Pages

Saturday, May 16, 2020

Parah-21

اکیسویں پارے کا آغاز سورۃ عنکبوت کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک حضرت محمد علیہ السلام سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں، بے شک نماز فحاشی اور برے کاموں سے ہٹا دیتی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ آپ پہلے سے نہ کوئی کتاب پڑھے تھے نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ورنہ اہلِ باطل شک کرتے (کہ قرآن اللہ کی وحی کردہ کتاب نہیں ہے بلکہ جناب محمد یہ آیتیں خود گھڑتے ہیں)۔ آپ کا بغیر کسی سابقہ تعلیم کے قرآنِ مجید جیسی کتاب کو پیش کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آپ پر وحی آتی ہے اور آپ اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ یہ واضح آیات ہیں جن کو اللہ نے اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ فرما دیا ہے۔ اللہ کی آیات سے جھگڑنے والے لوگ ظالم اور کافر ہیں۔ اللہ تعالی نے اس سورت میں مشرکینِ مکہ کی بداعتقادی کا ذکر کیا کہ جب وہ سمندروں میں ہوتے ہیں تو اللہ کو پورے اخلاص سے پکارتے ہیں اور جب خشکی پر ہوتے ہیں تو شرک کا ارتکاب اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس سورت کے آخر میں اللہ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میرے راستے میں جد و جہد کرتے ہیں میں ان کو ضرور راستے دکھاؤں گا، اور بے شک اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

سورۃ عنکبوت کے بعد سورۃ روم ہے۔ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب روم کو ایران کے آتش پرستوں سے شکست ہوئی۔ کفارِ مکہ ایرانیوں کی اس فتح پر بہت خوش تھے۔ اللہ نے اس سورت میں مومنوں کی دلجوئی کے لیے اعلان فرمایا کہ اہلِ روم مغلوب ہوگئے، قریب کی سرزمین (شام) میں اور اپنی مغلوبیت کے بعد چند ہی سال میں غالب آئیں گے۔ پہلے بھی ہر چیز کا اختیار صرف اللہ کے پاس تھا اور بعد میں بھی صرف اس کے پاس رہے گا اور اس دن سے مومن خوش ہو جائیں گے۔ (جب ان آیات کا نزول ہوا تو مشرکینِ مکہ نے ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے اس کو ناممکن خیال کیا۔ یہ لوگ خدا کی طاقت اور اختیارات سے ناواقف تھے اس لیے ان کی نگاہ صرف ظاہری حالات پر تھی۔ اللہ نے ہجرت سے ایک سال قبل ایرانیوں کو کمزور کرنا شروع کر دیا اور 2 ہجری میں ایرانیوں کا سب سے بڑا آتشکدہ بھی رومی فتوحات کی لپیٹ میں آگیا۔ اسی سال بدر کے معرکے میں مسلمانوں کو اللہ نے غلبہ عطا فرمایا اور مسلمانوں کی خوشیاں دوچند ہوگئیں کہ رومیوں کی فتح کی اچھی خبر سننے کو مل گئی اور اللہ نے مسلمانوں کو بھی کافروں کے مقابلے میں فتح یاب فرما دیا۔)

یہ سورت حزب الرحمن یعنی رحمان کا گروہ اور حزب الشیطان کے درمیان معرکہ کا ذکر کرتی ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا یہاں تک اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما کر دونوں کو ان ٹھکانوں پر پہنچا دیں. اللہ کا ارشاد ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو فرقے الگ الگ ہوجائیں گے اور مومنوں کو جنت رسید اور کفار کو جہنم رسید کیا جائے گا. یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ حق والے ہمیشہ غالب رہیں گے. اگر کہیں حق والے مغلوب ہیں تو وہ دیکھیں کہیں انھوں نے باطل کے طور طریقوں کو تو نہیں اپنا لیا اور کہیں باطل نے حق کے طور طریقے اپنا لیے ہیں.

اس سورت میں اللہ نے مسلمانوں کی نصیحت کی ہے کہ قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کا حق ان کو دینا چاہیے۔ یہ بہتر ہے کہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے اللہ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ارشاد ہے کہ جو سود انسان کھاتا ہے اس کا مقصد مالوں کو پرورش دینا ہوتا ہے لیکن اس سے مال پروان نہیں چڑھتا اور جو زکوٰۃ اللہ کے لیے دی جاتی ہے اللہ اس سے مال میں اضافہ فرماتے ہیں۔

اس سورت کے آخر میں کفار کا ذکر ہے کہ وہ قرآن مجید کی آیات کو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی غور کرتے ہیں جیسے کے مردہ ہوں۔ سورۃ روم کے بعد سورۃ لقمان ہے۔ اس میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے والے لوگ نمازیں قائم کرنے والے، زکوٰۃ ادا کرنے والے اور آخرت پر پختہ یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔ بعض لوگ لغو باتوں کی تجارت کرتے ہیں اور ان کا مقصد صرف لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے، ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اللہ نے جنابِ لقمان کا ذکر کیا ہے جن کو دانائی سے نوازا گیا تھا۔ لقمان نے اپنے بیٹے کو کچھ قیمتی نصیحتیں کی تھیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اے جانِ پدر شرک نہ کرنا، شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ نیز والدین کی خدمت کی تلقین کی۔ پھر اللہ کے علم کی وسعتوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے بیٹے اگر رائی کے دانے کے برابر کوئی چیز کسی چٹان کے اندر یا آسمان و زمین میں ہو تو اللہ اس کو بھی سامنے لائے گا، بے شک اللہ بڑا باریک بین باخبر ہے۔ نیز فرمایا کہ اے میرے بیٹے نماز قائم کر، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روک، اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بےشک یہ بڑی ہمت والے اور ضروری کام ہیں۔ اخلاق کریمانہ کی نصیحت کی کہ لوگوں سے اپنا چہرہ پھیر کر بات نہ کر (یعنی بے رخی سے) اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بے شک اللہ اکڑ کر چلنے والے اور متکبرین کو پسند نہیں کرتا، اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز پست رکھنا کیونکہ بلند آواز اگر اچھی ہوتی تو گدھے کی آواز اچھی ہوتی حالانکہ آوازوں میں بدترین آواز گدھے کی آواز ہے.

مشرکین کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر خود ان سے سوال کیا جائے تو کہیں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے. اگر تمام درختوں کے قلم بنا لیے جائیں اور ساتوں سمندر روشنائی بن جائیں تب بھی خالق کائنات کی صفات مکمل بیان نہیں ہو سکتیں.

اس سورت کے آخر میں اللہ پانچ ایسی باتوں کو ذکر کیا ہے جن کو صرف وہ جانتا ہے: ساعت یعنی قیامت کا علم، بارش کا ہونا، ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کسی نفس کو نہیں معلوم کہ کل کیا ہوگا (یا کل وہ کیا کر سکے گا) اور کوئی نہیں جانتا وہ کس زمین میں مرے گا۔ ان تمام باتوں کا علم صرف باخبر اور علم رکھنے والے اللہ کے پاس ہے۔

اس کے بعد سورۃ الم سجدہ ہے جس میں اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا ہے. انسان کو توجہ دلائی کہ وہ اپنی تخلیق پر غور کرے کہ اللہ نے کیسے اور کن مراحل میں اس کی تخلیق کی ہے. پھر فرمایا ہے کہ اللہ نے ملک الموت کو انسانوں کی ارواح قبض کرنے پر مامور کیا ہے۔

اللہ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی انسان کو علم نہیں کہ اللہ نے آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کیا اہتمام فرمایا ہے. یہ سورت مومنین اور مجرمین دونوں کا حال بتاتی ہے. ارشاد ہے کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہو سکتے. مجرم قیامت کے دن سر جھکائے کھڑے ہوں گے. ان کے چہروں پر ذلت ہوگی اور کہیں گے کہ کاش ہمیں واپس لوٹا دیا جائے تو ہم نیک اعمال کریں. مومنین اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کے پہلو راتوں کو بستر سے جدا رہتے ہیں، اور اللہ کے دیے ہوئے مال سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں. مومن کا مقدر جنت جب کہ فاسق کا مقدر جہنم کے انگارے ہیں.

سورۃ سجدہ کے بعد سورۃ احزاب ہے۔ شروع کی دو آیات میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو لائحہ عمل دیا ہے کہ اللہ سے ڈرو، کفار کی پیروی مت کرو اور صرف وحی کی پیروی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو. اس کے بعد فرمایا کہ کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں ہوتے ایک ہی دل ہوتا ہے جس کفر ہوگا یا اسلام. اس کے بعد ازواجِ مطہرات کو امت کی مائیں قرار دے کر ان کی عظمت کو بیان کیا. آگے چل کر اللہ نے جنگِ خندق کا ذکر کیا ہے جس میں کافروں کی افرادی قوت دیکھ کر منافقین کے دلوں پر ہیبت طاری ہوگئی تھی جب کہ اہلِ ایمان پوری استقامت سے میدان میں ڈٹے رہے۔ ایک لشکرِ جرار نے مدینے پر حملہ کیا۔ رسول اللہ کے ساتھ صحابہ کرام کے علاوہ سترہ سو یہودی حلیف تھے۔ سترہ سو حلیف اتنی بڑی فوج دیکھ کر بھاگ گئے۔ اب صرف چار ہزار جانباز مسلمانوں کی جماعت کے ذریعے خدا نے اہلِ ایمان کی مدد فرمائی اور کافر کثرتِ تعداد اور وسائل کی فراوانی کے باوجود ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس سورت میں اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس کو اللہ سے ملاقات اور یومِ حساب کی آمد کا یقین ہے اس کے لیے رسول اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔

اس پارہ کے اختتام اور اگلے پارہ کے شروع میں اللہ تعالٰی نے ازواجِ مطہرات کو بالخصوص اور عام خواتین کو بالعموم چند معاشرتی آداب سکھائے ہیں جن کا ذکر ان شاءاللہ اگلے پارے کے آغاز میں ہوگا.

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ مجید میں بیان کردہ مضامین سے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

Thursday, May 14, 2020

Parah-20

بیسویں پارے کا آغاز سورۃ نمل کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ شروع میں ہی اللہ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی قوتِ تخلیق اور توحید کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اس کے سوا کون ہے جس نے زمین و آسمان کو بنایا اور آسمان سے پانی کو اتارا، جس کی وجہ سے مختلف قسم کے باغات اگتے ہیں. اور کون ہے جس نے زمین کو ٹھہرایا ہوا ہے اور اس میں پہاڑوں کو لگایا اور اس میں نہروں کو جاری کیا ہے۔ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی الٰہ ہے؟ پھر پوچھا، اللہ کے سوا کون ہے جو بے قراری کی حالت میں کی گئی دعاؤں کو سننے والا ہو اور جو تکلیف پہنچتی ہے اس کو دور کرنے والا ہو۔ اور اللہ کے سوا کون ہے جو خشکی اور رات کی تاریکیوں میں انسانوں کی رہنمائی کرنے والا ہے اور کون ہے جو خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجنے والا ہے۔ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی معبود ہے جو تخلیق کا آغاز کرنے والا ہو اور دوبارہ اس کو زندہ کرنے والا ہو اور کون ہے جو زمین و آسمان سے رزق عطا کرنے والا ہو؟ اس کے بعد اللہ چیلنج کرتا ہے کہ اگر تمھارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو۔

اس کے بعد مشرکین کی اس غلط فہمی کہ جب ہم ہڈیوں کا چورا بن جائیں گے تو پھر دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے کا ازالہ کیا کہ جو اتنی زبردست قدرت کا مالک ہے اس کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں. ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلی دی اور مشرکین کو انتباہ کیا کہ اگر تم اسی طرح نافرمانی کرتے رہے تو تمھارا بھی وہ حشر ہوگا جیسا پہلی اقوام کا ہوا. زمین میں چل پھر کر عبرت حاصل کرو اور دیکھو کہ اللہ نے فسادیوں کا کیا انجام کیا.

سورۃ نمل کے بعد سورۃ قصص ہے۔ فرعونوں کے سلسلے کے بادشاہ Thutmose-II کو اللہ نے بہت طاقت دی تھی لیکن وہ سرکش ہوگیا اور ظلم و ستم شروع کر دیے. اس نے اپنے زیر نگیں رعایا کو مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کر رکھا تھا. بنی اسرائیل اس وقت سب سے زیادہ مظلوم تھے. اللہ نے ان کو فرعون سے نجات دلانے کے لیے موسی علیہ السلام کو مبعوث کیا. شروع میں اللہ نے جنابِ موسیٰ کی ولادت کا ذکر کیا ہے۔ فرعون ایک برس بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرواتا اور اگلے برس ان کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ جنابِ موسیٰ اس سال پیدا ہوئے جس سال فرعون نے بچوں کے قتل کا حکم دے رکھا تھا۔ اللہ نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں خیال ڈالا کہ جب خدشہ ہو کہ فرعون کے ہرکارے آ پہنچے ہیں تو بچے کو جھولے میں لٹا کر سمندر میں ڈال دیں۔ لہروں نے جھولے کو فرعون کے محل تک پہنچا دیا۔ فرعون کی بیوی آسیہ نے جھولے میں خوبصورت بچہ دیکھا تو میاں سے سفارش کی کہ اسے قتل نہ کریں، یہ میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔ ہم اس کو بیٹا بنا لیں گے اور یہ ہمارے لیے نفع بخش بھی ہو سکتا ہے۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورت کی تلاش ہوئی تو جنابِ موسیٰ کی بہن نے کہا میں ایک عورت کو بلاتی ہوں جو اس بچے کو دودھ پلائے۔ یوں اللہ نے جنابِ موسیٰ کو ان کی والدہ سے ملا دیا۔

جنابِ موسیٰ کو اللہ نے علم و حکمت سے بہرہ ور فرمایا۔ ایک دن فرعون کے قبیلے کا ایک آدمی بنی اسرائیل کے ایک آدمی سے لڑ رہا تھا. اس نے جب موسیٰ کو دیکھا تو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی دہائی دی۔ جناب موسیٰ نے اس فرعونی کو ایسا گھونسہ مارا کہ وہ تھاں ڈھیر ہوگیا۔ یہ قتلِ سہو تھا۔ آپ نے پروردگار سے توبہ و استغفار کی جسے اللہ نے قبول فرمایا۔ اگلے دن وہ ڈرتے ڈرتے شہر میں داخل ہوئے تو وہی بنی اسرائیلی کسی اور سے گتھم گتھا تھا۔ جنابِ موسیٰ نے اس کی مدد کے لیے ہاتھ اٹھایا تو وہ سمجھا کہ آپ اسے مارنے لگے ہیں۔ اس ہڑبڑاہٹ میں اس نے کل کے قتل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اتنے میں موسیٰ کو اطلاع ملی کہ فرعون کے فرستادے ان کو تلاش کر رہے ہیں۔ اللہ نے جنابِ موسیٰ کی رہنمائی کی اور ان کو مدین کے گھاٹ پر پہنچا دیا۔ وہاں لوگ پانی نکالنے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے اور دو لڑکیاں بھی پانی لینے آئی تھیں لیکن ہجوم کی وجہ سے پانی لینے سے رکی ہوئی تھیں۔ آپ نے انسانی ہمدردی میں ان کے لیے پانی نکالا اور ایک طرف ہٹ کر سائے میں بیٹھ گئے۔ پھر بھوک چمکی تو خدا سے خیر کی دعا مانگی۔ یکایک انہی دو لڑکیوں میں سے ایک انتہائی شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہا کہ میرے بابا آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ جو ہمارے کام آئے ہیں اس کا صلہ دیا جا سکے۔ جنابِ موسیٰ مدین کے اس بزرگ شخص کے پاس پہنچے اور اپنے حالات سے آگاہ کیا تو اس نے کہا کہ آپ میرے پاس رہیں اور اپنی ایک بیٹی کی شادی جنابِ موسیٰ سے کر دی۔

دس برس بعد جنابِ موسیٰ نے وطن واپسی کا ارادہ کیا۔ راستے میں طور پہاڑ کے پاس سے گزرے تو دور سے آگ جلتی نظر آئی۔ اہلیہ سے فرمانے لگے کہ تم ذرا ٹھہرو میں طور سے آگ لے کر آتا ہوں کہ اس سے سردی دور ہو جائے گی۔ طور پر پہنچے تو اللہ نے آواز دی: اے موسیٰ، میں خدائے عزیز و حکیم ہوں. یہاں آپ کو اللہ نے نبوت سے نوازا اور آپ کے عصا کو معجزاتی عصا اور آپ کے ہاتھ کو یدِ بیضا یعنی نورانی بنا دیا۔ آپ نے اللہ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا فرما دے۔ یہ دعا بھی قبول کر لی گئی۔ جنابِ موسیٰ فرعون کے پاس دعوت دین لے کر پہنچے تو اس نے دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ موسیٰ نے ہر طرح اس کو سمجھایا مگر وہ نہ مانا یہاں تک کہ اللہ نے اُسے اور اس کے لشکریوں کو سمندر میں ڈبو کر ہلاک کر دیا۔

حضرت موسی اور ان کی قوم کا یہ واقعہ اپنے اندر کئی نصائح اور حکمتیں لیے ہوئے ہے. مصائب و آلام میں صبر کرنا اور اللہ کی جانب متوجہ رہنا ہمیشہ اچھے نتائج دیتا ہے. آدمی جب مصائب و مشکلات میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کی ضرور مدد کرتا ہے. جب آپ اللہ کے راستہ میں قربانی دیتے ہیں تو اللہ آپ کے دشمنوں میں ہی آپ کے حمایتی پیدا کر دیتے ہیں. باطل جس قدر طاقت ور کیوں نہ ہوں آخر اسے ناکامی اس کا مقدر بنتی ہے. اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلانے کی عملی کوشش کرنا انبیاء کی سنت ہے.

اس کے بعد اللہ نے سرمایہ داروں کی تنبیہہ کی غرض سے قارون کا قصہ ذکر کیا ہے جو بے تحاشہ مال کا مالک تھا. اس کے خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت اٹھایا کرتی تھی. لیکن جب اسے غرور کرنے اور زمین میں فساد کرنے سے روکا گیا تو اس نے کہا یہ تو میرا مال ہے جو مجھے میری دانش کے بدلے ملا ہے، میں اسے جیسے چاہوں استعمال کروں. اس سرکرشی پر اللہ نے اسے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا. اس کے بعد اللہ نے سب باتوں کی ایک بات فرمائی کہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لیے تیار کر رکھا ہے جو ”بڑا بننے اور زمین پر فساد کرنے سے رک جائیں.”

اس کے بعد سورۃ عنکبوت ہے۔ اس کے شروع میں اللہ نے واضح کر دیا کہ جو بھی ایمان کا دعوٰی کرے گا وہ آزمایا جائے گا. اور یہ بات واضح کی جائے گی کہ کون کھرا ہے اور کون کھوٹا. اور ہمیشہ سے ایسا ہوا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے وہ آزمائے گئے. اسی کی مثال کے طور پر اللہ نے اس سورت میں پچھلی قوموں اور افراد (حضرت نوح، ابراہیم، لوط، صالح علیہما السلام) کا ذکر کیا ہے جنھوں نے وقت کے حاکموں کے ظلم اور استبداد کی پروا نہ کی اور اللہ کی توحید پر بڑی استقامت کے ساتھ کاربند رہے اور اپنے ایمان کے دعوے کو عمل سے ثابت کیا تاکہ اہل ایمان سمجھ لیں کہ آزمائش تو آئے گی لیکن اس کے بعد فراخی و کامیابی ہوگی. اس سورت میں اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ مشرکوں کی مثال مکڑی کی ہے جو گھر بناتی ہے لیکن اس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ اسی طرح مشرک غیر اللہ کو پکارتے ہیں مگر ان کی پکار میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔ بے شک ان کا دعویٰ مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہوتا ہے۔ اور بے شک گھروں میں کمزور ترین گھر مکڑی کا گھر ہے.

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Parah-19

انیسویں پارے کا آغاز سورۃ الفرقان کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ آغاز میں اللہ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کو میری ملاقات کا یقین نہیں وہ بڑے تکبر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کا نزول ہونا چاہیے یا ہم پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب وہ قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھیں گے تو اس دن مجرموں کو کوئی خوش خبری نہیں ملے گی.

اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنی امت سے متعلق ایک شکوہ بھی بتایا کیا ہے کہ آپ قیامت کے دن اللہ سے ان لوگوں کی شکایت کریں گے جنھوں نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا. نہ تلاوت کی نہ سمجھا اور نہ اس پر عمل کیا. لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کو وہ قرآن کو پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا رہے.

اس سورت میں ارشاد ہے کہ قیامت کے دن ظالم اپنے ہاتھ کو کاٹے گا اور کہے گا اے کاش میں نے رسول کے راستے کو اختیار کیا ہوتا اور کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے نصیحت آ جانے کے بعد غافل کر دیا۔ یعنی بہت سے لوگ بری صحبت کو اختیار کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوں گے۔ انسان کو ہمیشہ نیکو کاروں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔

اس سورت کے آخر میں اللہ نے اپنے بندوں (عباد الرحمٰن) کی صفات بیان فرمائی ہیں کہ اللہ کے یہ بندے زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے، جاہلوں سے واسطہ پڑے تو انھیں سلام کرکے الگ ہو جاتے ہیں، ان کی راتیں رکوع و سجود میں گزرتی ہیں، خرچ کرنے میں اعتدال رکھتے ہیں نہ بخل کرتے ہیں اور نہ فضول خرچی،شرک نہیں کرتے، قتلِ ناحق سے بچتے ہیں اور زنا بدکاری کے قریب بھی نہیں جاتے، جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور برائی کی مجالس سے دور رہتے ہیں، اور اپنے لیے اور بیوی بچوں کے لیے دعا مانگتے ہیں.

سورۃ فرقان کے بعد سورۃ الشعراء ہے۔ اس سورت اللہ نے قومِ نوح، قومِ ہود، قومِ ثمود اور قومِ لوط پر آنے والے عذابوں کا تذکرہ کیا کہ کس طرح ان تمام اقوام نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی اور عذاب کا نشانہ بنے۔ اللہ نے ان سب نبیوں کا اسلوبِ دعوت بیان فرمایا ہے کہ انھوں نے کارِ نبوت کے بدلے اپنی قوم سے کچھ نہیں چاہا بلکہ اپنی ساری تگ و دو کا اجر صرف اللہ سے چاہا۔ اس کے باوجود ان عاقبت نااندیش اقوام نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور انجامِ کار عذاب کا نشانہ بنے اور رہتی دنیا کے لیے عبرت کا نشان بن گئے۔

اللہ نے جنابِ ابراہیم کا بھی ذکر کیا کہ انھوں نے اپنی قوم سے بت پرستی کی وجہ دریافت کی کہ کیا تم جب ان کو پکارتے ہو اور وہ تمھاری پکاروں کو سنتے ہیں اور کیا وہ تمھیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں، تو جواب میں قوم کے لوگوں نے کہا نہیں، بلکہ ہم نے اپنے آبا و اجداد کو ان بتوں کو پوجتے ہوئے دیکھا اس لیے ہم بھی انھیں پوجتے ہیں۔ اس پر جنابِ ابراہیم نے کہا کہ میں تمھارا اور تمھارے آبا و اجداد کے معبودوں کا مخالف ہوں۔ میری وفا اور محبت رب العالمین کے لیے ہے جس نے مجھے بنایا اور سیدھا راستہ دکھایا، جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے، جو مجھے امراض سے شفا عطا دیتا ہے، جو مجھے موت بھی دے گا اور پھر دوبارہ زندہ بھی کرے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے قیامت کے دن معاف بھی کرے گا۔

اللہ نے قرآنِ مجید کے اپنی طرف سے نازل ہونے کا بھی ذکر کیا کہ اللہ نے قرآن کو واضح عربی زبان میں اتارا اور اس کو جبریلِ امین جنابِ رسولِ کریم کے سینہ مبارک پر لے کر آئے تاکہ وہ لوگوں کو ڈرائیں اور کہا کہ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء بھی اس کو پہچانتے ہیں۔

اس سورت میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان ہر جھوٹ بولنے والے بڑے گناہ گار پر نازل ہوتا ہے اور بھٹکے ہوئے شاعروں پر بھی، وہ شعرا جو ہر وقت وہم کی وادیوں میں ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں اور قوتِ عمل سے قاصر صرف باتیں بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عملِ صالح کا راستہ اختیار کیا، اللہ ان سے شیاطین کو دور فرمائیں گے۔

سورۃ الشعراء کے بعد سورۃ النمل ہے۔ اس میں اللہ نے حضرت موسیٰ کی نشانیوں کا ذکر کیا جنھیں بے مثال معجزات عطا کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اللہ نے داؤد اور سلیمان علیہما السلام کو علم کی نعمت سے مالامال فرمایا اور ان کو اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اللہ نے جنابِ سلیمان کو علم اور حکومت کے اعتبار سے جنابِ داؤد کا وارث بنایا اور ان کو پرندوں اور جانوروں کی بولیاں سکھائی تھیں اور جنات، انسانوں اور ہواؤں پر حکومت دی تھی۔

ایک بار سلیمان علیہ السلام کا لشکر گزر رہا تھا کہ جناب سلیمان نے دیکھا کہ ایک چیونٹی ملکہ دوسری چیونٹیوں کو کہہ رہی ہے کہ جلدی جلدی بل میں گھسو ایسا نہ ہو کہ سلیمان کا لشکر تمھیں روند ڈالے. جناب سلیمان نے اس کی آواز سنی اور بولی کو سمجھ لیا تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ انھیں کیا کیا نعمتیں عطا فرمائی گئی ہیں.

اس سورت میں اللہ نے جنابِ سلیمان کے دربار کی ایک کیفیت کا بھی ذکر کیا کہ ایک دن آپ نے ہدہد کو غائب پایا تو اس کا نوٹس لیا اور فرمایا کہ اگر ہدہد نے اپنی غیر حاضری کی معقول وجہ بیان نہ کی تو اسے شدید عذاب دیا جائے گا یا ذبح کر دیا جائے گا۔ کچھ دیر بعد ہدہد آیا تو اس نے اپنی کارگزاری سنائی کہ آج دربار کی طرف آتے ہوئے میرا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جہاں کے لوگوں کو اللہ کی بہت سی نعمتیں حاصل ہیں اور ان پر ایک عورت بلقیس حکمران ہے اور قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ سورج کی پوجا کر رہی ہے جب کہ انھیں اللہ کی پوجا کرنی چاہیے۔ جنابِ سلیمان نے اس ملکہ کو خط لکھا۔ جواب میں ملکہ نے تحفے تحائف بھجوائے۔ جنابِ سلیمان نے تحفوں کو دیکھ کر کہا کہ جو کچھ اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے وہ ملکہ کے بھجوائے ہوئے ان تحفوں سے بہت بہتر ہے۔ آپ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو ملکہ کو تخت سمیت میرے دربار میں لے آئے۔ اس پر ایک بڑے جن نے کہا کہ میں دربار کے برخاست ہونے سے پہلے ملکہ کو تخت سمیت یہاں لاسکتا ہوں۔ ایک اور شخص کھڑا ہوا جو کتاب کا علم رکھنے والا اور اللہ کے اسمائے اعظم کا عالم تھا۔ اس نے کہا میں ملکہ کے تخت کو آپ کے پہلو بدلنے سے پہلے حاضر کر دوں گا۔ آنًا فانًا ملکہ بلقیس تخت سمیت وہاں آگئیں۔ جناب سلیمان نے ملکہ کے تخت میں تبدیلی کرکے ان سے پوچھا کیا یہ آپ ہی کا تخت ہے، تو ملکہ نے ہاں میں جواب دیا۔ اس کے بعد جنابِ سلیمان نے ملکہ کو اپنے محل کے ایک خاص حصے میں آنے کی دعوت دی جس کا فرش شیشے کا بنا ہوا تھا لیکن دیکھنے والی آنکھ کو پانی محسوس ہوتا تھا۔ جب ملکہ بلقیس شیشے کے فرش پر سے گزرنے لگیں تو اپنی پنڈلیوں سے کپڑے کو اٹھا لیا تاکہ پوشاک گیلی نہ ہو. جنابِ سلیمان نے کہا کہ یہ پانی نہیں شیشہ ہے۔ اس طرح انھوں نے ملکہ کو جتلایا کہ آپ پانی اور شیشے میں فرق نہیں کر سکیں۔ جنابِ سلیمان اصل میں ملکہ کو باور کرا رہے تھے کہ اسی طرح آپ سورج کی روشنی اور اللہ کے نور میں فرق نہیں کر سکیں چنانچہ سورج کی پوجا کرتی ہیں۔ ملکہ نے فوراً اعلان کیا کہ اے میرے پروردگار میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اور یوں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ دین کی دعوت ہمیشہ حکمت اور دانائی سے دینی چاہیے اور مخاطب کو اپنے ماحول میں لاکر دینی چاہیے۔

اللہ تعالی ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

Parah-18

اٹھارویں پارے کا آغاز سورہ مومنون سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے جو جنت کے سب سے بلند مقام فردوس کا وارث بننے والا ہے۔ اللہ فرماتا ہے وہ مومن کامیاب ہوئے جنھوں نے اپنی نمازوں میں اللہ کے خوف اور خشیت کو اختیار کیا، جنھوں نے لغویات سے اجتناب کیا، جو زکوٰۃ کو صحیح طریقے سے ادا کرتے ہیں، جو امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں، جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، جو اپنی پاک دامنی کا تحفظ کرتے ہیں اور سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے کسی سے خلوتِ صحیحہ نہیں کرتے۔ جو صاحبِ ایمان ایسا کرے گا وہ فردوس کا وارث بن جائے گا۔

ارشاد ہے کہ جب کافروں پر عذاب آئے گا تو وہ چیخ پڑیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا آج چیخ پکار مت کرو، ہمارے مقابلہ میں کسی طرف سے تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔ ہماری آیات کی تمھارے سامنے تلاوت کی جاتی تو تم الٹے قدموں بھاگ پڑتے تھے، تکبر کرتے اور اپنی رات کی محفلوں میں اس قرآن کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے۔

اللہ کافروں کی غفلت اور سرکشی کو اجاگر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا انھوں نے قرآن کریم پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے جو ان کے آبا و اجداد کے پاس نہیں آئی یا انھوں نے اپنے رسول کو پہلے سے نہیں پہچانا جو ان کا انکار کر رہے ہیں۔ اللہ اس حقیقت کو واضح فرماتا ہے کہ نبی کریم علیہ السلام کی سابقہ زندگی ان کے سامنے ہے اس لیے ان کو صادق اور امین رسول کا انکار نہیں کرنا چاہیے اور صرف اس وجہ سے قرآن کو رد نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ان کے آبا و اجداد کے عقائد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کو حق پر مبنی دعوت پر غور کرنا چاہیے اور اللہ کی اس وحی کو دل و جان سے قبول کرنا چاہیے۔ درحقیقت وہ یہ چاہتے تھے کہ حق ان کی خواہشات کے تابع کر دیا جائے۔

اس سورت میں یہ بھی ارشاد ہے کہ بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہم نے ان کو بغیر وجہ کے پیدا کر دیا اور انھوں نے ہمارے پاس پلٹ کے نہیں آنا حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور وہ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور ان کو اپنے کیے کا جواب دینا ہوگا۔

اس سورت کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو کوئی بھی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس ایسا کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور اس کا حساب پروردگار کے پاس ہے اور اس نے کبھی کافروں کو کامیاب نہیں کیا۔

سورۃ مومنون کے بعد سورۃ نور ہے جس میں اللہ نے جنسی جرائم اور فحاشی کی روک تھام کے لیے زنا کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس سورت میں Character Assassination کے ہتھیار سے مذہبی و سیاسی یا کاروباری مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے برے فعل سے روکنے کے اقدامات ذکر گئے ہیں۔ ارشاد ہے کہ زانی اور زانیہ کو بدکاری ثابت ہونے پر ایک سو کوڑے مارے جائیں۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی مذمت کی گئی ہے اور ارشاد ہے کہ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر اپنی بات کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط کو پورا نہیں کرتے ایسے لوگوں کو اسی کوڑے لگائے جائیں اور مستقبل میں ان کی کوئی گواہی قبول نہ کی جائے اور ان کا شمار فاسقوں میں ہوگا۔ ایسے ہی اگر شوہر اپنی بیوی پر الزام لگاتا ہے تو غیرت کے نام پر قتل (Honour Killing) کے بجائے الزام کے سچ جھوٹ ثابت کرنے کا طریقہ بتلایا. (رجم کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے۔ یہ سزا جہاں بھی دی جا رہی ہے اس کا اسلام سے نہیں، علاقائی رواج سے تعلق ہے۔)

اللہ نے سورۃ نور کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں نام لیے بغیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءَت کا اعلان فرمایا اور یوں اہلِ ایمان کو ازواجِ مطہرات کی حرمت و ناموس کے بارے میں خبردار کر دیا اور اصول طے فرما دیا کہ جب بات نبی اور ان کے گھر والوں کی ہو تو راوی کو مت دیکھا جائے۔ اہلِ ایمان کو یہ سمجھایا گیا کہ انھیں ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اور اگر کوئی نبی یا ان کی ازواج میں سے کسی کی کردار کشی کرے تو سننے والے کو علی الفور کردار کشی کو بہتان سے تعبیر کرنا چاہیے۔ بارھویں آیت میں ارشاد ہے کہ جب تم نے اس خبر کو سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے بارے میں اچھا گمان کیوں نہیں کیا، اور سنتے ہی کہہ کیوں نہیں دیا کہ یہ واضح طور پر تراشا ہوا جھوٹ اور طوفان ہے؟ اگر کسی واقعہ پر چار گواہ موجود نہ ہوں تو الزام تراشی کرنے والا اللہ کی نظر میں جھوٹا ہے۔ اسی طرح سولھویں آیت میں ارشاد ہے کہ جب تم نے اس خبر کو سنا اسی وقت یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم تو اس کو ماننا تو دور کی بات، اس پر گفتگو تک کرنے کے روادار نہیں۔ اے اللہ تو پاک ہے (اس کمزوری سے کہ نبی کے حرم کی حفاظت نہ کرسکے) یہ تو عظیم بہتان ہے۔ جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا و آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہے۔ اے مومنو، شیطان کے قدموں پر مت چلنا۔ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان کی زبانیں اور ہاتھ پاؤں قیامت کے دن ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں ہیں اور بروں کے لیے بری۔

اس بعد گھروں میں داخل ہونے کا ادب بتایا کہ کسی کے گھر میں بغیر اجازت مت داخل ہوں بلکہ پہلے اجازت لے کر سلام کرکے داخل ہوں.

معاشرے میں مرد و زن کے اختلاط سے فروغ پانے والی برائیوں کی روک تھام کے لیے اللہ نے اس پارے میں مومن مردوں کو اپنی نگاہیں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے جب کہ مومن عورتوں کو اپنی نگاہیں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے حکم کے ساتھ ساتھ اوڑھنیاں سینے پر رکھنے، پاؤں کی آواز کے پھیلنے سے روکنے اور محرم رشتہ داروں کے علاوہ کسی شخص کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنے سے منع کیا ہے.

اللہ نے غیر شادی شدہ مرد کی شادی کرنے کا حکم دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص فقیر ہو تو نکاح کرنے کے نتیجے میں اللہ اس کو غنی فرما دیں گے۔ نیز غلامی کے خاتمہ کے لیے ایک اہم حکم فرمایا کہ اگر غلام کچھ رقم کے عوض آزادی چاہیں تو ان کو آزاد کر دو.

آگے ارشاد ہے کہ اللہ زمین اور آسمان کو روشن فرمانے والا ہے اور وہ اپنے نور کے ذریعے جسے چاہتا ہے ہدایت کے راستے پر گامزن فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالی نے ان مردوں کا ذکر کیا ہے جو تجارت اور سوداگری میں مشغول ہونے کے باوجود اللہ کے ذکر اور نماز سے غافل نہیں ہوتے۔ اللہ نے صحیح ایمان رکھنے والے مومنوں کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کو اللہ اور رسول کے احکامات کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، اور شاندار کامیابی انہی صاحبِ ایمان لوگوں کے لیے ہے۔

اللہ نے اس وقت موجود اہلِ ایمان یعنی صحابہ سے وعدہ کیا کہ جو ایمان اور عملِ صالح کے راستے پر چلیں گے اللہ ان کو زمین پر خلافت عطا فرمائیں گے جس طرح سابقہ اہلِ ایمان کو خلافتِ ارضی سے نوازا گیا تھا۔ اللہ نے اس وعدے کو اپنے نبی کی حیاتِ مبارک ہی میں پورا فرما دیا اور سرزمینِ حجاز کے بڑے حصے پر آپ کے کامیاب سیاسی معاہدوں کی وجہ سے آپ کا اثر و رسوخ قائم کر دیا اور صحابہ کو اقتدار عطا ہوا (البتہ جس ریاستی بندوبست کو آج کی اصطلاحی سیاسی زبان میں سلطنت یا ریاست کہتے ہیں اس کا قیام بہت بعد کی بات ہے)۔

اس سورت میں اللہ نے خلوت کے تین اوقات کا ذکر کیا ہے کہ ان اوقات میں کسی کے گھر جانا درست نہیں: فجر سے پہلے، ظہر کے بعد جب لوگ اپنے ضروری کپڑے اتار کر آرام کرتے ہیں، اور عشاء کے بعد۔ ان تین اوقات کے علاوہ انسان کسی بھی وقت کسی کے گھر اجازت لے کر ملاقات کو جا سکتا ہے۔

سورۃ نور کے آخر میں اللہ نے حضرت محمد علیہ السلام کے حوالے سے یہ ادب ارشاد فرمایا ہے کہ نبیِ کریم کو ایسے نہ پکارا جائے جیسے تم لوگ ایک دوسرے کو بے تکلفی سے پکارتے ہو بلکہ ادب و احترام کے ساتھ شائستہ انداز میں پکارو، ایسا نہ ہو کہ نامناسب انداز میں پکارنے والے دنیا میں فتنے کا نشانہ بن جائیں اور آخرت میں ان کو درد ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے۔

سورۃ نور کے بعد سورۃ فرقان ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان کو نازل کیا تاکہ وہ دنیا والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ فرقان کا مطلب فرق کرنے والا ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید نیکی اور بدی، ہدایت اور گمراہی، شرک اور توحید، حلال اور حرام وغیرہ وغیرہ کے درمیان فرق کرنے والا ہے اس لیے اس کو فرقان کہہ کر پکارا گیا ہے۔

کفار کے ان خیالات کو کہ یہ قرآن پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کہیں سے بنا لائے ہیں یا پھر یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو انھوں نے لکھ لی ہیں، کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اس ذات کی نازل کردہ کتاب ہے جو چھپی اور ظاہر باتوں کو جانتا ہے.

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین.

Saturday, May 9, 2020

Parah-17

سترھویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگوں کے حساب کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔ اللہ نے دین سمجھنے کا طریقہ بھی بتایا کہ اگر کسی چیز کا علم نہ ہو تو اہلِ علم سے پوچھ لینا چاہیے۔ یہ بھی ارشاد ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے لیے نہیں بنایا، اگر اس نے کھیل ہی کھیلنا ہوتا تو وہ کسی اور طریقے سے بھی یہ کام کر سکتا تھا۔ اللہ نے یہ بھی بتایا کہ اس نے ہر چیز کو پانی سے زندگی دی ہے۔ اللہ انسانوں کو اچھے اور برے حالات سے آزماتا ہے۔ حالات اچھے ہوں تو انسان کو شکر کرنا چاہیے اور حالات برے ہوں تو انسان کو صبر کرنا چاہیے۔

اس سورت میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں کے اعمال کو تولنے کے لیے میزانِ عدل قائم کریں گے۔ اس میزان میں ظلم والی کوئی بات نہیں ہوگی اور جو کچھ اس میں ڈالا جائے گا وہ انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہوگی۔ حضرت ابراہیم کی جوانی کا وہ واقعہ بھی ذکر کیا گیا ہے جب انھوں نے اپنے والد اور قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا ہم نے اپنے باپ داداؤں کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے۔ جنابِ ابراہیم نے کہا کہ تم اور تمھارے باپ کھلی گمراہی میں ہیں۔ لوگوں نے کہا کیا تم واقعی ہمارے پاس حق لے کر آئے ہو یا یونہی مذاق کر رہے ہو؟ تو ابراہیم نے جواب دیا کہ تمھارا رب آسمان اور زمین کا رب ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں اس بات کے حق ہونے کی گواہی دیتا ہوں، اللہ کی قسم جب تم لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمھارے بتوں کے خلاف ضرور کارروائی کروں گا۔ چنانچہ جنابِ ابراہیم نے ان کی عدم موجوگی میں بت کدے میں داخل ہو کر بتوں کو توڑ ڈالا۔ جب قوم کے لوگ بت کدے میں داخل ہوئے اور بتوں کو ٹوٹا دیکھا تو کہا جس نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے وہ یقینًا ظالم آدمی ہے۔ لوگوں نے پوچھا اے ابراہیم کیا تم نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنایا ہے۔ آپ نے کہا اس بڑے بت نے یہ کیا ہے۔ اگر یہ بت بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔ لوگوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بت بولتے نہیں۔ ابراہیم نے کہا تو کیا تم لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمھیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ تف ہے تم پر اور تمھارے ان معبودوں پر جن کی اللہ کے سوا تم عبادت کرتے ہو، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

اس دعوتِ توحید پر بستی کے لوگ بھڑک اٹھے اور کہنے لگے کہ ابراہیم کو جلا دو اور اگر اپنے معبودوں کی مدد کر سکتے ہو تو کرو۔ ابراہیم کو جلانے کے لیے الاؤ بھڑکایا گیا۔ جب آگ خوب بھڑک اٹھی تو ابراہیم نے دعا مانگی: حسبنا اللہ و تعم الوکیل (ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔ اس پر اللہ نے کہا اے آگ تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔ اللہ کہتا ہے کہ لوگوں نے جنابِ ابراہیم کے خلاف سازش کرنا چاہی تو ہم نے انھیں بڑا خسارہ پانے والا بنا دیا۔

پھر اللہ نے جنابِ داؤد اور سلیمان کی حکومت کا اور جنابِ ایوب کے صبر کا ذکر کیا کہ آپ شدید بیماری کے باوجود اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوئے۔ اللہ نے ایوب کی دعا قبول کرکے آپ کی تمام مشکلات کو دور فرما دیا۔ جنابِ یونس کے واقعے کا بھی ذکر ہے کہ آپ جب غم کی شدت سے دوچار تھے تو آپ نے پروردگارِ عالم سے دعا کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کی ذات پاک ہے اس تکلیف سے جو مجھ کو پہنچی ہے اور بے شک یہ تکلیف مجھے اپنی وجہ سے آئی ہے۔ اللہ نے جنابِ یونس کی فریاد سن کر ان کے دکھوں کو دور فرما دیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی فرما دیا کہ جو کوئی بھی حالتِ غم میں جنابِ یونس کی طرح اللہ کی تسبیح کرے گا، اللہ اس کے غم کو دور کر دے گا۔ اللہ تعالی نے حضرت محمد علیہ السلام کے منصب کا بھی ذکر کیا کہ آپ کو دو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اللہ ہی حقیقی مددگار اور کارساز ہے.

سورۃ الانبیاء کے بعد سورہ حج ہے جس کے شروع میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا اور ارشاد فرمایا کہ بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ اس زلزلے کی وجہ سے حاملہ اپنے حمل کو گرا دے گی اور دودھ پلانے والیاں شیر خواروں کو پھینک دیں گی اور لوگ نشے کی حالت میں نظر آئیں گے جب کہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ پھر اللہ تعالی نے بدر کے معرکے کا ذکر کیا کہ جس میں ایک ہی قبیلے کے لوگ آپس میں ٹکرا گئے تھے اور یہ جنگ نسل، رنگ یا علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقیدہ توحید کی بنیاد پر ہوئی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کی نشان دِہی فرمائی کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو واضح گمراہ ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو تذبذب کا شکار ہیں. جب فراخی ہوتی ہے، دنیوی منافع حاصل ہوتے ہیں تو عبادت کرتے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی آزمائش آئے تو پیٹھ پھیر جاتے ہیں. اللہ تعالیٰ نے دونوں سے علیحدہ رہنے کی ہدایت فرمائی ہے.

اللہ تعالیٰ نے جنابِ ابراہیم کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کی اور ان سے کہا کہ آپ کسی بھی چیز میں میرا شریک نہ ٹھہرائیے اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے شرک اور بت پرستی سے پاک رکھیے اور آپ لوگوں میں حج کا اعلان کیجیے تاکہ وہ آپ کے پاس پیدل چل کر اور دبلی اونٹنیوں پر سوار ہو کر دور دراز علاقوں سے آئیں اور اپنے لیے دینی اور دنیوی فوائد حاصل کرسکیں۔ اور گنتی کے مخصوص دنوں میں ان چوپایوں کو اللہ کے نام پر ذبح کیجیے جو اللہ نے بطورِ روزی انھیں دیے ہیں۔ پس تم لوگ ان کا گوشت خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔

اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے کامل مومنین کی چار صفات کا ذکر بھی فرمایا ہے: جب اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں، مصائب پر صبر کرتے ہیں، نماز کی پابندی کرتے ہیں، اور نیک مصارف میں خرچ کرتے ہیں. نیز یہ خوبی بھی بیان کی ہے کہ ان لوگوں کو اگر اللہ زمین میں تمکنت عطا فرما دے تو بھی یہ نماز کی پابندی کرتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہتے ہیں.

اللہ تعالیٰ نے قربانی کی قبولیت کے لیے تقویٰ کو شرط قرار دیا کہ اللہ کو جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اللہ کو انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے اور وہ بند برجوں میں چھپ جانے والوں تک بھی پہنچ جاتی ہے. اللہ نے ان مظلوم مسلمانوں کو بھی جہاد کی اجازت دی کہ جن کو بغیر کسی جرم کے ان کے گھروں سے عقیدہ توحید کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔

اس سورت میں اللہ نے ایک مثال کے ذریعے شرک کی تردید کی کہ جن معبودانِ باطل کو لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں ان کی ناتوانی و بے بسی کی کیفیت یہ ہے کہ وہ سارے جمع ہو کر ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے، اور مکھی بنانا تو دور کی بات ہے، اگر مکھی جیسی بے حیثیت مخلوق ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اس کو واپس بھی نہیں لے سکتے۔ یہ مانگنے والے بھی کمزور ہیں اور جن سے مانگتے ہیں وہ بھی کمزور ہیں. درحقیقت انھوں نے خدا کی قدر نہیں جانی جیسی کہ جاننا چاہیے تھی. خدا اگلا پچھلا سب جانتا ہے. اے ایمان والو اگر فلاح چاہتے ہو تو خدا کی عبادت کرو اور اسی کو رکوع و سجدہ کرو. اور خدا کی راہ میں ویسے جہد و جہاد کرو جیسا کہ اس کا حق ہے کیونکہ خدا نے تمھیں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چن لیا ہے، اور نماز و زکوٰة کا اہتمام کرتے ہوئے خدائے حامی و ناصر کے ساتھ کو مضبوط پکڑے رہو. اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین.

Parah-16

سولھویں پارے کے آغاز میں سورہ الکہف تقریبًا تین رکوع ہیں. پندرھویں پارے کا اختتام حضرت موسیٰ کی ایک باخدا آدمی سے ملاقات کے ذکر پر ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ اس آدمی کے کشتی میں سوراخ کرنے کے بعد ایک خوبصورت بچے کے قتل کرنے پر بھی بالکل مطمئن نہ تھے اس لیے اس پر بھی اعتراض کیا۔ اس آدمی نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ کیا میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اس پر موسیٰ نے کہا کہ اب اگر میں نے کوئی سوال کیا تو آپ مجھے علیحدہ کر دیجیے گا۔

اب پھر دونوں اکٹھے آگے چلے اور ایک بستی میں جا پہنچے۔ بستی کے لوگ بڑے بے مروت تھے۔ انھوں نے دو معزز مہمانوں کی کوئی خاطر تواضع نہ کی۔ اس بستی میں ایک جگہ ایک دیوار گر چکی تھی۔ حضرت موسیٰ کے ساتھی نے اس کی تعمیر شروع کر دی۔ دیوار مکمل ہوگئی تو اس آدمی نے وہاں سے چلنے کا ارادہ کیا۔ موسیٰ نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام کا معاوضہ بھی وصول کر سکتے تھے۔ سوال سنتے ہی اس آدمی نے کہا کہ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آپہنچا ہے۔ جدا ہونے سے قبل میں آپ کو اپنے تمام کاموں کی توجیہات پیش کرنا چاہتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔ کشتی میں سوراخ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جس ساحل پر جا کر کشتی رکی تھی وہاں پر ایک غاصب بادشاہ کی حکومت تھی جو ہر بے عیب کشتی پر جبری قبضہ کیے جا رہا تھا۔ میں نے کشتی میں سوراخ کر دیا تاکہ کشتی کے مسکین مالک بادشاہ کے ظلم سے بچ جائیں۔ جس خوبصورت بچے کو میں نے قتل کیا وہ بڑا ہو کر اپنے والدین کے ایمان کے لیے خطرہ بننے والا تھا، اس کی موت کے بعد اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے والدین کو ایک صالح بچہ عطا فرمانے والے ہیں۔ تعمیر کی جانے والی دیوار ایک ایسے گھر کی تھی جو بستی کے دو یتیم بچوں کی ملکیت تھا جن کا باپ نیک آدمی تھا اور ان کے گھر کے نیچے خزانہ دفن تھا۔ خدا چاہتا تھا کہ بچے جوان ہو کر اپنے خزانے کو نکال لیں اور یہ ابھی کسی کے ہاتھ نہ لگے۔ جو کچھ بھی میں نے کیا اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خدا کے حکم پر کیا۔

یہ واقعہ علمِ لدنی کی حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ کامل علم خدا کے پاس ہے اور وہ جتنا علم کسی کو دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ رسول تھے لیکن خدا نے بعض معاملات کا علم اس دوسرے گمنام غیر معروف اور معاشرے میں اہم حیثیت نہ رکھنے ایک آدمی کو عطا فرمایا تھا جس سے موسیٰ واقف نہ تھے۔ مطلب یہ کہ اس دوسرے شخص کے پاس جو علم تھا وہ عام انسانوں کو دیا جانے والا ایک علم تھا جو کارِ نبوت یا کارِ رشد و ہدایت کے لیے ہرگز ضروری نہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دنیا میں جس جس آدمی پر جو مصیبت آتی ہے اس میں اللہ کی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے لہٰذا انسان کو اس کی رضا میں راضی رہنا چاہیے اور صبر و شکر اختیار کرنا چاہیے.

اس کے بعد اللہ رب العزت نے ذوالقرنین کا قصہ ذکر فرمایا ہے جو وسیع و عریض سلطنت کا مالک تھا. وہ ایک بستی کے پاس سے گزرا تو بستی والوں نے درخواست کی کہ سامنے پہاڑوں کے درمیان سے ایک مخلوق جسے قرآن نے یاجوج ماجوج سے تعبیر کیا ہے، اترتی ہے اور ہمارے کھیتوں کو تہس نہس کر دیتی ہے. لہٰذا ہمارے بچاؤ کی کوئی صورت کیجیے. ذوالقرنین نے اپنی فوج کے ساتھ مل کر پہاڑی درے کو سیسے سے بھر دیا جس سے یاجوج ماجوج کا راستہ بند ہو گیا. لیکن قرب قیامت میں یہ دیوار گر جائے گی اور یاجوج ماجوج پھر تباہی پھیلائیں گے.

سورہ کہف کے آخر میں اللہ تعالی نے اپنی توانائیوں کو محض دنیاوی زیب و زینت پر صرف کرنے والوں کے اعمال کو بدترین اعمال قرار دیا ہے جب کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہترین کاموں میں مشغول ہیں۔ اللہ کہتا ہے کہ ایسے لوگ میری ملاقات اور نشانیوں کا انکار کرنے والے ہیں اور ایسے لوگوں کے اعمال برباد ہو جائیں گے۔ نیز حضرت محمد علیہ السلام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں میں اعلان کریں کہ میں آدم کی اولاد ہونے کے اعتبار سے تمھاری ہی طرح کا انسان ہوں البتہ مجھ پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے اور خدا کی طرف رجوع صرف عمل صالح اور شرک سے بچنے سے حاصل ہوگا.

سورہ کہف کے بعد سورہ مریم ہے۔ اس میں اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ کی معجزاتی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔ جنابِ زکریا جنابِ مریم کے کفیل اور خالو تھے۔ ان کی عمر زیادہ ہونے کے سبب ان پر شیخوخت آ چکی تھی اور ان کی اہلیہ بھی کہولت زدہ تھیں. جب انھوں نے سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کے پاس بے موسمی پھل دیکھے تو سوچا کہ جو اللہ بے موسمے پھل دے سکتا ہے وہ اسباب کے بغیر اولاد بھی دے سکتا ہے لہٰذا انھوں نے اللہ سے دعا مانگی کہ اے پروردگار تو مجھے بھی صالح اولاد عطا فرما۔ اللہ نے جنابِ زکریا کی فریاد کو سن کر انھیں بڑھاپے میں جنابِ یحییٰ سے نواز دیا۔

اسی طرح جنابِ مریم کے پاس جبریل آتے ہیں اور ان کو ایک صالح بیٹے کی بشارت دیتے ہیں۔ آپ کہتی ہیں کہ کیا میرے ہاں بیٹا پیدا ہوگا جب کہ میں نے تو کسی مرد سے نزدیکی نہیں کی۔ جبریل کہتے ہیں کہ جب اللہ کسی کام کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا۔ وہ کُن کہتا ہے تو چیزیں رونما ہو جاتی ہیں۔ جب عیسیٰ پیدا ہوئے تو سیدہ مریم لوگوں کے طعن و تشنیع کے خوف سے بے قرار ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالی ان کے دل کو مضبوط فرماتے ہیں اور ان کو حکم دیتے ہیں کہ جب آپ کی ملاقات کسی انسان سے ہو تو آپ کو کہنا ہے کہ میں نے رحمٰن کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے اس لیے میں کسی کے ساتھ کلام نہیں کروں گی۔جب آپ بستی میں داخل ہوتی ہیں تو بستی کے لوگ آپ کی جھولی میں بچے کو دیکھ کر کہتے ہیں اے ہارون کی بہن، اے عمران کی بیٹی، نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں نے خیانت کی۔ تم نے یہ کیا کر دیا۔ جنابِ عیسیٰ نے مریم کی گود سے آواز دی: میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ گود میں لیٹے ہوئے بچے کی آواز سن کر لوگ خاموش ہو جاتے ہیں.

سورۃ مریم کی آخری آیات میں اللہ نے آپس میں محبت پیدا کرنے کا نسخہ ایمان اور عملِ صالح کو قرار دیا ہے۔

سورہ مریم کے بعد سورہ طہٰ ہے۔ ابتدائی آیات میں اللہ تعالٰی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی لوگوں کی اسلام سے دوری پر بے چینی کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ آپ پریشان نہ ہوں. یہ کتاب یعنی قرآنِ مجید ہم نے اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ اس کی وجہ سے تکلیف اٹھائیں. یہ کتاب تو اسے ہی نصیحت کرے گی جو اللہ کا خوف رکھے گا.

سورہ طہٰ میں اللہ تعالی نے جنابِ موسیٰ کی کوہِ طور پر اپنے ساتھ ہونے والی ملاقات کو ذکر کیا اور بتایا کہ جب موسیٰ طور پر تشریف لائے تو اللہ تعالی نے ان سے پوچھا کہ موسیٰ آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ جنابِ موسیٰ نے کہا کہ یہ میری لاٹھی ہے اور میں اس سے پتے جھاڑتا ہوں اور سہارا لیتا ہوں۔ اللہ نے ان کو لاٹھی زمین پر گرانے کا حکم دیا، جو گرتے ہی اژدھا کی شکل اختیار کر گئی جسے دیکھ کر موسیٰ خوف زدہ ہوگئے۔ اللہ نے اب اژدھے کو اٹھانے کا حکم دیا جو ان کے ہاتھ میں آتے ہی لاٹھی کی صورت اختیار کر گیا۔

اس واقعہ سے موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے ساری دنیا کو بتایا گیا کہ کسی بھی چیز کے اندر نفع یا نقصان اس کا ذاتی خاصہ نہیں ہے بلکہ خدا قادرِ مطلق ہے جو نفع والی چیز کو نقصان اور نقصان دینے والی چیز کو نفع دینے والی چیز میں بدل سکتا ہے۔

اس کے بعد اللہ نے جنابِ موسیٰ کو فرعون کے سامنے جاکر نرم گفتاری سے تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر موسیٰ نے اللہ سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار میرے سینے کو کھول دے، میرے معاملے کو آسان کر دے، میری زبان سے گرہ کو دور کر دے تاکہ لوگ میری بات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور میرے اہلِ خانہ میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے۔ اللہ نے جنابِ موسیٰ کی دعا کو قبول کیا۔ دونوں بھائی فرعون کے دربار میں آئے۔ فرعون نے اپنی قوم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آپ سے سوال کیا کہ میری قوم کے لوگ جو ہم سے پہلے مر چکے ہیں آپ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ جنابِ موسیٰ نے جواب دیا کہ ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے اور میرا پروردگار نہ کبھی بھولا ہے اور نہ کبھی گمراہ ہوا ہے۔ آخر الامر اللہ نے فرعون کو تباہ و برباد کر دیا اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔

اس کے بعد اللہ نے جنابِ موسیٰ کو اپنی ملاقات کے لیے بلایا۔ جب موسیٰ اللہ سے ہم کلام ہو رہے تھے تو قومِ موسیٰ نے ان کی عدم موجودگی میں سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔ موسیٰ جب واپس ہوئے تو اپنی قوم کو شرک کی دلدل میں اترا دیکھ کر غضبناک ہوئے اور جنابِ ہارون سے پوچھا کہ آپ نے اپنی ذمہ داری کیوں ادا نہیں کی۔ جنابِ ہارون نے کہا کہ میں نے ان پر سختی اس لیے نہیں کی کہ یہ لوگ کہیں منتشر نہ ہو جائیں۔ جنابِ موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انھوں نے سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کو آگ لگاکر اس کی راکھ کو سمندر میں بہا دیا اور اس جھوٹے معبود کی بے بسی، ناکارگی اور ناطاقتی کو بنی اسرائیل پر ثابت کر دیا۔

اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمان سے مینہ برسایا جس کے نتیجے میں کھیتوں نے غلہ اگایا جس سے انسان اور جانور فائدے حاصل کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ عقل والے لوگ ان انعامات میں کھو کر اپنی حقیقت کو نہیں بھولتے. وہ ہر وقت یاد رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان کی اس مٹی سے پرورش کی ہے اور آئندہ اسی مٹی میں وہ ڈالے جائیں گے اور روزِ قیامت اسی مٹی سے ان کا بدن اٹھایا جائے گا. اس لیے وہ اللہ تعالٰی کے انعامات کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال میں لاتے ہیں.

سورہ طہٰ کے آخر میں اللہ تعالٰی نے قرآن مجید سے اعراض کرنے والوں کو تنبیہہ فرمائی ہے. جو لوگ قرآن مجید کی تعلیمات پر توجہ نہیں دیتے ان کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور روز قیامت اندھے بنا کر پیش کیے جائیں گے. آخر میں اللہ تعالٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہیں کہ ان معاندین سے کہہ دیجیے کہ میں بھی منتظر ہوں اور تم بھی انتظار کرو، جلد اللہ تعالٰی فیصلہ فرما دیں گے کہ کون سیدھے راستے پر گامزن ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ مجید میں مذکور واقعات کو سمجھنے اور ان سے روشنی لیتے ہوئے زندگی کو گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

Thursday, May 7, 2020

Parah-15

پندرھویں پارے کا آغاز سورہ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ ارشاد ہے کہ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انھیں اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

ارشاد ہے کہ یہ قرآن مجید نیک اعمال کرنے والے مومنوں کے لیے بشارت ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اللہ تعالی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پوجا صرف اللہ تعالی کی ہونی چاہیے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ اگر وہ دونوں (والد والدہ) یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کو اُف بھی نہیں کہنا چاہیے اور نہ ان کو جھڑکنا چاہیے اور ان کو اچھی بات کہنی چاہیے اور ان کے سامنے محبت کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکانا چاہیے اور یہ دعا مانگنی چاہیے کہ پروردگار ان پر رحم کر جس طرح وہ بچپن میں مجھ پر رحم کرتے رہے۔

اللہ تعالی نے اس سورت میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کے حق ادا کرنا چاہییں اور فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے۔ بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے۔

ارشاد ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی ہر شخص کو اس کے امام کے نام سے بلائیں گے یعنی جس کی پیروی انسان کرتا ہے اسی کی نسبت سے انسان کو بلایا جائےگا۔ اس سورہ میں آیا ہے کہ اللہ نے بنی آدم کو اکرام والا بنایا ہے چنانچہ انسانیت کا احترام اللہ کا حکم ہے اور انسانیت کا احترام نہ کرنا حرام ہے اور ایسا کرنے والا حرامکار ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ فجر کے وقت فرشتے قرآن سننے کو حاضر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے نبی کریم علیہ السلام کو تہجد کی نماز ادا کرنے کا حکم دیا کہ یہ نماز آپ پر فرض ہے، اور اس کا سبب یہ بتلایا کہ آپ کو قیامت کے دن مقامِ محمود پر فائز کیا جائے گا۔ سورہ کے آخر میں ارشاد ہے کہ رب تعالی کو چاہے اللہ کہہ کر پکارو چاہے رحمان کہہ کر پکارو، اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اس کو جس نام سے چاہو پکارو۔

سورت اسراء کی خاص بات اس میں مذکور معاشرتی آداب ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، والدین کے ساتھ بھلائی کا رویہ اپناؤ، رشتہ داروں مسکینوں ناداروں کو ان کا حق دو، مال خرچ کرنے کے معاملہ میں اعتدال کا رویہ اپناؤ یعنی نہ فضول خرچی کرو نہ ہی مال پر سانپ بن کر بیٹھے رہو، اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو (اس میں Abortion کی طرف اشارہ ہے جس سے روکا گیا ہے)، کسی جان کا ناحق خون مت کرو، یتیم کا مال انصاف سے خرچ کرو، وعدہ کرو تو پورا کرو، ناپ تول میں کمی بیشی مت کرو، زمین پر اکڑ کر مت چلو، اور جس بات کا علم نہ ہو اس کی ٹوہ میں نہ لگو.

سورہ بنی اسرائیل کے بعد سورۃ کہف ہے۔ ارشاد ہے کہ قرآن مجید بشارت دیتا ہے نیک عمل کرنے والے مسلمانوں کو کہ ان کے لیے بڑے اجر کو تیار کیا گیا ہے۔ اس میں عیسائیوں اور یہودیوں کو ڈرایا گیا ہے جو عیسیٰ اور عزیر علیہما السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ نہ ان کے پاس علم ہے اور نہ ان کے آبا و اجداد کے پاس علم تھا اور یہ بات گھڑی ہوئی ہے۔ پس یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔

سورۃ کہف میں اللہ تعالی نے بعض مومن نوجوانوں کا ذکر کیا ہے جو وقت کے بے دین بادشاہ کے شر اور فتنے سے بچنے کے لیے ایک غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے۔ اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کے لیے انھیں تین سو نو برس کے لیے سلا دیا اور جب وہ بیدار ہوئے تو آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ ہم کتنا سوئے ہوں گے تو ان کا خیال تھا کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سوئے ہوں گے۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایسے واقعات بیان کر کے درحقیقت توجہ آخرت کی طرف مبذول کروائی ہے کہ جو اللہ تین سو نو برس سلا کر بیدار کر سکتا ہے کیا وہ قبروں سے مردوں کو برآمد نہیں کر سکتا؟

اس کے بعد جنابِ موسیٰ کا واقعہ ذکر ہوا۔ ہوا یوں کہ جناب موسیٰ ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے اجتماع میں موجود تھے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں۔ اللہ تعالی نے موسیٰ کو بہت بڑا مقام عطا کیا تھا لیکن یہ جواب اللہ تعالی کی منشا کے مطابق نہ تھا۔ اللہ تعالی نے جناب موسیٰ کو کہا کہ دو دریاؤں کے سنگم پر چلے جائیں، وہاں پر آپ کی ملاقات ایک ایسے بندے سے ہوگی جس کو میں نے اپنی طرف سے علم اور رحمت عطا کی ہے۔ جناب موسیٰ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو آپ کی ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ جناب موسیٰ نے اس سے پوچھا اگر میں آپ کے ہمراہ رہوں تو کیا آپ رشد و ہدایت کی وہ باتیں جو آپ کے علم میں ہیں مجھے بھی سکھلائیں گے۔ اس نے جواب دیا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ اور آپ ان باتوں کی بابت کیونکر صبر کریں گے جن کا آپ جانتے ہی نہیں۔ جنابِ موسیٰ نے ان کو صبر کی یقین دہانی کرائی تو دونوں اکٹھے چل پڑے۔ کچھ چلنے کے بعد دونوں ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ جب اترنے لگے تو اس آدمی نے کشتی میں سوراخ کر دیا۔ موسیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی کہ جس کشتی میں سفر کیا اس میں سوراخ کر دیا۔ آپ نے کہا کہ تم نے یہ کیا کر دیا۔ اس نے کہا کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میر ے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ جناب موسیٰ نے کہا کہ آپ میرے بھول جانے پر مواخذہ نہ کریں اور نہ ہی میرے سوالات پر تنگی محسوس کریں۔

وہ آدمی اور موسیٰ پھر چل دیے۔ کچھ آگے جا کر ایک خوبصورت بچہ نظر آیا ۔ اس آدمی نے بچے کو قتل کر ڈالا۔ جناب موسیٰ سے نہ رہا گیا اور آپ نے پھر اس کے اس عمل پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ اس کا ذکر سولھویں پارے کے شروع میں کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس میں مذکور مضامین سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔