Pages

Saturday, May 16, 2020

Parah-25

پچیسواں پارہ

پچیسویں پارے کا آغاز سورت حٰم سجدہ کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر اگنے والے پھل کا علم اسی کے پاس ہے اور ہر عورت کے حمل اور اس کے بچے کی پیدائش کا علم اللہ کے پاس ہے۔ اللہ مشرکین سے کہے گا کہاں ہیں وہ شریک جنھیں تم پکارا کرتے تھے. تب مشرکین کہیں گے آج ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو آپ کے علاوہ کسی کو پکارتا ہو. اللہ چونکہ خود موجد ہے اس لیے اس سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اللہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ انسان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائے گا اور ان کے اپنے نفوس میں بھی، یہاں تک کہ انسانوں کو یقین ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے۔

Parah-24

چوبیسواں پارہ

چوبیسویں پارے کا آغاز سورۃ زمر کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچی بات اس تک پہنچ گئی تو اسے جھٹلا دیا۔ جھوٹ باندھنے والے لوگوں میں وہ تمام گروہ شامل ہیں جنھوں نے اللہ کی ذات کے ساتھ شرک کیا۔ کفارِ مکہ نے بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ اسی طرح عیسائیوں نے سیدنا مسیح کو جب کہ یہودیوں نے سیدنا عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دیا۔ یہ تمام کے تمام گروہ اس بات سے غافل ہیں کہ اللہ نے جہنم کو کافروں کے لیے طے فرما دیا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ سچائی کی دعوت لے کر آئے اور جنھوں نے آپ کی تصدیق کی وہ اہلِ تقویٰ ہیں اور ان کے لیے پروردگارِ عالم کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو وہ چاہیں گے. رسول اللہ ﷺ اس پر رنجور ہوجاتے تھے کہ کافروں کو صراطِ مستقیم کی دعوت دینے پر وہ آپ کی حق پر مبنی بات کو ٹھکرا دیتے ہیں، اس پر ارشاد ہوا کہ جو ہدایت کو قبول کرے گا وہ اپنے فائدے کے لیے کرے گا اور جو گمراہ ہوگا اس کا نقصان اسی کی ذات کو ہوگا۔

Parah-23

تئیسواں پارہ

تئیسویں پارے کا آغاز سورت یٰس کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ پچھلی آیات میں انبیا علیہم السلام کی تائید کرنے والے ایک مومن کا ذکر تھا، اس پارے میں اس مردِ مومن کی تبلیغ کا ذکر ہے کہ اس نے بستی کے لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں اللہ کی پوجا کیوں نہ کروں کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف مجھ کو پلٹ کر جانا ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر اگر میں کوئی اور معبود پکڑ لوں تو مجھے اس معبود کا کیا فائدہ کہ اللہ اگر مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو دوسرے معبود میرا کچھ بھی بھلا نہیں کر سکتے۔ بستی والوں نے اس کی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اس کو قتل کر دیا۔ خدا نے اس کو جنت میں داخل کر دیا اور خدا کی رحمتیں بستی والوں سے روٹھ گئیں۔ اس آدمی کو اللہ نے بخش دیا اور جنت میں داخل فرمایا. جب اس نے جنت کی نعمتیں اور آسائشیں دیکھیں تو کہنے لگا کاش میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ نے میرے ساتھ کیا معاملہ کیا تو وہ بھی ہدایت پالیں. یہ آدمی دنیا میں بھی قوم کا خیر خواہ تھا اور جنت میں بھی اسے اپنی قوم کی فکر تھی.

Parah-22

بائیسویں پارے کا آغاز سورہ احزاب کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اس کے آغاز میں اللہ نے امہات المومنین سے مخاطب ہوکر فرمایا ہے کہ جو کوئی بھی امہات المومنین میں سے اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنے آپ کو وقف کرے گی اور نیک اعمال کرے گی، اللہ اس کو دو گنا اجر عطا فرمائے گا اور اس کے لیے پاک رزق تیار کیا گیا ہے۔ امہات المومنین کو اس امر کی بھی تلقین کی گئی ہے کہ جب وہ کسی سے بات کریں تو نرم آواز سے بات نہ کیا کریں تاکہ جس کے دل میں مرض ہے وہ ان کی آواز سن کر طمع نہ رکھے اور معروف طریقے سے بات کریں۔ نیز امہات المومنین اپنے گھروں میں مقیم رہیں اور جاہلیت کی بے پردگی اور بناؤ سنگھار نہ کریں، اور نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں۔ بے شک اللہ چاہتا ہے کہ نبی کے گھر والوں سے ناپاکی کو دور کر دیا جائے اور ان کو پاک صاف کر دیا جائے۔

اس کے بعد معاشرے کے مثالی مسلمان کی دس صفات ذکر فرمائی گئیں: اسلام، ایمان، دائمی اطاعت، صدق، صبر، خشوع، صدقہ، روزے، شرمگاہ کی حفاظت اور اللہ کے ذکر کی کثرت.

اس کے بعد اللہ نے حضرت محمد علیہ السلام کے منہ بولے بیٹے زید کی بیوی کو طلاق کے بعد ام المومنین کا درجہ دے کر اس اصول کو واضح کیا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا اور اسلام لے پالک کے نام پر معاشرے میں پہچان کی گمشدگی (Theft of Lineage Identity) کی سختی سے نفی کرتا ہے۔ اس کے بعد حضرت محمد علیہ السلام کے خاتم النبیین ہونے کا تفصیلی اور بے غبار بیان ہے اور آپ کو ہدایت کے چمکتے سورج سے تشبیہہ دی گئی ہے۔

اللہ تعالی نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کریں اور صبح شام اللہ کی حمد میں مشغول رہا کریں۔ نیز تین معاشرتی آداب کو ذکر کیا: کسی کے گھر بغیر اجازت داخل نہ ہوں، ضیافت سے فارغ ہوکر جلد رخصت ہوں تاکہ مہمانوں کے بیٹھنے سے اہل خانہ کو تکلیف نہ ہو، اور غیر محرم خواتین سے اگر کچھ مانگنا ہو تو پردہ کے پیچھے سے مانگیں.

ایمان والوں کو خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور ملائکہ نبی پاک پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی اپنے نبی پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ نیز اللہ نے نبی کریم کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں کو کہہ دیں کہ وہ جلباب اوڑھا کریں تاکہ پہچان لی جائیں اور کوئی ان کو تنگ نہ کرے۔

اس سورت کے آخر میں ارشاد ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو جہنمیوں کو اوندھے منہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔ جہنمی کہیں گے کہ اے کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانی ہوتی، اور کہیں گے کہ ہم نے اپنے بڑوں اور سرداروں کی بات مانی پس انھوں نے ہمیں گمراہ کر دیا، اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت برسا۔ نیز اہلِ ایمان کو نصیحت کی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے ان لوگوں کی کہی ہوئی بات سے ان کی براءت ظاہر کر دی حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بڑی وجاہت والے تھے۔ اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نبی کی تکریم کریں۔

اس سورت میں سچی بات کہنے کے فوائد بھی بتائے گئے ہیں کہ اگر سیدھی بات کی جائے تو معاملات سنور جاتے ہیں اور اللہ حق گو شخص کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔

سورۃ الاحزاب کے بعد سورۃ سبا ہے۔ اس میں اللہ فرماتا ہے کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کے لیے آسمان و زمین میں موجود سب کچھ ہے اور اس کی حمد آخرت میں ہے اور وہ باخبر حکمت والا ہے۔ وہ جانتا ہے جو زمین میں جاتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا اور اس کی طرف چڑھتا ہے اور وہ رحمت کرنے اور بخشنے والا ہے. اس سورت میں اللہ نے صابر و شاکر حکمران اور نافرمان اور ظالم حکمران کا موازنہ کیا ہے. جنابِ داؤد اور سلیمان پر اللہ نے بے شمار انعامات کیے. جنابِ داؤد کے لیے پہاڑ اور پرندوں کو مسخر فرما دیا گیا اور لوہے کو ان کے ہاتھوں میں نرم کر دیا گیا تھا، اور جنابِ سلیمان کے لیے ہواؤں مسخر فرما دیا تھا اور جنات کو ان کے احکامات کے تابع کر دیا تھا۔ اس قدر انعامات کے باوجود یہ دونوں انبیا صبر بھی کرتے تھے اور شکر بھی بجا لاتے تھے.

اس کے بالمقابل اللہ نے سبا کی بستی کا ذکر کیا ہے کہ یقینًا سبا والوں کے لیے ان کے مقامِ رہائش میں نشانی تھی کہ ان کے دائیں اور بائیں دو باغ تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو کہ پاکیزہ شہر ہے، لیکن انھوں نے روگردانی کی تو اللہ نے ان پر ایک سخت امڈتا ہوا سیلاب بھیج دیا اور ان کے دونوں باغوں کو بدمزہ پھل، جھاؤ اور کچھ بیری والے باغوں میں بدل دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو یہ بدلہ ان کے کفر کی وجہ سے دیا تھا اور ہم صرف ناشکروں کو ایسا بدلہ دیتے ہیں۔

اس سورت میں یہ بھی ارشاد ہے کہ اللہ نے نبی کریم کو جمیعِ انسانیت کے لیے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا مگر لوگوں کی اکثریت اس بات کو نہیں جانتی۔ آگے چل کر اللہ نے ثروت و غنا کو سرکشی کے اسباب میں سے ایک ممکنہ سبب بتایا۔ مشرکین کو جب عذاب کی وعید سنائی جاتی تو کہتے ہمارے پاس تم سے زیادہ مال ہے اس لیے ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ روزی میں تنگی فراخی کرنے والا ایک اکیلا اللہ ہی تو ہے۔

سورۃ سبا کے بعد سورۃ فاطر ہے۔ اس میں ارشاد ہے کہ تمام تعریفیں زمین اور آسمان بنانے والے اللہ کے لیے ہیں۔ اس نے فرشتوں میں سے بھی رسول چنے ہیں۔ بعض فرشتے دو پروں والے بعض تین اور بعض چار پروں والے ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں جس طرح چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان نشانیوں کو وہی لوگ سمجھتے جو اہلِ علم ہیں۔ اللہ نے ان گمراہ لوگوں کا ذکر کیا ہے جن کو ان کے غلط اعمال بھی اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ دنیا میں جتنی عورتیں حاملہ ہوتی اور جتنی بچوں کو جنتی ہیں اور جو کوئی بھی بوڑھا ہوتا ہے اور جس کی عمر کم ہوتی ہے، اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔ مزید ارشاد ہوتا ہے کہ اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دھوپ اور چھاؤں برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی زندہ اور مردہ برابر ہو سکتے ہیں۔ جو شخص ہدایت کے راستے پر ہو وہ راہ گم کردگان کے برابر نہیں ہوتا۔

اللہ نے مسلمانوں کے تین طبقات کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے وہ جو طالب ہیں یعنی جن کے گناہ زیادہ اور نیکیاں کم ہیں۔ دوسرے وہ جو درمیانے ہیں، کبھی گناہ زیادہ کبھی نیکیاں۔ تیسرے وہ لوگ جو نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں۔ ان سب کی اللہ معذرت فرمائیں گے اور جنت ان کا ابدی ٹھکانہ ہوگی۔ اس کے بعد فرمایا کہ وہ لوگ جو ہماری آیات کو تکبر کی وجہ سے نہیں مانتے کیا انھوں پہلے تکبر کرنے والوں اور مکر کرنے والوں کا انجام نہیں دیکھا؟ اللہ کا طریقہ نہیں بدلے گا اور جیسا پہلوں کا انجام ہوا ان کا بھی ویسا ہی ہوگا۔ لیکن اللہ ایک وقت تک مہلت دیتا ہے کیونکہ اگر انسانوں کو گناہوں پر فوری پکڑ شروع کر دیں تو زمین پر جانور ہی بچ پائیں گے۔

"اللہ کا طریقہ نہیں بدلے گا” سے بسا اوقات یہ عمومی کلیہ اخذ کر لیا جاتا ہے کہ خدا اپنے اصولوں کا خود بھی ویسا ہی پابند اور بے بس و مجبور ہے جیسے کہ ہم انسان مجبور ہیں۔ غور سے سمجھنے کی بات ہے کہ خدا نے یہ بات اس عمومی مفہوم میں بیان ہی نہیں فرمائی۔ اس آیت سے پہلے اور بعد میں دیکھ لیجیے کہ اس میں اللہ پاک اپنے اختیارات یا قدرت کو بیان نہیں کر رہا بلکہ عذاب و عقاب میں اپنی سنت بیان فرما رہا ہے، کہ جب بھی قوموں نے ہمارے رسولوں کی بات کو جھٹلایا تو ہمارے عذاب کا کوڑا ان پر برسا اور ان کو نسیًا منسیًا کرکے رسولوں کو بچا لیا گیا۔ یہی بات مکے والوں سے بھی سورہ بنی اسرائیل میں کہی گئی کہ تم محمد علیہ السلام کو نکال تو رہے ہو مگر یاد رکھو اس کے بعد تم بھی یہاں زیادہ دیر اپنی من مانیاں نہ کرسکو گے۔ یہی اللہ کی سنت ہے اور تم نہ تو اس سنت کا رستہ روک سکتے ہو نہ اس کو کسی اور کی طرف موڑ سکتے ہو۔ اگر خدا ہی اپنے ہاتھ خود باندھ کر بیٹھ گیا ہے اور اسباب کا ماتحت ہوگیا ہے تو پھر خدا میں اور بندوں میں بھلا فرق ہی کیا رہ گیا؟ جب خدا خلافِ ضابطہ کچھ کر ہی نہیں سکتا تو پھر کوئی اس سے دعا کرے تو بھلا کیوں کرے؟؟یہ بات سمجھ لیجیے کہ خدا کے مجبور یا ضابطے کا پابند ہونے کا نظریہ ہی دراصل اپنے اندر الحاد کا خوفناک الاؤ چھپائے ہوئے ہے۔ الحاد باہر سے نہیں اندر سے امنڈتا ہے۔

سورۃ فاطر کے بعد سورۃ یٰس ہے۔ اس میں اللہ نے قرآنِ حکیم کی قسم کھا کر کہا ہے کہ بے شک محمد رسولوں میں سے ہیں اور ان کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے۔ ارشاد ہے کہ جو لوگ کافر ہیں ان کو ڈرایا جائے یا نہ ڈرایا جائے ان کے لیے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لانے والے۔ رسول کریم اس کو ڈراتے ہیں جو قرآنِ مجید کی پیروی کرتا اور اللہ کے ڈر کو اختیار کرنے والا ہے۔

اللہ نے ایک بستی کا ذکر کیا جس میں دو رسولوں کو بھیجا گیا لیکن بستی والوں نے ان کو جھٹلایا۔ تب ایک تیسرے رسول نے آ کر اُن کی تائید کی۔ ان رسولوں نے کہا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں جس پر بستی والوں نے کہا کہ رحمٰن نے کچھ بھی نازل نہیں کیا اور تم جھوٹ بول رہے ہو۔ دریں اثنا بستی کے پرلے مقام سے ایک شخص دوڑتا آیا اور قوم سے مخاطب ہو کر کہا اے میری قوم کے لوگو، ان تینوں کی پیروی کرو۔ یہ تم سے کچھ بھی طلب نہیں کر رہے اور ہدایت پر ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین.

Parah-21

اکیسویں پارے کا آغاز سورۃ عنکبوت کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک حضرت محمد علیہ السلام سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں، بے شک نماز فحاشی اور برے کاموں سے ہٹا دیتی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ آپ پہلے سے نہ کوئی کتاب پڑھے تھے نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ورنہ اہلِ باطل شک کرتے (کہ قرآن اللہ کی وحی کردہ کتاب نہیں ہے بلکہ جناب محمد یہ آیتیں خود گھڑتے ہیں)۔ آپ کا بغیر کسی سابقہ تعلیم کے قرآنِ مجید جیسی کتاب کو پیش کرنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آپ پر وحی آتی ہے اور آپ اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ یہ واضح آیات ہیں جن کو اللہ نے اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ فرما دیا ہے۔ اللہ کی آیات سے جھگڑنے والے لوگ ظالم اور کافر ہیں۔ اللہ تعالی نے اس سورت میں مشرکینِ مکہ کی بداعتقادی کا ذکر کیا کہ جب وہ سمندروں میں ہوتے ہیں تو اللہ کو پورے اخلاص سے پکارتے ہیں اور جب خشکی پر ہوتے ہیں تو شرک کا ارتکاب اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس سورت کے آخر میں اللہ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میرے راستے میں جد و جہد کرتے ہیں میں ان کو ضرور راستے دکھاؤں گا، اور بے شک اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

سورۃ عنکبوت کے بعد سورۃ روم ہے۔ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب روم کو ایران کے آتش پرستوں سے شکست ہوئی۔ کفارِ مکہ ایرانیوں کی اس فتح پر بہت خوش تھے۔ اللہ نے اس سورت میں مومنوں کی دلجوئی کے لیے اعلان فرمایا کہ اہلِ روم مغلوب ہوگئے، قریب کی سرزمین (شام) میں اور اپنی مغلوبیت کے بعد چند ہی سال میں غالب آئیں گے۔ پہلے بھی ہر چیز کا اختیار صرف اللہ کے پاس تھا اور بعد میں بھی صرف اس کے پاس رہے گا اور اس دن سے مومن خوش ہو جائیں گے۔ (جب ان آیات کا نزول ہوا تو مشرکینِ مکہ نے ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے اس کو ناممکن خیال کیا۔ یہ لوگ خدا کی طاقت اور اختیارات سے ناواقف تھے اس لیے ان کی نگاہ صرف ظاہری حالات پر تھی۔ اللہ نے ہجرت سے ایک سال قبل ایرانیوں کو کمزور کرنا شروع کر دیا اور 2 ہجری میں ایرانیوں کا سب سے بڑا آتشکدہ بھی رومی فتوحات کی لپیٹ میں آگیا۔ اسی سال بدر کے معرکے میں مسلمانوں کو اللہ نے غلبہ عطا فرمایا اور مسلمانوں کی خوشیاں دوچند ہوگئیں کہ رومیوں کی فتح کی اچھی خبر سننے کو مل گئی اور اللہ نے مسلمانوں کو بھی کافروں کے مقابلے میں فتح یاب فرما دیا۔)

یہ سورت حزب الرحمن یعنی رحمان کا گروہ اور حزب الشیطان کے درمیان معرکہ کا ذکر کرتی ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا یہاں تک اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما کر دونوں کو ان ٹھکانوں پر پہنچا دیں. اللہ کا ارشاد ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو فرقے الگ الگ ہوجائیں گے اور مومنوں کو جنت رسید اور کفار کو جہنم رسید کیا جائے گا. یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ حق والے ہمیشہ غالب رہیں گے. اگر کہیں حق والے مغلوب ہیں تو وہ دیکھیں کہیں انھوں نے باطل کے طور طریقوں کو تو نہیں اپنا لیا اور کہیں باطل نے حق کے طور طریقے اپنا لیے ہیں.

اس سورت میں اللہ نے مسلمانوں کی نصیحت کی ہے کہ قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کا حق ان کو دینا چاہیے۔ یہ بہتر ہے کہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے اللہ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ارشاد ہے کہ جو سود انسان کھاتا ہے اس کا مقصد مالوں کو پرورش دینا ہوتا ہے لیکن اس سے مال پروان نہیں چڑھتا اور جو زکوٰۃ اللہ کے لیے دی جاتی ہے اللہ اس سے مال میں اضافہ فرماتے ہیں۔

اس سورت کے آخر میں کفار کا ذکر ہے کہ وہ قرآن مجید کی آیات کو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی غور کرتے ہیں جیسے کے مردہ ہوں۔ سورۃ روم کے بعد سورۃ لقمان ہے۔ اس میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے والے لوگ نمازیں قائم کرنے والے، زکوٰۃ ادا کرنے والے اور آخرت پر پختہ یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔ بعض لوگ لغو باتوں کی تجارت کرتے ہیں اور ان کا مقصد صرف لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے، ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اللہ نے جنابِ لقمان کا ذکر کیا ہے جن کو دانائی سے نوازا گیا تھا۔ لقمان نے اپنے بیٹے کو کچھ قیمتی نصیحتیں کی تھیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اے جانِ پدر شرک نہ کرنا، شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ نیز والدین کی خدمت کی تلقین کی۔ پھر اللہ کے علم کی وسعتوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے بیٹے اگر رائی کے دانے کے برابر کوئی چیز کسی چٹان کے اندر یا آسمان و زمین میں ہو تو اللہ اس کو بھی سامنے لائے گا، بے شک اللہ بڑا باریک بین باخبر ہے۔ نیز فرمایا کہ اے میرے بیٹے نماز قائم کر، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روک، اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بےشک یہ بڑی ہمت والے اور ضروری کام ہیں۔ اخلاق کریمانہ کی نصیحت کی کہ لوگوں سے اپنا چہرہ پھیر کر بات نہ کر (یعنی بے رخی سے) اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بے شک اللہ اکڑ کر چلنے والے اور متکبرین کو پسند نہیں کرتا، اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز پست رکھنا کیونکہ بلند آواز اگر اچھی ہوتی تو گدھے کی آواز اچھی ہوتی حالانکہ آوازوں میں بدترین آواز گدھے کی آواز ہے.

مشرکین کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر خود ان سے سوال کیا جائے تو کہیں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے. اگر تمام درختوں کے قلم بنا لیے جائیں اور ساتوں سمندر روشنائی بن جائیں تب بھی خالق کائنات کی صفات مکمل بیان نہیں ہو سکتیں.

اس سورت کے آخر میں اللہ پانچ ایسی باتوں کو ذکر کیا ہے جن کو صرف وہ جانتا ہے: ساعت یعنی قیامت کا علم، بارش کا ہونا، ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کسی نفس کو نہیں معلوم کہ کل کیا ہوگا (یا کل وہ کیا کر سکے گا) اور کوئی نہیں جانتا وہ کس زمین میں مرے گا۔ ان تمام باتوں کا علم صرف باخبر اور علم رکھنے والے اللہ کے پاس ہے۔

اس کے بعد سورۃ الم سجدہ ہے جس میں اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا ہے. انسان کو توجہ دلائی کہ وہ اپنی تخلیق پر غور کرے کہ اللہ نے کیسے اور کن مراحل میں اس کی تخلیق کی ہے. پھر فرمایا ہے کہ اللہ نے ملک الموت کو انسانوں کی ارواح قبض کرنے پر مامور کیا ہے۔

اللہ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی انسان کو علم نہیں کہ اللہ نے آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کیا اہتمام فرمایا ہے. یہ سورت مومنین اور مجرمین دونوں کا حال بتاتی ہے. ارشاد ہے کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہو سکتے. مجرم قیامت کے دن سر جھکائے کھڑے ہوں گے. ان کے چہروں پر ذلت ہوگی اور کہیں گے کہ کاش ہمیں واپس لوٹا دیا جائے تو ہم نیک اعمال کریں. مومنین اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کے پہلو راتوں کو بستر سے جدا رہتے ہیں، اور اللہ کے دیے ہوئے مال سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں. مومن کا مقدر جنت جب کہ فاسق کا مقدر جہنم کے انگارے ہیں.

سورۃ سجدہ کے بعد سورۃ احزاب ہے۔ شروع کی دو آیات میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو لائحہ عمل دیا ہے کہ اللہ سے ڈرو، کفار کی پیروی مت کرو اور صرف وحی کی پیروی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو. اس کے بعد فرمایا کہ کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں ہوتے ایک ہی دل ہوتا ہے جس کفر ہوگا یا اسلام. اس کے بعد ازواجِ مطہرات کو امت کی مائیں قرار دے کر ان کی عظمت کو بیان کیا. آگے چل کر اللہ نے جنگِ خندق کا ذکر کیا ہے جس میں کافروں کی افرادی قوت دیکھ کر منافقین کے دلوں پر ہیبت طاری ہوگئی تھی جب کہ اہلِ ایمان پوری استقامت سے میدان میں ڈٹے رہے۔ ایک لشکرِ جرار نے مدینے پر حملہ کیا۔ رسول اللہ کے ساتھ صحابہ کرام کے علاوہ سترہ سو یہودی حلیف تھے۔ سترہ سو حلیف اتنی بڑی فوج دیکھ کر بھاگ گئے۔ اب صرف چار ہزار جانباز مسلمانوں کی جماعت کے ذریعے خدا نے اہلِ ایمان کی مدد فرمائی اور کافر کثرتِ تعداد اور وسائل کی فراوانی کے باوجود ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس سورت میں اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس کو اللہ سے ملاقات اور یومِ حساب کی آمد کا یقین ہے اس کے لیے رسول اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔

اس پارہ کے اختتام اور اگلے پارہ کے شروع میں اللہ تعالٰی نے ازواجِ مطہرات کو بالخصوص اور عام خواتین کو بالعموم چند معاشرتی آداب سکھائے ہیں جن کا ذکر ان شاءاللہ اگلے پارے کے آغاز میں ہوگا.

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ مجید میں بیان کردہ مضامین سے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.

Thursday, May 14, 2020

Parah-20

بیسویں پارے کا آغاز سورۃ نمل کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ شروع میں ہی اللہ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی قوتِ تخلیق اور توحید کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اس کے سوا کون ہے جس نے زمین و آسمان کو بنایا اور آسمان سے پانی کو اتارا، جس کی وجہ سے مختلف قسم کے باغات اگتے ہیں. اور کون ہے جس نے زمین کو ٹھہرایا ہوا ہے اور اس میں پہاڑوں کو لگایا اور اس میں نہروں کو جاری کیا ہے۔ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی الٰہ ہے؟ پھر پوچھا، اللہ کے سوا کون ہے جو بے قراری کی حالت میں کی گئی دعاؤں کو سننے والا ہو اور جو تکلیف پہنچتی ہے اس کو دور کرنے والا ہو۔ اور اللہ کے سوا کون ہے جو خشکی اور رات کی تاریکیوں میں انسانوں کی رہنمائی کرنے والا ہے اور کون ہے جو خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجنے والا ہے۔ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی معبود ہے جو تخلیق کا آغاز کرنے والا ہو اور دوبارہ اس کو زندہ کرنے والا ہو اور کون ہے جو زمین و آسمان سے رزق عطا کرنے والا ہو؟ اس کے بعد اللہ چیلنج کرتا ہے کہ اگر تمھارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو۔

اس کے بعد مشرکین کی اس غلط فہمی کہ جب ہم ہڈیوں کا چورا بن جائیں گے تو پھر دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے کا ازالہ کیا کہ جو اتنی زبردست قدرت کا مالک ہے اس کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں. ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلی دی اور مشرکین کو انتباہ کیا کہ اگر تم اسی طرح نافرمانی کرتے رہے تو تمھارا بھی وہ حشر ہوگا جیسا پہلی اقوام کا ہوا. زمین میں چل پھر کر عبرت حاصل کرو اور دیکھو کہ اللہ نے فسادیوں کا کیا انجام کیا.

سورۃ نمل کے بعد سورۃ قصص ہے۔ فرعونوں کے سلسلے کے بادشاہ Thutmose-II کو اللہ نے بہت طاقت دی تھی لیکن وہ سرکش ہوگیا اور ظلم و ستم شروع کر دیے. اس نے اپنے زیر نگیں رعایا کو مختلف گروہوں اور طبقوں میں تقسیم کر رکھا تھا. بنی اسرائیل اس وقت سب سے زیادہ مظلوم تھے. اللہ نے ان کو فرعون سے نجات دلانے کے لیے موسی علیہ السلام کو مبعوث کیا. شروع میں اللہ نے جنابِ موسیٰ کی ولادت کا ذکر کیا ہے۔ فرعون ایک برس بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرواتا اور اگلے برس ان کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ جنابِ موسیٰ اس سال پیدا ہوئے جس سال فرعون نے بچوں کے قتل کا حکم دے رکھا تھا۔ اللہ نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں خیال ڈالا کہ جب خدشہ ہو کہ فرعون کے ہرکارے آ پہنچے ہیں تو بچے کو جھولے میں لٹا کر سمندر میں ڈال دیں۔ لہروں نے جھولے کو فرعون کے محل تک پہنچا دیا۔ فرعون کی بیوی آسیہ نے جھولے میں خوبصورت بچہ دیکھا تو میاں سے سفارش کی کہ اسے قتل نہ کریں، یہ میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔ ہم اس کو بیٹا بنا لیں گے اور یہ ہمارے لیے نفع بخش بھی ہو سکتا ہے۔ بچے کو دودھ پلانے والی عورت کی تلاش ہوئی تو جنابِ موسیٰ کی بہن نے کہا میں ایک عورت کو بلاتی ہوں جو اس بچے کو دودھ پلائے۔ یوں اللہ نے جنابِ موسیٰ کو ان کی والدہ سے ملا دیا۔

جنابِ موسیٰ کو اللہ نے علم و حکمت سے بہرہ ور فرمایا۔ ایک دن فرعون کے قبیلے کا ایک آدمی بنی اسرائیل کے ایک آدمی سے لڑ رہا تھا. اس نے جب موسیٰ کو دیکھا تو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی دہائی دی۔ جناب موسیٰ نے اس فرعونی کو ایسا گھونسہ مارا کہ وہ تھاں ڈھیر ہوگیا۔ یہ قتلِ سہو تھا۔ آپ نے پروردگار سے توبہ و استغفار کی جسے اللہ نے قبول فرمایا۔ اگلے دن وہ ڈرتے ڈرتے شہر میں داخل ہوئے تو وہی بنی اسرائیلی کسی اور سے گتھم گتھا تھا۔ جنابِ موسیٰ نے اس کی مدد کے لیے ہاتھ اٹھایا تو وہ سمجھا کہ آپ اسے مارنے لگے ہیں۔ اس ہڑبڑاہٹ میں اس نے کل کے قتل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اتنے میں موسیٰ کو اطلاع ملی کہ فرعون کے فرستادے ان کو تلاش کر رہے ہیں۔ اللہ نے جنابِ موسیٰ کی رہنمائی کی اور ان کو مدین کے گھاٹ پر پہنچا دیا۔ وہاں لوگ پانی نکالنے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے اور دو لڑکیاں بھی پانی لینے آئی تھیں لیکن ہجوم کی وجہ سے پانی لینے سے رکی ہوئی تھیں۔ آپ نے انسانی ہمدردی میں ان کے لیے پانی نکالا اور ایک طرف ہٹ کر سائے میں بیٹھ گئے۔ پھر بھوک چمکی تو خدا سے خیر کی دعا مانگی۔ یکایک انہی دو لڑکیوں میں سے ایک انتہائی شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہا کہ میرے بابا آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ جو ہمارے کام آئے ہیں اس کا صلہ دیا جا سکے۔ جنابِ موسیٰ مدین کے اس بزرگ شخص کے پاس پہنچے اور اپنے حالات سے آگاہ کیا تو اس نے کہا کہ آپ میرے پاس رہیں اور اپنی ایک بیٹی کی شادی جنابِ موسیٰ سے کر دی۔

دس برس بعد جنابِ موسیٰ نے وطن واپسی کا ارادہ کیا۔ راستے میں طور پہاڑ کے پاس سے گزرے تو دور سے آگ جلتی نظر آئی۔ اہلیہ سے فرمانے لگے کہ تم ذرا ٹھہرو میں طور سے آگ لے کر آتا ہوں کہ اس سے سردی دور ہو جائے گی۔ طور پر پہنچے تو اللہ نے آواز دی: اے موسیٰ، میں خدائے عزیز و حکیم ہوں. یہاں آپ کو اللہ نے نبوت سے نوازا اور آپ کے عصا کو معجزاتی عصا اور آپ کے ہاتھ کو یدِ بیضا یعنی نورانی بنا دیا۔ آپ نے اللہ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا فرما دے۔ یہ دعا بھی قبول کر لی گئی۔ جنابِ موسیٰ فرعون کے پاس دعوت دین لے کر پہنچے تو اس نے دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ موسیٰ نے ہر طرح اس کو سمجھایا مگر وہ نہ مانا یہاں تک کہ اللہ نے اُسے اور اس کے لشکریوں کو سمندر میں ڈبو کر ہلاک کر دیا۔

حضرت موسی اور ان کی قوم کا یہ واقعہ اپنے اندر کئی نصائح اور حکمتیں لیے ہوئے ہے. مصائب و آلام میں صبر کرنا اور اللہ کی جانب متوجہ رہنا ہمیشہ اچھے نتائج دیتا ہے. آدمی جب مصائب و مشکلات میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کی ضرور مدد کرتا ہے. جب آپ اللہ کے راستہ میں قربانی دیتے ہیں تو اللہ آپ کے دشمنوں میں ہی آپ کے حمایتی پیدا کر دیتے ہیں. باطل جس قدر طاقت ور کیوں نہ ہوں آخر اسے ناکامی اس کا مقدر بنتی ہے. اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلانے کی عملی کوشش کرنا انبیاء کی سنت ہے.

اس کے بعد اللہ نے سرمایہ داروں کی تنبیہہ کی غرض سے قارون کا قصہ ذکر کیا ہے جو بے تحاشہ مال کا مالک تھا. اس کے خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت اٹھایا کرتی تھی. لیکن جب اسے غرور کرنے اور زمین میں فساد کرنے سے روکا گیا تو اس نے کہا یہ تو میرا مال ہے جو مجھے میری دانش کے بدلے ملا ہے، میں اسے جیسے چاہوں استعمال کروں. اس سرکرشی پر اللہ نے اسے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا. اس کے بعد اللہ نے سب باتوں کی ایک بات فرمائی کہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لیے تیار کر رکھا ہے جو ”بڑا بننے اور زمین پر فساد کرنے سے رک جائیں.”

اس کے بعد سورۃ عنکبوت ہے۔ اس کے شروع میں اللہ نے واضح کر دیا کہ جو بھی ایمان کا دعوٰی کرے گا وہ آزمایا جائے گا. اور یہ بات واضح کی جائے گی کہ کون کھرا ہے اور کون کھوٹا. اور ہمیشہ سے ایسا ہوا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے وہ آزمائے گئے. اسی کی مثال کے طور پر اللہ نے اس سورت میں پچھلی قوموں اور افراد (حضرت نوح، ابراہیم، لوط، صالح علیہما السلام) کا ذکر کیا ہے جنھوں نے وقت کے حاکموں کے ظلم اور استبداد کی پروا نہ کی اور اللہ کی توحید پر بڑی استقامت کے ساتھ کاربند رہے اور اپنے ایمان کے دعوے کو عمل سے ثابت کیا تاکہ اہل ایمان سمجھ لیں کہ آزمائش تو آئے گی لیکن اس کے بعد فراخی و کامیابی ہوگی. اس سورت میں اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ مشرکوں کی مثال مکڑی کی ہے جو گھر بناتی ہے لیکن اس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ اسی طرح مشرک غیر اللہ کو پکارتے ہیں مگر ان کی پکار میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔ بے شک ان کا دعویٰ مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہوتا ہے۔ اور بے شک گھروں میں کمزور ترین گھر مکڑی کا گھر ہے.

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Parah-19

انیسویں پارے کا آغاز سورۃ الفرقان کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ آغاز میں اللہ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کو میری ملاقات کا یقین نہیں وہ بڑے تکبر سے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کا نزول ہونا چاہیے یا ہم پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ جب وہ قیامت کے روز اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھیں گے تو اس دن مجرموں کو کوئی خوش خبری نہیں ملے گی.

اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنی امت سے متعلق ایک شکوہ بھی بتایا کیا ہے کہ آپ قیامت کے دن اللہ سے ان لوگوں کی شکایت کریں گے جنھوں نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا. نہ تلاوت کی نہ سمجھا اور نہ اس پر عمل کیا. لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کو وہ قرآن کو پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا رہے.

اس سورت میں ارشاد ہے کہ قیامت کے دن ظالم اپنے ہاتھ کو کاٹے گا اور کہے گا اے کاش میں نے رسول کے راستے کو اختیار کیا ہوتا اور کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے نصیحت آ جانے کے بعد غافل کر دیا۔ یعنی بہت سے لوگ بری صحبت کو اختیار کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوں گے۔ انسان کو ہمیشہ نیکو کاروں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔

اس سورت کے آخر میں اللہ نے اپنے بندوں (عباد الرحمٰن) کی صفات بیان فرمائی ہیں کہ اللہ کے یہ بندے زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے، جاہلوں سے واسطہ پڑے تو انھیں سلام کرکے الگ ہو جاتے ہیں، ان کی راتیں رکوع و سجود میں گزرتی ہیں، خرچ کرنے میں اعتدال رکھتے ہیں نہ بخل کرتے ہیں اور نہ فضول خرچی،شرک نہیں کرتے، قتلِ ناحق سے بچتے ہیں اور زنا بدکاری کے قریب بھی نہیں جاتے، جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور برائی کی مجالس سے دور رہتے ہیں، اور اپنے لیے اور بیوی بچوں کے لیے دعا مانگتے ہیں.

سورۃ فرقان کے بعد سورۃ الشعراء ہے۔ اس سورت اللہ نے قومِ نوح، قومِ ہود، قومِ ثمود اور قومِ لوط پر آنے والے عذابوں کا تذکرہ کیا کہ کس طرح ان تمام اقوام نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی اور عذاب کا نشانہ بنے۔ اللہ نے ان سب نبیوں کا اسلوبِ دعوت بیان فرمایا ہے کہ انھوں نے کارِ نبوت کے بدلے اپنی قوم سے کچھ نہیں چاہا بلکہ اپنی ساری تگ و دو کا اجر صرف اللہ سے چاہا۔ اس کے باوجود ان عاقبت نااندیش اقوام نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور انجامِ کار عذاب کا نشانہ بنے اور رہتی دنیا کے لیے عبرت کا نشان بن گئے۔

اللہ نے جنابِ ابراہیم کا بھی ذکر کیا کہ انھوں نے اپنی قوم سے بت پرستی کی وجہ دریافت کی کہ کیا تم جب ان کو پکارتے ہو اور وہ تمھاری پکاروں کو سنتے ہیں اور کیا وہ تمھیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں، تو جواب میں قوم کے لوگوں نے کہا نہیں، بلکہ ہم نے اپنے آبا و اجداد کو ان بتوں کو پوجتے ہوئے دیکھا اس لیے ہم بھی انھیں پوجتے ہیں۔ اس پر جنابِ ابراہیم نے کہا کہ میں تمھارا اور تمھارے آبا و اجداد کے معبودوں کا مخالف ہوں۔ میری وفا اور محبت رب العالمین کے لیے ہے جس نے مجھے بنایا اور سیدھا راستہ دکھایا، جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے، جو مجھے امراض سے شفا عطا دیتا ہے، جو مجھے موت بھی دے گا اور پھر دوبارہ زندہ بھی کرے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے قیامت کے دن معاف بھی کرے گا۔

اللہ نے قرآنِ مجید کے اپنی طرف سے نازل ہونے کا بھی ذکر کیا کہ اللہ نے قرآن کو واضح عربی زبان میں اتارا اور اس کو جبریلِ امین جنابِ رسولِ کریم کے سینہ مبارک پر لے کر آئے تاکہ وہ لوگوں کو ڈرائیں اور کہا کہ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء بھی اس کو پہچانتے ہیں۔

اس سورت میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان ہر جھوٹ بولنے والے بڑے گناہ گار پر نازل ہوتا ہے اور بھٹکے ہوئے شاعروں پر بھی، وہ شعرا جو ہر وقت وہم کی وادیوں میں ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں اور قوتِ عمل سے قاصر صرف باتیں بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عملِ صالح کا راستہ اختیار کیا، اللہ ان سے شیاطین کو دور فرمائیں گے۔

سورۃ الشعراء کے بعد سورۃ النمل ہے۔ اس میں اللہ نے حضرت موسیٰ کی نشانیوں کا ذکر کیا جنھیں بے مثال معجزات عطا کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اللہ نے داؤد اور سلیمان علیہما السلام کو علم کی نعمت سے مالامال فرمایا اور ان کو اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اللہ نے جنابِ سلیمان کو علم اور حکومت کے اعتبار سے جنابِ داؤد کا وارث بنایا اور ان کو پرندوں اور جانوروں کی بولیاں سکھائی تھیں اور جنات، انسانوں اور ہواؤں پر حکومت دی تھی۔

ایک بار سلیمان علیہ السلام کا لشکر گزر رہا تھا کہ جناب سلیمان نے دیکھا کہ ایک چیونٹی ملکہ دوسری چیونٹیوں کو کہہ رہی ہے کہ جلدی جلدی بل میں گھسو ایسا نہ ہو کہ سلیمان کا لشکر تمھیں روند ڈالے. جناب سلیمان نے اس کی آواز سنی اور بولی کو سمجھ لیا تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ انھیں کیا کیا نعمتیں عطا فرمائی گئی ہیں.

اس سورت میں اللہ نے جنابِ سلیمان کے دربار کی ایک کیفیت کا بھی ذکر کیا کہ ایک دن آپ نے ہدہد کو غائب پایا تو اس کا نوٹس لیا اور فرمایا کہ اگر ہدہد نے اپنی غیر حاضری کی معقول وجہ بیان نہ کی تو اسے شدید عذاب دیا جائے گا یا ذبح کر دیا جائے گا۔ کچھ دیر بعد ہدہد آیا تو اس نے اپنی کارگزاری سنائی کہ آج دربار کی طرف آتے ہوئے میرا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جہاں کے لوگوں کو اللہ کی بہت سی نعمتیں حاصل ہیں اور ان پر ایک عورت بلقیس حکمران ہے اور قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ سورج کی پوجا کر رہی ہے جب کہ انھیں اللہ کی پوجا کرنی چاہیے۔ جنابِ سلیمان نے اس ملکہ کو خط لکھا۔ جواب میں ملکہ نے تحفے تحائف بھجوائے۔ جنابِ سلیمان نے تحفوں کو دیکھ کر کہا کہ جو کچھ اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے وہ ملکہ کے بھجوائے ہوئے ان تحفوں سے بہت بہتر ہے۔ آپ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو ملکہ کو تخت سمیت میرے دربار میں لے آئے۔ اس پر ایک بڑے جن نے کہا کہ میں دربار کے برخاست ہونے سے پہلے ملکہ کو تخت سمیت یہاں لاسکتا ہوں۔ ایک اور شخص کھڑا ہوا جو کتاب کا علم رکھنے والا اور اللہ کے اسمائے اعظم کا عالم تھا۔ اس نے کہا میں ملکہ کے تخت کو آپ کے پہلو بدلنے سے پہلے حاضر کر دوں گا۔ آنًا فانًا ملکہ بلقیس تخت سمیت وہاں آگئیں۔ جناب سلیمان نے ملکہ کے تخت میں تبدیلی کرکے ان سے پوچھا کیا یہ آپ ہی کا تخت ہے، تو ملکہ نے ہاں میں جواب دیا۔ اس کے بعد جنابِ سلیمان نے ملکہ کو اپنے محل کے ایک خاص حصے میں آنے کی دعوت دی جس کا فرش شیشے کا بنا ہوا تھا لیکن دیکھنے والی آنکھ کو پانی محسوس ہوتا تھا۔ جب ملکہ بلقیس شیشے کے فرش پر سے گزرنے لگیں تو اپنی پنڈلیوں سے کپڑے کو اٹھا لیا تاکہ پوشاک گیلی نہ ہو. جنابِ سلیمان نے کہا کہ یہ پانی نہیں شیشہ ہے۔ اس طرح انھوں نے ملکہ کو جتلایا کہ آپ پانی اور شیشے میں فرق نہیں کر سکیں۔ جنابِ سلیمان اصل میں ملکہ کو باور کرا رہے تھے کہ اسی طرح آپ سورج کی روشنی اور اللہ کے نور میں فرق نہیں کر سکیں چنانچہ سورج کی پوجا کرتی ہیں۔ ملکہ نے فوراً اعلان کیا کہ اے میرے پروردگار میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اور یوں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ دین کی دعوت ہمیشہ حکمت اور دانائی سے دینی چاہیے اور مخاطب کو اپنے ماحول میں لاکر دینی چاہیے۔

اللہ تعالی ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!