Pages

Monday, May 4, 2020

Parah-10

دسویں پارے کا آغاز سورۃ انفال کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اس کے شروع میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا ذکر ہے کہ اس مال میں اللہ اور اس کے رسول کا صوابدیدی اختیار پانچویں حصے کا ہے یعنی نبی کریم علیہ السلام کو یہ اختیار تھا کہ آپ مالِ غنیمت کے پانچویں حصے کو اپنی مرضی کے ساتھ تقسیم کر سکتے تھے۔

اس کے بعد کامیابی کے لیے دعا اور دوا کا الوہی نسخہ ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اے ایمان والو! جب کسی فوج سے ملو تو ثابت قدم رہو (بلند ہمتی) اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم نجات پاؤ (مسلسل دعا) اور اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو (اللہ اور اس کے رسول کے قائم کردہ اصول و ضوابط کی ہر حال میں پاسداری) اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی (اتفاق و اتحاد، ٹیم ورک) اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (مستقل مزاجی) اور ان لوگوں جیسا نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے (شیخی بگھارنے اور ڈینگیں مارنے سے گریز، عجز و انکساری کا رویہ)۔

آگے بدر کے معرکے کا ذکر ہے کہ شیطان اس معرکے میں انسانی شکل میں موجود تھا اور کافروں کو لڑائی کے لیے اکسا رہا تھا۔ وہ کافروں کو یقین دلا رہا تھا کہ مسلمان کافروں پر غلبہ نہیں پا سکتے۔ جب اللہ نے جبریل کی قیادت میں فرشتوں کی جماعتوں کو اتارا تو شیطان میدانِ بدر سے فرار ہونے لگا۔ کافروں نے اس سے پوچھا کہ تم تو ہمیں فتح کی نوید سنا رہے تھے، اب کہاں بھاگے جا رہے ہو؟ اس پر شیطان نے جواب دیا کہ میں وہ یکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ مجھے اللہ کا خوف دامن گیر ہے اور اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہے۔

اس سورت میں اللہ نے یہود کی متواتر بدعہدیوں اور خیانت کے بعد یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر آپ کو کسی قوم کی جانب سے خیانت کا ڈر ہو تو اس کا معاہدہ لوٹا کر حساب برابر کر دیجیے۔ بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

اس سورت میں مسلمانوں کو اس بات کی بھی تلقین کی گئی ہے کہ کافروں سے مقابلہ کے لیے ہر ممکن طاقت اور فوجی گھوڑوں کو تیار رکھیں۔ اس تیاری کی وجہ سے اللہ کے دشمن اور مسلمانوں کے دشمن مرعوب ہوں گے اور وہ دشمن بھی جن کو مسلمان نہیں جانتے اور اللہ کے راستے میں جو خرچ کریں گے ان کو پورا پورا اجر ملے گا۔ یہ بھی ارشاد ہے کہ مسلمان افرادی اعتبار سے کمزور بھی ہوں تو کفار پر غالب رہتے ہیں۔

سورۃ الانفال کے بعد سورۃ توبہ ہے۔ اس کے شروع میں ارشاد ہے کہ جو شخص نماز باقاعدگی سے ادا کرتا ہے اور زکوٰۃ صحیح طریقے سے دیتا ہے ایسا شخص مسلمانوں کی جماعت سے منسلک ہے اور دینی اعتبار سے ان کا بھائی ہے۔ آگے ارشاد ہے کہ بعض کافر اس بات پر اتراتے تھے کہ ہم حرم کی صفائی کرتے ہیں اور حاجیوں کو ستو پلاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ حرم اور حاجیوں کی خدمت سے کہیں زیادہ بہتر اللہ کی ذات پر ایمان لانا اور اس کی خوشنودی کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔

مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ اگر تمھارے باپ، تمھارے بیٹے، تمھارے بھائی، تمھاری بیویاں، تمھارے قبیلے، تمھارے مال جو تم اکٹھا کرتے ہو، تمھاری تجارت جس سے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور گھر جن میں رہنا تمھیں مرغوب ہے، تم کو اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں کیے جانے والے جہاد سے زیادہ پسند ہیں تو انتظار کرو کہ اللہ کا عذاب نہیں آجاتا۔

آگے حنین کے معرکے کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کا ہمیشہ یہ طرزِ عمل رہا کہ وہ قلتِ وسائل اور افرادی قوت میں کمی کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر ثابت قدم اور اللہ کی غیبی نصرت و حمایت کے طلب گار رہے، لیکن حنین کا معرکہ ایسا تھا جس میں مسلمانوں کی تعداد اور افرادی قوت بہت زیادہ تھی۔ اس تعداد کی کثرت اور فراوانی نے مسلمانوں کے دلوں میں ایک گھمنڈ کی سی کیفیت پیدا کر دی۔ جب مسلمان کافروں کے آمنے سامنے ہوئے تو ہوازن کے تجربہ کار تیر اندازوں نے یکلخت مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تاہم نبی کریم علیہ السلام پورے وقار اور شجاعت کے ساتھ میدانِ جنگ میں ڈٹے رہے۔ آپ کی استقامت کی وجہ سے مسلمان بھی دوبارہ حوصلے میں آگئے اور خدا سے مدد طلب کی۔ خدا نے مسلمانوں کو کفار پر غلبہ عطا فرما دیا اور مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ جنگوں میں فتح وسائل کی کثرت اور فراوانی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔

اس کے بعد اللہ نے یہودیوں اور نصرانیوں کے برے عقیدے کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہودی ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ حضرت عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اللہ کہتا ہے کہ یہ باتیں انھوں نے اپنی طرف سے گھڑی ہیں اور اللہ کی ان پر مار ہو جو یہ جھوٹ بولتے ہیں۔

سورۃ توبہ ہی میں اللہ نے ان لوگوں کو وعید سنائی ہے جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں مگر اس کو راہِ خدا میں خرچ نہیں کرتے۔ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن سونے چاندی کو آگ میں پگھلانے کے بعد ان کی پیشانیوں کو، پہلوؤں کو اور پشتوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ اس چیز کے سبب ہے جو تم اکٹھا کرتے ہو پس اکٹھا کرنے کا مزہ چکھ لو۔

اس سورت میں اللہ نے مصارفِ صدقات (زکوٰۃ) کا ذکر کیا ہے کہ اس کے آٹھ مصارف ہیں: مفلس، محتاج، عاملین یعنی صدقات جمع کرنے والے کارکنان، جن کی تالیفِ قلب منظور ہو یعنی اسلام کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے والے، رقاب یعنی قیدی اور غلام (کے آزاد کرانے میں)، غارمین یعنی قرضہ و تاوان کے تلے دبے ہوئے لوگ، اللہ کی راہ میں اور مسافر (کی مدد میں خرچ کرنا چاہیے)۔ نیز ارشاد ہے کہ منافق مرد اور عورت ایک دوسرے میں سے ہیں اور یہ بھی کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔

اس کے بعد اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ انھیں کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کرنا چاہیے اور ان پر سختی کرنی چاہیے۔ اس کے بعد اللہ نے بعض منافقین کے اعمال کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اللہ سے وعدہ کیا کہ اللہ ہمیں مال دے گا تو ہم اس کے راستے میں خرچ کریں گے، جب اللہ نے ان کو مال دے دیا تو وہ بخل کرنا شروع ہوگئے۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق لکھ دیا اس دن تک جب ان کی اللہ کے ساتھ ملاقات ہوگی۔

اس سورت میں غزوۂ تبوک کے موقع پر فتنے کا عذر پیش کرکے پیچھے رہ جانے والے اس منافق کا بھی ذکر ہے جس نے کہا تھا کہ روم کی خوبصورت عورتیں دیکھ کر مجھ سے صبر نہیں ہوسکے گا اور میں فتنے میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ رسولِ اکرم علیہ السلام نے اس کو رکنے کی اجازت دی تو اللہ نے واضح کر دیا کہ درحقیقت یہ بہانہ بناکر پیچھے رہنے والے لوگ فتنے کا شکار ہوچکے ہیں اور اللہ نے جہنم کو منکروں کے لیے تیار کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین.

Parah-09

نواں پارہ سورۃ الاعراف کے بقیہ حصے سے شروع ہوتا ہے اور وہی حضرت شعیب علیہ السلام والا مضمون چل رہا ہے جس پر آٹھواں پارہ مکمل ہوا۔ حضرت شعیب کی قوم کے لوگ مال کی محبت میں اندھے ہو کر حرام حلال کی تمیز بھلا چکے تھے۔ حضرت شعیب نے جب انھیں پورا تولنے اور ماپنے کا خدائی حکم سنایا تو انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اگر تم نے اس کی مانی تو گھاٹے میں پڑ جاؤ گے۔ اللہ کہتا ہے کہ حقیقی خسارہ اور گھاٹا تو شعیب کو جھٹلانے والوں کے لیے تھا۔

ارشاد ہے کہ ہم نے کسی شہر میں پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں جو ایمان نہ لائے، دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔ پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا۔ ارشاد ہے کہ اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان اور تقویٰ اختیار کریں تو اللہ ان کے لیے آسمانوں اور زمین سے برکات کے دروازے کھول دے گا، چونکہ وہ اللہ کے احکامات کو جھٹلاتے ہیں اسی لیے اللہ ان پر گرفت کرتا ہے۔

اس سورت میں حضرت موسیٰ کی فرعون کے دربار میں آمد کا ذکر کیا گیا ہے اور ارشاد ہے کہ جب موسیٰ فرعون کو توحید کی دعوت دینے آئے اور فرعون نے سرکشی کا مظاہرہ کیا تو موسیٰ نے اللہ کے حکم سے اللہ کی عطا کردہ نشانیوں کو ظاہر فرمایا۔ آپ نے اپنا عصا زمین پر گرایا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا۔ آپ نے اپنے ہاتھ کو بغل میں ڈال کر باہر نکالا تو وہ روشن ہوگیا۔ اللہ کی اتنی واضح نشانیوں کو دیکھ کر بھی فرعون اور اس کے مصاحب سرکشی پر تلے رہے اور جنابِ موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو جادوگر قرار دے دیا۔ آگے ذکر ہے کہ اللہ نے فرعون اور اس کے قبیلے پر مختلف قسم کے عذاب مسلط کیے۔ اللہ نے کبھی پھلوں کے نقصانات کے ذریعے، کبھی خون کی بارش، کبھی جوؤں، مینڈکوں اور کبھی ٹڈیوں کی بارش کے ذریعے ان پر اپنے عذاب نازل کیے۔ ہر دفعہ آتے ہوئے عذاب کو دیکھ کر آلِ فرعون اپنی اصلاح کا وعدہ کرتی لیکن جب وہ عذاب ٹل جاتا تو دوبارہ نافرمانی پر آ جاتے یہاں تک کہ اللہ نے ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں ان کو سمندر میں غرق کر دیا۔

اس سورت میں اللہ نے جنابِ موسیٰ کو خود سے ہم کلام ہونے کا شرف عطا ہونے کو ذکر کیا ہے۔ اس کلام کے دوران میں جنابِ موسیٰ نے اللہ سے پوچھا کہ اے پروردگار کیا میں تجھ کو دیکھ نہیں سکتا، تو اللہ نے کہا کہ نہیں، لیکن ایک دفعہ کوہِ طور پر نظر کریں، اگر یہ اپنی جگہ جما رہا تو آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ نے جب اپنی تجلی کو کوہِ طور پر گرایا تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور جنابِ موسیٰ بے ہوش ہوگئے۔ جب وہ ہوش میں آئے تو کہا کہ اے پروردگار آپ کی ذات پاک ہے اس بات سے کہ اسے ان آنکھوں سے دیکھا جا سکے۔

حضرت موسیٰ جب کوہِ طور پر اللہ سے ملاقات کے لیے گئے تو آپ اپنی عدم موجودگی میں حضرت ہارون کو نگران مقرر کر گئے تھے۔ لیکن ان کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری جادوگر نے سونے چاندی کا بچھڑا بنا کر اس میں حضرت جبریل کے قدموں سے چھونے والی راکھ کو ڈال کر جادو پھونکا تو اس میں حقیقی بچھڑے کی طرح آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ موسیٰ کی قوم نے اسے پوجنا شروع کر دیا۔ جنابِ ہارون نے اپنی قوم کے لوگوں کو بہت سمجھایا کہ یہ شرک ہے اور اس سے بچنا چاہیے لیکن ان نادانوں نے نصیحت نظر انداز کر دی۔ حضرت موسیٰ اللہ سے ملاقات کے بعد جب توریت لیے ہوئے پلٹے تو اپنی قوم کے لوگوں کو شرک میں مبتلا پایا۔ منظر دیکھ کر آپ اتنا غضبناک ہوئے کہ جنابِ ہارون کی داڑھی کے بالوں کو پکڑ لیا۔ ہارون نے عذر کیا کہ میں نے ان کو بہتیرا سمجھایا لیکن انھوں نے میری نصیحت کو قبول نہیں کیا۔ جنابِ موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو آپ نے اپنے اور جناب ہارون کے لیے دعا مانگی کہ پروردگار ان کے اور فاسقوں کے درمیان تفریق پیدا فرمائیں۔

اس سورت میں اللہ نے ہفتے کے دن والی آزمائش کا بھی ذکر کیا ہے کہ سمندر کے کنارے ایک بستی کے رہنے والے یہودیوں کو اللہ نے ہفتے کے دن مچھلی کے شکار سے روکا تھا۔ وہ ہفتے کے دن جال لگا لیتے اور اتوار کو مچھلیاں پکڑ لیتے۔ ان نافرمانوں کو اس بستی کے ایک گروہ نے نیکی کی نصیحت کی جب کہ ایک غیر جانبدار گروہ نے نصیحت کرنے والے گروہ سے کہا کہ تم ان لوگوں کو سمجھا کر کیا کر لو گے جو ہلاکت اور خدائی عذاب کا نشانہ بننے والے ہیں۔ اس پر نصیحت کرنے والی جماعت نے کہا کہ اس کارِ خیر سے ہمارا عذر ثابت ہو جائے گا اور ہو سکتا ہے یہ لوگ بھی راہِ راست پر آ جائیں۔ آخر الامر اللہ نے نافرمانی کرنے والوں کو عذاب دیا اور ان کے چہرے اور جسم مسخ کرکے انھیں بندروں کی مانند کر دیا۔

اس سورت میں حضرت محمد علیہ السلام کی دو عظیم خصوصیات کا بھی ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ حضرت محمد کا ذکر توریت اور انجیل میں بھی ہے۔ نیز ارشاد ہے کہ حضرت محمد علیہ السلام کو اللہ نے تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے اور آپ کی رسالت زمانوں اور علاقوں کی محدودیت سے ماورا ہے۔

اس سورت یہ بھی ذکر ہے کہ اللہ کے خوبصورت نام ہیں اور ہمیں اللہ کو ان ناموں کے ساتھ پکارنا چاہیے۔ یہ بھی ارشاد ہے کہ لوگ رسولِ کریم کے پاس آکر پوچھتے تھے کہ قیامت کب آئے گی؟ اللہ نے کہا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ اللہ کے سوا قیامت کے وقت کو کوئی نہیں جانتا۔

اس سورت کے آخر میں قرآن کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب قرآنِ مجید کی تلاوت ہو رہی ہو تو اس توجہ سے سننا چاہیے اور خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔

سورۃ الاعراف کے بعد سورۃ الانفال ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ لوگ مالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ مالِ غنیمت تو اللہ و رسول کا ہے، تم لوگ تقویٰ اختیار کرو اور آپس کے تعلقات کو ٹھیک رکھو، اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو۔

آگے ارشاد ہے کہ اللہ نے بدر کے معرکے میں مسلمانوں کی قلیل تعداد کے باوجود ان کو کافروں پر غالب کیا اور ان کی مدد کے لیے ایک ہزار فرشتے اتارے۔ اس کے بعد اس بات کا ذکر ہے کہ اہلِ ایمان کو جب اللہ اور اس کے رسول بلائیں تو ان کو فوراً ان کی پکار کا جواب دینا چاہیے۔ نیز یہ ارشاد ہے کہ جس جگہ پر رسولِ اکرم موجود ہوں یا جس قوم کے لوگ استغفار کرنے والے ہوں ان پر اللہ کا عذاب نہیں آسکتا۔

اللہ ہمیں قرآن مجید پڑ ھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Parah-08

آٹھواں پارہ سورۃ الانعام کے بقیہ حصے سے شروع ہوتا ہے اور وہی مضمون چل رہا ہے جس پر ساتواں پارہ مکمل ہوا۔ یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب مشرکینِ مکہ اور کفارِ عرب نے حضرت محمد علیہ السلام سے مختلف طرح کی نشانیاں طلب کرنا شروع کیں۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے اوپر فرشتے اترنے چاہییں تو کبھی کہتے اگر تم سچے ہو تو ہم اپنے پروردگار کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں، اور کبھی کہتے کہ ہمارے آبا جو دنیا سے چلے گئے ہیں ان کو دوبارہ زندہ کرو۔ خدا نے اپنے حبیب کو کافروں کی سرشت سے آگاہ کیا کہ ان کا نشانیاں طلب کرنا حق پرستی پر مبنی نہیں بلکہ یہ تو صرف حق سے فرار حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے مطالبات کر رہے ہیں۔ ارشاد ہے کہ اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔

آگے ارشاد ہے کہ اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں وہ گمراہ ہیں، اگر تم زمین پر رہنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرنے لگو گے تو وہ تمھیں خدا کے راستے سے گمراہ کر دیں گے۔ یہ صرف گمان کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔ اس آیت کو بعض لوگ غلط طور پر جمہوریت یعنی Democracy کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

ارشاد ہے کہ جس چیز پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے اسے کھانا درست نہیں۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے یہود پر ان کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا اور گائے اور بکری کی پیٹھ پر لگی چربی کے علاوہ باقی چربی کو بھی ان پر حرام کر دیا لیکن یہود کی سرکشی کا عالم یہ تھا کہ وہ چربی بیچ کر کھانا شروع ہوگئے۔

ارشاد ہے کہ ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کیے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں، اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہی کو ہے۔ ارشاد ہے کہ جس شخص کو اللہ چاہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کر دے اس کا سینہ تنگ کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ ارشاد ہے کہ یہی تمھارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے اور جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں اور ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔

اس کے بعد اللہ نے اولاد کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ لوگ گھاٹے میں ہیں جنھوں نے اپنی اولادوں کو بے وقوفی کے ساتھ قتل کر دیا اور اپنی مرضی سے اللہ کے جائز کیے ہوئے رزق کو حرام قرار دیا۔ اللہ نے رزق کی ان چار بڑی اقسام کا بھی ذکر کیا ہے جو انسانوں پر حرام ہیں: پہلا حرام مردار ہے، دوسرے بہتا ہوا خون، تیسرے خنزیر کا گوشت اور چوتھے غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ۔

اس سورت میں اللہ نے مشرکین کے اس غلط عذر کو بھی رد کیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے آبا و اجداد کے بارے میں کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے پرکھے ہرگز شرک نہ کرتے۔ ارشاد ہے کہ یہ اور ان سے پہلے لوگ بھی اسی طرح جھوٹ تراشتے رہے۔

سورۃ الانعام میں اللہ نے بعض کبیرہ گناہوں اور پھر سورۃ فاتحہ میں بتائے گئے صراطِ مستقیم کا بھی ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے کہ آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمھارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق کے ساتھ۔ ان کاموں کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے، اور ناپ تول پوری پوری کرو انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔ اور یہ صراطِ مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔

ارشاد ہے کہ جو خدا کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی، اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسی ہی ملے گی۔

سورۃ الانعام کے آخر میں اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ وہ اعلان فرمائیں کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے یعنی ابراہیم کا مذہب جو ایک اللہ ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ (اور اے نبی آپ کہیے کہ) بے شک میری نمازیں، میری قربانیاں، میرا جینا اور میرا مرنا سبھی کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں۔ نیز یہ بھی ارشاد ہے کہ کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

سورۃ الانعام کے بعد سورۃ الاعراف ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ اے محمد علیہ السلام یہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی ہے اس سے آپ کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ تو اس لیے نازل ہوئی ہے کہ آپ لوگوں کو ڈر سنائیں اور یہ ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ آپ اس کی پیروی کریں اور دوسروں کی پیروی نہ کریں۔ اس کے بعد قیامت کے دن کے وزن کا ذکر ہے کہ قیامت میں وزن حق اور انصاف کے ساتھ ہوگا چنانچہ جس کا پلڑا بھاری ہوگا وہ کامیاب ہوگا اور جس کا پلڑا ہلکا ہوگا تو یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہماری آیات کو رد کرکے اپنی ہی جانوں کا نقصان کیا۔

اس سورت میں اللہ نے اپنے ایک بہت بڑے انعام کا ذکر کیا ہے کہ اس نے انسانوں کو زمین پر ٹھہرایا اور ان کے لیے مختلف طرح کے پیشے بنائے لیکن پھر بھی کم ہی انسان ہیں جو شکر گزار ہیں۔ پھر مسجدوں میں آنے کے آداب کا ذکر ہے کہ مسجد میں آتے ہوئے انسانوں کو اپنی زینت کو اختیار کرنا چاہیے اور اچھا لباس پہن کر مسجد آنا چاہیے۔ ارشاد ہے کہ کھاؤ اور پیو مگر بے جا نہ اڑاؤ۔ بے شک خدا بے جا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ارشاد ہے کہ زینت و آرائش اور کھانےپینے کی پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن بھی خاص انہی کا حصہ ہوں گی۔

آگے اصحابِ اعراف کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جہنم کے عذاب سے تو محفوظ ہوں گے لیکن اعمال میں کمزوری کی وجہ سے جنت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ایک مخصوص مدت گزارنے کے بعد اللہ ان پر نظرِ رحمت فرماتے ہوئے انھیں جنت میں داخل فرما دے گا۔ اللہ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ خوف اور طمع کے ساتھ اللہ کو پکارتے رہیں۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے قریب ہے۔

دعا مانگنے کے آداب کے سلسلے میں ارشاد ہے کہ لوگو اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو، خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اللہ سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا۔

اس پارے کے آخری حصہ میں اللہ نے ان قوموں کا ذکر کیا ہے جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئیں۔ خدا نے حضرت نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو ان کے سرداروں نے کہا کہ ہم تمھیں صریح گمراہی میں مبتلا دیکھتے ہیں۔ انھوں نے نوح کی تکذیب کی تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو بچا لیا اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا انھیں غرق کر دیا۔

اسی طرح ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمھیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ پھر ہم نے ہود کو اور جو ان کے ساتھ تھے نجات بخشی اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔

اسی طرح ہم نے قومِ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو ان کی قوم کے مغرور سرداروں نے کہا کہ جس چیز پر تم ایمان رکھتے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔ پھر ان کو بھونچال نے آن پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

اسی طرح ہم نے لوط کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور انھوں نے قوم سے کہا کہ تم ایسی بے حیائی کا کام کیوں کرتے ہو جو تم سے پہلے ساری دنیا کے انسانوں نے کبھی نہیں کیا یعنی خواہشِ نفسانی پوری کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر گرتے ہو۔ پھر ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا اور دیکھ لو کہ گناہ گاروں کا کیسا انجام ہوا۔

اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا اور انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ ان کی قوم کے جو سردار اور بڑے تھے انھوں نے کہا کہ ہم تمھیں شہر سے نکال دیں گے۔ پھر ان کو بھونچال نے آن پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

اس پارے کے آخر میں حضرت شعیب کا ارشاد ہے کہ اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور تمھارے درمیان میں فیصلہ کر دے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

Parah-07

ساتویں پارے کے شروع میں نرم دل اور ایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں اور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے، ہمارا نام بھی اسلام کی گواہی دینے والوں میں لکھ دے۔ یہ آیت اس وقت نجاشی شاہِ حبشہ کی شان میں اتری جب قرآن کی تلاوت سن کر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے اور اس نے اپنا شمار اسلام کی گواہی دینے والوں میں کروا لیا۔

اہلِ ایمان سے مخاطب ہو کر ارشاد ہوتا ہے کہ انھیں پاک چیزوں کو خود پر حرام نہیں کرنا چاہیے اور اللہ کے دیے پاک رزق کو کھانا چاہیے اور اس سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ نیز ارشاد ہےکہ اللہ انسان کی بلاارادہ کھائی قسموں پر مواخذہ نہیں کرتا لیکن جب کسی قسم کو پوری پختگی سے کھایا جائے تو ایسی صورت میں انسان کو اس قسم کو پورا کرنا چاہیے۔

اس کے بعد شراب اور دیگر کچھ چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ اے ایمان والو، بے شک شراب، جوا، بت گری اور پانسہ ناپاک اور شیطانی کام ہیں۔ پس تم ان سے بچو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔ بے شک شیطان جوئے اور شراب کے ذریعے تمھارے درمیان دشمنی اور عداوت پیدا کرنا چاہتا ہے اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکنا چاہتا ہے، تو کیا تم لوگ باز آ جاؤ گے؟

اس کے بعد سمندری شکار کو حلال قرار دینے کا ذکر ہے اور حالتِ احرام میں خشکی کے شکار سے منع کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے عزت کے گھر یعنی کعبہ کو لوگوں کے لیے موجبِ امن قرار دیا ہے۔ نیز یہ بھی ذکر ہے کہ پیغمبر کے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے، اور جو کچھ تم سامنے اور پوشیدہ کرتے ہو وہ اللہ کو معلوم ہے۔ ارشاد ہے کہ اچھا اور برا برابر نہیں ہو سکتے خواہ برے کی کثرت تمھیں حیرانی میں ڈال دے۔

اس پارے میں اللہ نے بکثرت سوال کرنے سے بھی روکا ہے۔ کئی مرتبہ کثرتِ سوال کی وجہ سے جائز اشیا بھی حرام ہو جاتی ہیں۔ وصیت کرنے اور گواہی کو چھپانے والے کے بارے میں احکام بھی یہیں نازل ہوئے ہیں۔ نیز اسی موقع پر نبیوں کو دیے گئے علمِ غیب کا تذکرہ ہے۔ ارشاد ہے کہ وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے جب اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمھیں کیا جواب ملا تھا تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں، تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔

اس کے بعد حضرت عیسیٰ کے حواریوں کی باتوں کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ سے کہا کیا آپ کا رب ہمارے لیے آسمان سے دسترخوان اتار سکتا ہے۔ حواریوں کے اس بلاجواز مطالبے پر انھیں تنبیہہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ اللہ سے ڈر جاؤ اگر تم مومن ہو۔ حضرت عیسیٰ کی اس نصیحت کے جواب میں حواریوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور اپنے دلوں کو مطمئن کریں اور ہم جان لیں کہ ہمیں سچ بتایا گیا ہے اور اس پر گواہ رہیں۔ اس اصرار پر حضرت عیسیٰ نے دعا مانگی کہ اے ہمارے پروردگار، ہمارے اوپر آسمان سے دسترخوان نازل فرما جو ہمارے اول اور آخر کے لیے عید اور تیری جانب سے ایک نشانی بن جائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہت ہی بہتر رزق دینے والا ہے۔ اس دعا پر خدا نے فر مایا کہ میں دستر خوان تمھارے لیے اتاروں گا، پھر جو کوئی تم سے اس کے بعد کفر کرے گا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا ہوگا۔

سورۃ المائدہ کے آخر میں اس بات کا ذکر ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ سے پوچھیں گے کہ کیا انھوں نے لوگوں کو کہا تھا کہ ان کی اور ان کی والدہ مریم صدیقہ کی پوجا کی جائے۔ آپ کہیں گے کہ یا اللہ میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہوں جسے کہنے کا مجھے حق نہیں۔ میں تو ان کو ہمیشہ یہی کہتا رہا کہ میرے اور اپنے اللہ کی پوجا کرو۔ پھر حضرت عیسیٰ کا جملہ منقول ہے کہ اے اللہ اگر تو ان لوگوں کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کی مغفرت فرما دے تو تو غالب حکمت والا ہے۔

سورۃ المائدہ کے بعد سورۃ الانعام ہے جس کے شروع میں ارشاد ہے کہ ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو زمین اور آسمان کا خالق ہے اور جس نے اندھیروں اور اجالوں کو پیدا کیا لیکن کافر پھر بھی اس کا شریک بناتے ہیں۔ انسان کی تخلیق کا ذکر ہے اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس کو رہنے کا ایک وقت دیا، پھر ایک مخصوص مدت کے بعد اس کو زندہ کیا جائے گا لیکن انسان ہے کہ دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں شک کا شکار ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ ہی ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے جو وہ کماتا ہے۔ ارشاد ہے کہ دن اور رات میں جو کچھ بھی موجود ہے اسی کا ہے اور وہ سننے جاننے والا ہے۔

اس سورت میں ارشاد ہے کہ اگر اللہ انسان کو کوئی گزند پہنچانا چاہے تو اس کو کوئی نہیں ٹال سکتا اور اگر وہ اس کو خیریت سے رکھے تو بھی وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ آگے ذکر ہے کہ کافروں کے طعن و تشنیع رسولِ اکرم کو دکھ پہنچاتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی کو ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ درحقیقت آپ کو نہیں بلکہ مجھ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ اللہ کے پاس غیب کے خزانوں کی چابیاں ہیں اور ان کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ خشکی اور سمندر میں جو کچھ بھی موجود ہے اللہ اس کو جانتا ہے اور کوئی پتہ جو زمین پر گرتا ہے اللہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی ذرہ جو زمین کے کسی اندھیرے مقام پر پڑا ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے۔

اس سورت میں اللہ نے حضرت ابراہیم کے اپنی قوم کی بت پرستی کی بھرپور طریقے سے مذمت کا ذکر کیا ہے۔ بت پرستی کی مذمت کے ساتھ ساتھ آپ نے اجرامِ فلکی کی حقیقت کو بھی پا لیا۔ جگمگ کرتے ستارے، چاند اور سورج کو ڈوبتا دیکھ کر آپ نے اعلان کر دیا میں قوم کے شرک سے بری ہوں اور اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے زمین و آسمان کو بنایا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں۔

اس پارے کے آخر میں ارشاد ہے کہ لوگوں نے اللہ کی قدر جیسی جاننی چاہیے تھی نہ جانی ۔ ارشاد ہوا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو یہ کہے مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو، اور جو یہ کہے جیسی کتاب اللہ نے نازل کی ہے ویسی میں بھی بنا لیتا ہوں۔

ارشاد ہے کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور اس کی اولاد کیسے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے۔ وہ اللہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک کر ہی نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کر سکتا ہے۔

مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جو مشرک غیراللہ کے پجاری ہیں ان کو گالی نہ دیں۔ یہ لوگ جواب میں اللہ کو گالی دیں گے۔ یہ لوگ اللہ کی سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ ایمان لے آئیں گے۔ ان سے کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو سب اللہ کے پاس ہیں۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس اگر نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Parah-06

چھٹا پارہ اس اعلان سے شروع ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ غلط بات کو پسند نہیں کرتا لیکن اگر کوئی مظلوم شخص اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ ارشاد ہے کہ کفار اللہ اور اس کے رسول کے درمیان تفریق کرتے ہیں یعنی اللہ کی بات کو مانتے ہیں لیکن رسول کی بات کو نہیں مانتے، یا اللہ کے بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں یعنی حضرت موسی و عیسیٰ علیہما السلام کو تو مانتے ہیں لیکن حضرت محمد کا انکار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ حق سے انکاری ہیں۔ مومنوں کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کو بیک وقت مانتے ہیں یعنی اللہ کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں۔

ارشاد ہے کہ یہود حضرت مریم صدیقہ کی کردار کشی کیا کرتے تھے حالانکہ وہ پاک دامن عورت تھیں۔ ارشاد ہے کہ یہود اپنی دانست میں عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر چکے تھے جب کہ اللہ فرماتا ہے کہ عیسیٰ کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی دی گئی بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اسی طرح یہود کو اللہ نے سود کھانے سے روکا تھا لیکن وہ اس غلط کام میں مسلسل ملوث رہے، اللہ نے ان کافروں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ لیکن اہلِ کتاب کے پختہ علم والے لوگ جو قرآن اور سابقہ الہامی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور نمازوں کو قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آخرت پر ایمان لے آتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم تیار کر دیا ہے۔

سورۃ نساء کے آخر میں اللہ نے قرآنِ مجید کو اپنی دلیل اور واضح روشنی قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ جو قرآنِ مجید کو مضبوطی کے ساتھ تھامے گا، خدا اس کو اپنے فضل اوررحمت میں داخل فرمائے گا اور اس کو صراطِ مستقیم پر چلائے گا۔ آخرِ سورت میں کلالہ کے ترکے کے بارے میں احکام ذکر کیے گئے ہیں۔

سورۃ نساء کے بعد سورۃ مائدہ ہے جس کے شروع میں اللہ نے اہلِ ایمان کو اپنے وعدے پورے کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ انھیں کامیابی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد دس چیزوں کی حرمت بیان کی گئی ہے: مرا ہوا جانور، بہتا ہوا خون، سور کا گوشت ، جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، جو جانور گُھٹ کر مر جائے، جو جانور چوٹ لگ کر مر جائے، جو جانور گر کر مر جائے، جو جانور سینگ لگ کر مر جائے، وہ جانور جس کو درندے پھاڑ کھائیں مگر وہ جسے تم مرنے سے پہلے ذبح کرلو، اور پانسوں سے قسمت کا حال معلوم کرنا۔

ارشاد ہے کہ آج کافر تمھارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں، ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرو۔ آج ہم نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمھارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو مومن عورتوں کے ساتھ ساتھ اہلِ کتاب کی پاک دامن عورتوں سے بھی نکاح کی اجازت دی ہے، ان کے مہر ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کی عفت قائم رکھنے اور ان سے کھلی بدکاری اور چھپی دوستی نہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ بین المذاہب شادیاں معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مودت پیدا کرنے کے طریقوں میں سے موثر ترین طریقہ ہے جسے قرآنِ مجید نے جاری کیا۔

اس کے بعد پاکی کا بیان ہے۔ وضو کا طریقہ ذکر کیا گیا ہے کہ چہرے اور بازوؤں کو کہنیوں تک دھویا جائے اور سر اور پاؤں کا مسح کیا جائے۔ نیز بیماری اور سفر کی حالت میں مٹی سے تیمم کا ارشاد ہوا۔

اللہ تعالیٰ عیسائیوں کے اس قول کو رد فرماتے ہیں کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کہتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ اگر خدا عیسیٰ علیہ السلام، ان کی والدہ مریم صدیقہ اور زمین پر جو کوئی بھی موجود ہے ان کو فنا کے گھاٹ اتار دے تو اسے کون پوچھ سکتا ہے؟

پھر حضرت موسیٰ کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نےتم پر جو انعامات کیے ہیں ان کو یاد کرو۔ تم میں انبیا مبعوث کیے گئے اور تم کو بادشاہت عطا کی گئی اور تم کو وہ کچھ عطا کیا گیا جو کائنات میں کسی دوسرے کو نہیں ملا۔ خدا کے احسانات کا احساس دلانے کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم تم لوگ ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ۔ فرمایا کہ اگر تم لوگ ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ گے تو یقینًا تم غالب آؤ گے۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اس حوصلہ افزا بات کو سن کر بھی لوگ بزدل بنے رہے اور کہنے لگے: اے موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں رہیں گے ہم لوگ کبھی وہاں نہیں جائیں گے۔ تم اور تمھارا رب جائے اور جنگ کرے، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ موسیٰ اس سارے منظر کو دیکھ کر رنجیدہ ہوئے اور خدا سے یوں گویا ہوئے کہ اے میرے رب مجھے اپنے اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر اختیار نہیں۔ پس تو ہمارے اور نافرمانوں کے درمیان فیصلہ کر دے۔ القصہ اپنے نبی کی اس نافرمانی کی وجہ سے بنی اسرائیل منزل سے بھٹک گئے اور چالیس برس تک دربدر پھرا کیے۔

اس سورت میں حضرت آدم کے دو بیٹوں کے اختلاف کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ نے ایک بیٹے کی قربانی کو قبول کر لیا جب کہ دوسرے کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ جس کی قربانی قبول نہیں ہوئی تھی اس نے اپنے بھائی کو حسد کا شکار ہو کر بلاوجہ قتل کر دیا۔ حضرت آدم کے بیٹوں کے واقعہ کو بیان فرما کر اللہ نے انسان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ ارشاد ہے کہ جو ایک انسان کا ناحق قتل کرتا ہے وہ ایک انسان کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا قتل کرتا ہے اور جو ایک انسان کی زندگی کا سبب بنتا ہے وہ ایک انسان کو زندہ نہیں کرتا بلکہ پوری انسانیت کو زندہ کرتا ہے۔

اس سورت میں زمین میں فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت سزا ذکر کی گئی ہے۔ ارشاد ہے زمین میں فساد پھیلانے والوں کو پھانسی دے دینی چاہیے یا ان کو قتل کر دینا چاہیے یا ان کے ہاتھ پاؤں کو کاٹ دینا چاہیے یا ان کو جلاوطن کر دینا چاہیے۔ یہ دنیا میں ان کے کیے کی سزا ہے، اور آخرت کا عذاب تو انتہائی درد ناک ہے۔

نیز ارشاد ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اس سے قریب ہونے کے لیے وسیلہ پکڑا کرو، اور فلاح حاصل کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کیا کرو۔ اس کے بعد چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت، اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔

اللہ نے یہود و نصاریٰ سے دوستی کی مذمت کی ہے اور فرمایا ہے کہ جو ان سے دِلی دوستی رکھتا ہے وہ انہی میں سے ہے۔ اس کے بعد اللہ نے یہودیوں کے ذاتِ باری کے بارے میں منفی اقوال پیش کیے ہیں۔ یہودی کہتے تھے کہ اللہ کا ہاتھ تنگ ہے۔ ارشاد ہوا کہ ان کے اپنے ہاتھ تنگ ہیں اور ان پر لعنت ہو اپنے قول کی وجہ سے۔ اللہ نے کہا کہ اس کے ہاتھ کھلے ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔

نیز رسولِ کریم علیہ السلام سے بطورِ خاص ارشاد ہے کہ آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے وہ سب کا سب لوگوں تک پہنچا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ اللہ کا پیغام پہنچانے سے قاصر رہے۔

چھٹے پارے کے آخر میں اللہ نے اس بات کو ذکر کیا ہے کہ جنابِ داؤد اور عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے کافروں پر اس لیے لعنت کی کہ وہ برائی کے کاموں سے روکنے کے بجائے خود ان میں ملوث ہو چکے تھے اور ان کا یہ فعل انتہائی برا تھا۔ چنانچہ ہم مسلمانوں کو برائی کے کام سے روکنے کی تلقین کی گئی ہے۔

Parah-05

چوتھے پارے کے آخر میں ان رشتوں کا ذکر ہے جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ پانچویں پارے کے آغاز میں یہی مضمون چل رہا ہے اور اللہ نے نکاح کے لیے چنی جانے والی عورتوں کے اوصاف کا ذکر فرمایا ہے کہ نہ ان میں برائی کی علت ہونی چاہیے اور نہ غیر مردوں سے خفیہ مراسم پیدا کرنے کی بری عادت۔ اسی طرح انسان جب کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو اسے عورت کے اہلِ خانہ کی اجازت سے یہ کام کرنا چاہیے۔

مومنوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ ان کو باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ باہمی رضا مندی سے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کیا کریں۔ نیز خدا نے اپنے بندوں کو خوشخبری بھی دی ہے کہ اگر وہ بڑے گناہوں سے بچ جائیں گے تو وہ ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور ان کو جنت میں داخل فرما دے گا۔

سماج کی بنیادی اکائی گھر ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے گھریلو سطح پر اختیارات کا تعین ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ مرد عورتوں پر نگران کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ میاں بیوی میں ان بن ہو تو میاں اور بیوی دونوں کے خاندانوں سے منصف مقرر کرنے اور صلح کرانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز والدین، قریبی اعزہ و اقارب، یتیموں، مسکینوں، اور قریبی اور دور کے ہمسایوں سے حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

آگے ارشاد ہے کہ اے ایمان والو, نماز کے قریب نہ جاؤ جب کہ تم نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تمھیں معلوم ہو جائے کہ کیا کہہ رہے ہو، اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ غسل کرلو۔ نیز تیمم کے مسائل کا ذکر بھی اسی موقع پر کیا گیا ہے۔

اس کے بعد زبانیں مروڑ مروڑ کر خدا کے کلام میں الفاظ اور معانی بدلنے والے علما کا ذکر ہے اور ان پر لعنت کی گئی ہے۔ اللہ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خدا شرک کے علاوہ ہر گناہ کو معاف کر دے گا لیکن شرک کو کسی بھی طور پر معاف نہیں کرے گا۔ اس کے بعد حسد کی شدید مذمت کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ حسد کرنے والے لوگ درحقیقت اللہ کے فضل اور عطا سے حسد کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم کی آل پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر ہے کہ اللہ نے اپنے فضل سے ابراہیم کی آل کو نبوت اور حکومت سے نوازا تھا۔

اس کے بعد ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے پاس پہنچا دو۔ امانتوں میں اللہ اور بندوں دونوں کی امانتیں شامل ہیں۔

اس پارے میں سماجی اور حکومتی نظام کے چلانے کا اسلامی طریقہ بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار والوں کی، اور پھر اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔

اس کے بعد حضرت محمد علیہ السلام کی اطاعت کی اہمیت کا ذکر ہے کہ جو رسول اللہ کی اطاعت کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ مزید ارشاد ہوا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صلحاء کے ہمراہ ہوں گے۔

اس پارے میں تحفے اور سلام کے جواب کے آداب بھی بتلائے گئے ہیں کہ جب کوئی کسی کو سلام کہے یا تحفہ دے تو ایسی صورت میں بہتر تحفہ پلٹانا چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم اتنا جواب اور اتنا تحفہ ضرور دینا چاہیے جتنا وصول کیا گیا ہو۔

آگے دارالکفر میں رہنے والے مسلمانوں کا ذکر ہے کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض اور واجبات کو احسن انداز میں ادا کریں لیکن اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو ان کو اس ملک سے ہجرت کر جانی چاہیے۔ اگر وہ ہمت اور استطاعت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتے تو ان کو اللہ کی بارگاہ میں جوابدہ ہونا پڑے گا تاہم ایسے لوگ اور عورتیں جو معذوری اور بڑھاپے کی وجہ سے ہجرت سے قاصر ہوں تو اللہ ان سے مواخذہ نہیں کریں گے۔

اس پارے میں نماز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ نماز حالتِ جہاد میں بھی معاف نہیں ہے تاہم جہاد اور سفر کے دوران نماز کو قصر کیا جا سکتا ہے۔ خوف اور جنگ کی حالت میں فوج کے ایک حصہ کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے جب کہ ایک حصے کو نماز ادا کرنا چاہیے اور جونہی امن حاصل ہو جائے، نماز کو بروقت اور احسن انداز میں ادا کرنا چاہیے۔

آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت میں ارشاد ہے کہ جو کوئی ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول اللہ کی مخالفت کرے گا خدا اس کا رخ اس کی مرضی کے راستے کی طرف موڑ دے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔

منافقین کے بارے میں ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی چالوں سے خدا کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ اس کو کیا دھوکہ دیں گے کیونکہ خدا خود انھیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔ یہ جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہوکر صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے، اور خدا کو یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم۔ یہ لوگ بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں، نہ ان کی طرف ہوتے ہیں نہ ان کی طرف۔ جس کو خدا بھٹکا دے تو تم اس کے لیے کبھی رستہ نہ پاؤ گے۔ اور ایمان والوں سے ارشاد ہے کہ تم اپنے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ۔ ارشاد ہے کہ منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔

اس پارے کے آخر میں خدا نے اپنی رحمت کے بارے میں اپنے بندوں کو بتایا ہے کہ اگر لوگ اللہ کی ذات پر ایمان لے آئیں اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں تو اللہ کو انھیں عذاب دینے کی کیا ضرورت ہے؟

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Parah-04

چوتھے پارے کا آغاز خدا کے لیے خرچ کرنے کی ترغیب سے ہوتا ہے۔ ارشاد ہے کہ تم اس وقت تک بھلائی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہ کرو جو تمھیں محبوب ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو خدا اس سے خوب واقف ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پہلا گھر مکہ مکرمہ میں تعمیر کیا گیا تھا اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔ ارشاد ہے کہ جو بھی اس گھر میں داخل ہوتا ہے اس کو امن حاصل ہو جاتا ہے۔ نیز یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر اہلِ ایمان اہلِ کتاب کے کسی گروہ کی اطاعت اختیار کریں گے تو وہ ان کو ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں گے۔

ارشاد ہوا کہ جس نے خدا کی ہدایت کی رسی کو مضبوط پکڑا وہ سیدھے راستے پر لگ گیا۔ اے مومنو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔ اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اللہ کی رسی سے مراد وحیِ غیر محرف یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر مسلمان مضبوطی کے ساتھ قرآن کو تھام لیں تو ان کے باہمی اختلافات بآسانی دور ہو سکتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن اہلِ ایمان کے چہرے سفید اور ایمان کو ٹھکرانے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ سفید چہروں والے خدا کی رحمتوں کے مستحق ٹھہریں گے جب کہ سیاہ چہروں والے اپنے کفر کی وجہ سے شدید عذاب سے دوچار ہوں گے۔

ارشاد ہے کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کو کہا کرے اور برے کاموں سے رکنے کو کہا کرے۔ یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔ جتنی بھی قومیں تم لوگوں میں پیدا ہوئیں، اے مومنو تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے لیے اچھا ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر ہم صحیح معنوں میں بہترین امت بننا چاہتے ہیں تو ہمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بطورِ کارِ منصبی اپنی زندگی کا ایک شعبہ بنانا چاہیے۔

ارشاد ہے کہ جب مسلمانوں کو کوئی تکلیف آئے تو کافر خوش ہوتے ہیں اور جب ان کو کوئی خوشی حاصل ہو تو کافر غیظ و غضب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر مسلمان صبر اور تقویٰ کا راستہ اختیار کریں تو کافروں کی کوئی خوشی اور ناراضی مسلمانوں کو گزند نہیں پہنچا سکتی۔

اس سورۃ میں غزوۂ بدر کا بھی ذکر ہے۔ خدا نے اپنے رسول سے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی نصرت کے لیے تین ہزار فرشتوں کو اتارے گا اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر کافر مسلمانوں تک رسائی حاصل کر لیں اور مسلمان صبر و استقامت سے ان کا مقابلہ کریں تو خدا پانچ ہزار فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کے لیے اتارے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ فرشتوں کی مدد تو ایک خوشخبری ہے وگرنہ اصل میں تو مدد کرنے والا خدا بذاتِ خود ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اے ایمان والو، سود در سود کھانے سے اجتناب کرو۔

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنت کی طرف تیزی سے بڑھنے کی تلقین کی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ جنت کی چوڑائی زمین اور آسمان کے برابر ہے۔ پھر جنتی مومنوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب ان سے صغیرہ یا کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو انھیں خدا کا خوف دامن گیر ہو جاتا ہے اور وہ خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور خدا کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کر سکے۔

غزوۂ احد میں مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں سے بہت نقصان اٹھانا پڑا جس کی وجہ سے مسلمان بہت دکھی تھے۔ اللہ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اگر تمھیں زخم لگا ہے تو تمھاری طرح تمھارے دشمنوں کو بھی زخم لگا ہے۔ ارشاد ہوا کہ ایام کو ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ اس ذریعے سے خدا مومنوں کو بھی جانچ لیتا ہے اور کئی لوگوں کو شہادت کا منصب بھی عطا فرما دیتا ہے۔ ارشاد ہوا کہ تم لوگ اہلِ کتاب اور مشرکین سے بہت سی ایذا رسانی کی باتیں سنو گے لیکن تمھیں دل گرفتہ نہیں ہونا اور صبر و تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ بے شک یہ بہت بڑا کام ہے۔

سورۃ آلِ عمران کے آخری حصے میں ارشاد ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں جو کھڑے بیٹھے اور لیٹے یعنی ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے یہ سب بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ مزید ارشاد ہے کہ عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت، میں اس کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ تم کفار کے مقابلے میں ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو، اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

سورۃ آلِ عمران کے بعد سورۃ النساء ہے۔ اس کے شروع میں انسانوں کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ ذات پات اور برادری وجہ عزت نہیں اس لیے کہ تمام انسانوں کی اصل ایک ہے۔ انھیں اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے جو کہ ان کا پروردگار ہے اور اس نے ان کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں سے کثیر تعداد میں مردوں اور عورتوں کو پیدا کرکے روئے زمین پر پھیلا دیا۔

ارشاد ہوا کہ یتیموں کا مال جو تمھاری تحویل میں ہو ان کے حوالے کرو اور ان کے پاکیزہ عمدہ مال کو اپنے ردی مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ اور اگر تمھیں اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمھیں پسند ہوں، دو دو تین تین یا چار چار، ان سے نکاح کرلو، اور اگر تمھیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ سب عورتوں سے یکساں سلوک نہ کر سکو گے تو ایک عورت کافی ہے یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔

اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال کے بارے میں کئی باتیں ارشاد فرمانے کے بعد وراثت کے مسائل کو بھی بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے اور جائیداد میں بیٹوں کا بیٹیوں کے مقابلے میں دو گنا حصہ رکھا ہے۔ اگر کسی کی صرف بیٹیاں ہوں تو اس صورت میں وہ دو تہائی جائیداد کی مالک ہوں گی اور اگر صرف ایک بیٹی ہو تو وہ نصف جائیداد کی مالک ہوگی۔ شوہر اپنی بیوی کی جائیداد میں ایک چوتھائی حصے کا مالک ہوگا جب کہ بیوی اپنے شوہر کی جائیداد میں آٹھویں حصے کی مالک ہوگی۔ والد اور والدہ کا اپنے بیٹے کی جائیداد میں چھٹا حصہ ہوگا۔ اسی طرح بے اولاد شخص کی جائیداد اس کے بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگی۔ جائیداد کی تقسیم سے قبل واجب الادا قرض کو ادا کرنا چاہیے۔ یہ تمام احکام خدا کی قائم کردہ حدیں ہیں۔

اس کے بعد غیرت کے نام پر قتل (Honour-Killing) کے بارے میں خدا کا حکم ذکر ہوا ہے۔ ارشاد ہے کہ اے مسلمانو، تمھاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی گواہی لو۔ اگر وہ ان کی بدکاری کی گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور سبیل پیدا کرے۔ اس کے علاوہ نکاح کے کئی مسائل ان آیات میں بیان کیے گئے ہیں اور ان رشتوں کا تفصیلی ذکر ہے جن سے نکاح حرام ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرانِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔