ہے کہ لوگ یہ کیا کہتے ہیں کہ محمد علیہ السلام نے قرآن ازخود بنا لیا ہے؟ کہہ دیجیے کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اپنی مدد کے لیے اللہ کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا لو، اگر وہ تمھاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم سے اترا ہے اور تمھیں بھی اسلام لے آنا چاہیے۔

ارشاد ہے کہ جو لوگ دنیا کی زندگی اور زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ اور نہیں۔ ارشاد ہے کہ فریقین یعنی کفار و مومنین کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہرا ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟

اس سورت میں اللہ نے ان اقوام کا ذکر کیا جو اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے الوہی غضب کا نشانہ بنیں۔ حضرت نوح کی قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی جنھیں نوح علیہ السلام نے شرک سے باز رہنے کی تلقین کی مگر انھوں نے جنابِ نوح کا شدید مذاق اڑایا اور کہا کہ ہماری قوم میں تمھارے پیروکار وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں نہایت ادنیٰ درجے کے لوگ ہیں۔ اللہ نے جنابِ نوح کی مدد فرمائی اور آسمان سے بارش اور زمین سے یہاں تک کہ تنور سے سیلاب کی شکل میں پانی جاری کر دیا جس کی زد میں جنابِ نوح کا بیٹا اور نافرمان بیوی سمیت تمام کافر آگئے۔

اس کے بعد قومِ عاد کا ذکر ہے جو قومِ نوح کی طرح شرک کی بیماری میں مبتلا تھی۔ ان کے لیے بھیجے گئے نبی جنابِ ہود ان کو توحید کی دعوت دیتے رہے اور ترغیب دیتے رہے کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور توبہ کرو تاکہ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسا کر تمھاری طاقت بڑھائے لیکن انھوں نے ان کی ایک نہ سنی۔ قومِ عاد کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا۔ اللہ نے ایک طاقتور طوفانی ہوا کو ان پر مسلط کر دیا جس نے پوری قوم کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور اپنی طاقت پر ناز کرنے والے زمین پر یوں پڑے تھے جیسے کٹے ہوئے درخت کی شاخیں ہوتی ہیں۔

قومِ عاد کے بعد قومِ ثمود کے لیے اللہ نے اپنی ایک نشانی کو ظاہر فرمایا۔ ان کے نبی حضرت صالح کی دعا پر اللہ کے حکم سے بستی کی ایک بڑی پہاڑی پھٹی جس سے ایک اونٹنی نکلی جس نے فوراً ہی بچہ دیا، مگر بستی کے لوگوں نے اتنے بڑے معجزے کو دیکھ کر ایمان لانے کے بجائے اونٹنی کے پیروں کو کاٹ دیا۔ اس پر خدا ان سے ناراض ہوا اور ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کر دیا۔ فرشتے نے چیخ ماری اور اس چیخ کی آواز سے بستی کے لوگوں کے بھیجے پھٹ گئے۔

اس کے بعد قومِ لوط کا ذکر ہے جو ہم جنس پرستی کی بیماری کا شکار تھی۔ اللہ نے ان کی طرف عذاب والے فرشتے بھیجے اور انھیں حکم دیا کہ بدکاروں کی اس بستی پر عذاب کو مسلط کر دیں۔ فرشتوں نے بستی کو اپنے پروں پر اٹھا کر زمین پر پھینک دیا اور پوری بستی کو پتھروں سے کچل دیا۔

اس کے بعد قومِ مدین کا ذکر ہے جو شرک کے ساتھ ساتھ ناجائز منافع خوری کرتی تھی۔ اللہ نے ان پر اسی طرح کی چیخ کو مسلط کر دیا جیسی چیخ سے قومِ ثمود تباہ ہوئی تھی۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ اور فرعون کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہے کہ یہ پرانی بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جن میں سے بعض تو باقی ہیں اور باقی تہس نہس ہو چکی ہیں۔ ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا اور اللہ کے سوا جن معبودوں کو یہ پکارتے تھے ان میں سے کوئی ان کے کام نہ آ سکا۔

ارشاد ہے کہ ان قصوں میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو عذابِ آخرت سے ڈرے۔ یہی وہ دن ہوگا جس میں سب اکٹھے کیے جائیں گے اور سب اللہ کے روبرو حاضر کیے جائیں گے۔ اس دن کے آنے میں ہم ایک معین وقت تک کے لیے تاخیر کر رہے ہیں۔ اور جب وہ دن آ جائے گا تو کوئی متنفس اللہ کے حکم کے بغیر بول بھی نہ سکے گا۔ ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ جو بدبخت ہوں گے وہ آگ میں ڈالے جائیں گے اور چیخم چاخا کریں گے اور جو نیک بخت ہوں گے وہ بہشت میں داخل کیے جائیں گے اور جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

ارشاد ہے کہ دن کے دونوں سِروں میں یعنی صبح اور شام کے اوقات میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے ان کے لیے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں۔

سورۃ ہود کے بعد سورۃ یوسف ہے جس کے شروع میں ارشاد ہے کہ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔ یہ اس لیے ارشاد ہوا کہ قرآن جس نبی پر اور جس قوم والوں پر اترا وہ عرب تھے۔

اس سورت میں اللہ نے حضرت یوسف کے واقعہ کو بیان کیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ہم اس قرآن کے ذریعے جو آپ پر اتارا ہے، آپ کو ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں جس سے آپ پہلے بے خبر تھے۔ جنابِ یوسف نے بچپن میں ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کو سجدہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے والد حضرت یعقوب سے اپنا یہ خواب بیان کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اے بیٹے تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا کیونکہ وہ اسے سننے کے بعد حسد کا شکار ہوجائیں گے۔

ادھر یہ معاملہ ہو رہا تھا اُدھر جنابِ یوسف کے سوتیلے بھائی آپس میں مشورہ کر رہے تھے کہ ہم جوان ہیں لیکن ہمارے والد یعقوب صرف یوسف ہی سے پیار کرتے ہیں۔ کیوں نہ کسی بہانے سے بھائی یوسف کو والد سے علیحدہ کر دیا جائے تاکہ ہم ان کے منظورِ نظر بن سکیں۔ چنانچہ بھائی اکٹھے ہوکر جنابِ یعقوب کے پاس آئے اور کہا کہ آپ یوسف کو ہمارے ساتھ کیوں روانہ نہیں کرتے کہ وہ ہمارے ساتھ جنگل کی طرف جائے اور ہم اس کے ساتھ کھیلیں۔ جنابِ یعقوب نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم اپنے کاموں میں مصروف ہو جاؤ اور کوئی بھیڑیا اس کو نہ کھا جائے۔ بھائیوں نے کہا کہ بابا ہم جوان ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے کوئی بھیڑیا اس کو کھا جائے۔ جنابِ یعقوب نے یقین دہانیوں پر یوسف کو اپنے بیٹوں کے ساتھ روانہ کر دیا۔ یوسف کے بھائیوں نے انھیں ایک کنویں میں پھینک دیا اور رات کے وقت روتے ہوئے جنابِ یعقوب کے پاس آگئے کہ بھیڑیا یوسف کو کھا گیا ہے۔ اس پر جنابِ یعقوب نے کہا کہ میں صبر کروں گا۔ اللہ کو معلوم ہے کہ حقیقت کیا ہے۔

یوسف جس کنویں میں تھے وہاں سے ایک قافلے والوں کا گزر ہوا جنھوں نے پانی نکالنے کے لیے کنویں میں ڈول ڈالا۔ یوسف کنویں سے باہر نکل آئے۔ اہلِ قافلہ مصر جا رہے تھے۔ انھوں نے یوسف کو مصر کے ایک بڑے گھرانے میں فروخت کر دیا ۔ یوسف کی خوبصورتی اور وجاہت کو دیکھ کر اس گھر کے مالک نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ ہم یوسف کو اپنا بیٹا بنا لیتے ہیں، امید ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے گا۔ یوسف جب جوان ہوئے تو گھر کی مالکن ان پر بری نظر رکھنے لگی اور ایک دن اس نے ان کو برائی کی دعوت دی جسے یوسف نے ٹھکرا دیا۔ عورت نے یوسف پر برائی کا الزام لگایا لیکن اللہ نے محل میں ایک بچے کو قوتِ گویائی عطا کرکے جنابِ یوسف کو اس الزام سے بری کروا دیا۔

عزیزِ مصر کی بیوی فتنے کا شکار تھی۔ اس نے جنابِ یوسف کو مصر کی دیگر عورتوں کے ساتھ مل کر فتنے کا نشانہ بنانا چاہا تو یوسف نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے برائی سے بچاکر جیل میں پہنچا دے۔ اللہ نے دعا قبول فرما کر ان کو جیل میں پہنچا دیا۔ جیل میں آپ کی ملاقات دو قیدیوں سے ہوئی جنھیں آپ نے توحید کی دعوت دی۔ ان دونوں قیدیوں نے اپنے خواب یوسف کو سنائے۔ ایک قیدی نے خواب دیکھا کہ وہ انگوروں کو نچوڑ رہا ہے جب کہ دوسرے قیدی کو خواب آیا کہ اس کے سر پر روٹیاں ہیں اور پرندے چگ رہے ہیں۔ جنابِ یوسف نے فرمایا کہ ایک آدمی بادشاہ کا ساقی بنے گا جب کہ دوسرے کو پھانسی ہوگی۔ جس آدمی نے بادشاہ کا ساقی بننا تھا، اس کو جنابِ یوسف نے کہا کہ بادشاہ کو بتلانا کہ جیل میں ایک بے گناہ قیدی پڑا ہے لیکن آزاد ہونے والا قیدی یہ بات بھول گیا اور جنابِ یوسف کئی برس تک جیل میں قید رہے۔

اسی اثنا میں بادشاہ کو خواب آیا کہ سات پتلی گائیں سات موٹی گائیوں کو کھا رہی ہیں اور سات سرسبز بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں ہیں۔ اس پر بادشاہ کے ساقی کو جنابِ یوسف کی یاد آئی۔ اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت، جیل خانے میں ایک بہت بڑا عالم فاضل قیدی ہے جو اس کی صحیح تعبیر بتلا سکتا ہے۔ جنابِ یوسف نے تعبیر بتائی کہ آنے والے سات سال قحط سالی کے ہوں گے اور اس کے بعد خوشحالی اور ہریالی ہوگی۔ جنابِ یوسف کی تعبیر سننے کے بعد بادشاہ نے کہا کہ انھیں جیل سے بلایا جائے۔ یوسف نے کہا کہ جب تک میری علانیہ بے گناہی ثابت نہیں ہوگی میں جیل سے نہیں نکلوں گا۔ اس مطالبے پر عزیزِ مصر کی بیوی نے برملا جنابِ یوسف کو پاک دامن قرار دیا۔ اس پر جنابِ یوسف جیل سے باہر آنے پر آمادہ ہوگئے۔

حضرت یوسف کے واقعے کا باقی حصہ تیرھویں پارے میں بیان ہوگا۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس میں بیان کردہ واقعات سے صحیح نصیحت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Parah-11

گیارھویں پارے کا آغاز سورۃ توبہ کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ نے مہاجر اور انصار میں سے ایمان میں سبقت لے جانے والے صحابہ کا ذکر کیا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے اپنی جنتوں کو تیار کر دیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور یہ بہت بڑا اجر ہے۔

اس کے بعد اللہ نے اس خوفناک حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ مدینہ میں رہنے والے بہت سے لوگ منافق ہیں۔ اگرچہ نبی کریم ان کو نہیں جانتے مگر اللہ ان سے اچھی طرح واقف ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو عام لوگوں کے مقابلے میں دو گنا عذاب دوں گا۔ پھر اللہ نے ان منافقین کا ذکر کیا ہے جو بغیر کسی سبب کے جنگِ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ ان منافقوں کے ذہن میں یہ بدگمانی موجود تھی کہ مسلمان تبوک کے محاذ پر شکست سے دوچار ہوں گے۔ اللہ نے اہلِ ایمان کی مدد فرمائی اور اپنے خاص فضل سے ان کو فتح یاب فرما دیا۔ اللہ نے اپنے نبی کو پیشگی اطلاع دی کہ آپ ان کے پاس پہنچیں گے تو وہ آپ کے سامنے عذر پیش کریں گے۔ ارشاد ہوا کہ آپ انھیں کہیں کہ بہانے نہ بناؤ، ہم تم پر یقین نہیں کریں گے۔ اللہ نے تمھاری خبریں ہمیں پہنچا دی ہیں اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمھاری حرکتوں پر نظر رکھیں گے۔ پھر تم اس ذات کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو حاضر اور غائب سب کا جاننے والا ہے تو وہ تمھیں تمھارے اعمال کی اصلیت سے آگاہ کرے گا۔

ارشاد ہے کہ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اس غرض سے مسجد بنائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنین میں تفرقہ ڈالیں۔ ارشاد ہے کہ تم اس مسجد میں جاکر کبھی کھڑے بھی نہ ہونا البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہو وہ اس قابل ہے کہ اس میں جایا کرو۔

نیز ارشاد ہے کہ نیکی کرنے والوں نے اگر اللہ کی راہ میں کوئی چھوٹی بڑی رقم خرچ کی یا کسی وادی کو طے کیا تو اس عمل کو ان کے نامہ اعمال میں لکھ دیا گیا ہے تاکہ اللہ ان کے کاموں کا اچھا بدلہ عطا فرمائے۔

غزوہ تبوک کے موقع پر صحابہ سے مالی تعاون کے تقاضے اور ان کے چندہ دینے کے بارے میں اللہ فرماتا ہے کہ بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے جنت کا سودا کر لیا ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، اللہ کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور خود بھی اللہ کے راستے میں قتل ہوتے ہیں۔ اللہ نے اس تجارت کو انتہائی فائدہ مند تجارت قرار دیا۔

اللہ نے صحابہ کے بعض امتیازی اوصاف کا بھی ذکر کیا ہے کہ صحابہ کرام توبہ کرنے والے، اللہ کی عبادت کرنے والے، اللہ کی حمد کرنے والے، زمین میں پھرنے والے، اللہ کے سامنے جھکنے والے، اس کے سامنے سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے تھے، اور ایسے ہی مومنوں کے لیے خوشخبری ہے۔

اس سورت میں اللہ نے دینی علم کو فرضِ کفایہ قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ تمام مومنوں کے لیے ضروری نہیں کہ اپنے آپ کو دینی تعلیم کے لیے وقف کریں بلکہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر گروہ میں سے کچھ لوگ اپنے آپ کو دینی تعلیم کے لیے وقف کریں تاکہ جب اپنی قوم کی طرف پلٹیں تو ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرا سکیں۔

سورت توبہ کے آخر میں اللہ نے اپنے نبی کی صفات کا ذکر کیا ہے کہ تم میں سے ایک رسول تمھارے پاس آیا جو کہ کافروں پر زبردست ہے، مسلمانوں پر لالچ رکھتا ہے کہ وہ جنت میں چلے جائیں اور مومنوں پر رحم کرنے والا ہے۔ پس اگر وہ رسول کی ذات اور ان کے پیغام سے روگردانی کریں تو رسول اعلان فرما دے کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

سورۃ توبہ کے بعد سورۃ یونس ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ کیا انسانوں کے تعجب کی بات ہے کہ انہی میں سے ایک مرد پر وحی نازل کی جائے جو اس کے ذریعے ان کو ڈرائے۔ ارشاد ہوا کہ اللہ نے سورج اور چاند کو روشنی عطا کی اور چاند کی منازل کو بھی طے کیا تاکہ تم اس کے ذریعے سال اور مہینوں کا حساب لگاؤ۔ ارشاد ہے کہ بےشک زمین اور آسمان کی تخلیق اور رات اور دن کے آنے جانے میں اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

ارشاد ہے کہ اے لوگو! تم تک تمھارے رب کی نصیحت آ پہنچی ہے جو شفا ہے سینے کی بیماریوں کے لیے اور رحمت ہے اہلِ ایمان کے لیے۔ اے نبی، آپ اعلان فرمائیے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے اہلِ ایمان کو خوش ہو جانا چاہیے اور یہ قرآن ہر اس چیز سے بہتر ہے جسے تم اکٹھا کرتے ہو۔ مزید ارشاد ہے کہ خبردار رہو کہ اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم، اور ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایمان والے اور تقویٰ اختیار کرنے والے ہوں گے۔

اس کے بعد اللہ نے فرعون کا ذکر کیا ہے کہ اس کے خوف کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لوگ ایمان لانے سے کتراتے تھے۔ بنی اسرائیل کی مرعوبیت دیکھ کر حضرت موسیٰ نے دعا مانگی کہ اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے مصاحبوں کو دنیا کی زینت اور مال عطا کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو تیرے راستے سے برگشتہ کرے۔ اے مالک، تو ان کے مال و دولت کو نیست و نابود فرما اور ان کے دلوں کو سخت بنا تاکہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔

حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے لوگوں کو لے کر نکلے تو فرعون نے اپنے لشکر سمیت ان کا تعاقب کیا۔ موسیٰ دریا پار کر گئے تو اللہ نے اس کی لہروں کو آپس میں ملا دیا۔ فرعون دریا کے وسط میں غوطے کھانے لگا۔ اس حالت میں فرعون نے پکار کر کہا کہ میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں اس کے سوا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اللہ نے فرعون کا ایمان قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ کیا اب ایمان لائے ہو؟ اس سے پہلے تک تو تو نافرمانی اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ پس آج ہم تیرے جسم کو دریا سے نکال لیں گے تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے نصیحت بنے۔

اس سورت میں قومِ یونس کا بھی ذکر ہے کہ جب حضرت یونس اپنی قوم کی نافرمانیوں پر ناراض ہوکر ان کو خیرباد کہہ دیتے ہیں تو وہ اللہ سے باجماعت اپنے گناہوں پر معافی مانگ لیتے ہیں۔ اللہ ان کی اجتماعی توبہ اور استغفار کی وجہ سے ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔

سورت یونس کے آخر میں ارشاد ہے کہ تم سب یکسو ہوکر دینِ اسلام کی پیروی کیے جاؤ اور مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا۔ اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو تمھارا نہ بھلا کر سکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ ارشاد ہے کہ اے نبی، جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کیے جائیے اور تکلیفوں پر صبر کیجیے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے۔ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

اس کے بعد سورت ہود شروع ہوتی ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں۔ ارشاد ہے کہ تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین